ETV Bharat / international

حقیقی اور مکمل معاہدہ ہونے تک امریکی فوج ایران کے ارد گرد ہی رہے گی: ٹرمپ

ایران نے لبنان میں اسرائیلی جارحیت میں اضافے کے بعد ایک مرتبہ پھر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔

جنگ کے خلاف امریکہ کے نیویارک شہر میں مظاہرہ
جنگ کے خلاف امریکہ کے نیویارک شہر میں مظاہرہ (AP)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : April 9, 2026 at 11:33 AM IST

|

Updated : April 9, 2026 at 12:43 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

واشنگٹن: ایران-امریکہ نے پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے لیے رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔ جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک اپنی اپنی فتح کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے بیچ مستقل جنگ بندی کے لیے امریکہ کے پندرہ نکاتی منصوبے کے علاوہ ایران کے دس نکاتی منصوبے پر بھی بات چیت ہوگی۔ اسی دوران لبنان کے جنگ بندی معاہدے میں شامل ہونے کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان کے شہروں میں خونریز حملے جاری ہیں جس میں سینکڑوں لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے، ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ لبنان پر اسرائیلی حملوں کے چلتے اب ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے۔ ایسے میں اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ، جب تک ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی جامع معاہدہ طئے نہیں پا جاتا امریکی افواج ایران کے ارد گرد ہی موجود رہیں گی۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج ایران اور اس کے ارد گرد موجود رہے گی جب تک کہ 'حقیقی معاہدے' کی 'مکمل تعمیل' نہیں ہو جاتی۔ اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں، امریکی صدر نے کہا کہ اس میں "امریکی بحری جہاز، ہوائی جہاز، اور فوجی عملہ، اضافی گولہ بارود، ہتھیار، اور ہر وہ چیز شامل ہو گی جو پہلے سے کافی حد تک کمزور ہو چکے دشمن کے خلاف جان لیوا حملے اور اسے تباہ کرنے کے لیے مناسب اور ضروری ہو"۔

ٹرمپ نے کہا کہ اس کا "انتہائی امکان نہیں" ہے کہ معاہدے پر عمل نہیں کیا جائے گا، لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ اگر "کسی وجہ سے ایسا نہیں ہوتا ہے"، تو "حملے' شروع ہو جائیں گے جو پہلے سے بڑے، خطرناک اور پہلے سے زیادہ مضبوط ہوں گے جو اس سے قبل کسی نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔"

انھوں نے اپنی پوسٹ کا اختتام کرتے ہوئے لکھا کہ، اس دوران ہماری عظیم فوج لوڈ ہو رہی ہے اور آرام کر رہی ہے، درحقیقت، اپنی اگلی فتح کا انتظار کر رہی ہے۔ امریکہ واپس آ گیا ہے!”

اسی دوران عرب ممالک سمیت دنیا بھر میں لبنان پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی جارہی ہے۔

لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر نیویارک میں مقیم ایک تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ میں عارضی جنگ بندی "تباہ ہونے کے دہانے پر پہنچ رہی ہے۔"

صوفان سینٹر نے کہا کہ بدھ کو لبنان پر اسرائیلی حملوں سے معاہدہ ٹوٹنے کا خطرہ ہے۔

جمعرات کو شائع ہونے والے ایک تجزیے میں صوفان سینٹر نے لکھا، "اسرائیل کے حملوں کو ایران اور اس کے پراکسیوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کے طور پر اور جنگ بندی کے اصل مباحثوں میں مبینہ طور پر نظرانداز کیے جانے کے ردعمل کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔"

ایران کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی جنگ کا خاتمہ امریکہ کے ساتھ جنگ ​​بندی معاہدے کا حصہ تھا لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو اور ٹرمپ نے کہا کہ اس جنگ بندی میں لبنان کا احاطہ نہیں کیا گیا اور وہاں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس، 10 اپریل سے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ثالثی مذاکرات کے لیے پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ وینس نے ہنگری کا دورہ ختم کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ "ہم اس بات کا ثبوت دیکھ رہے ہیں کہ چیزیں درست سمت میں جا رہی ہیں، لیکن اس میں تھوڑا وقت لگے گا۔"

ایرانی مذاکراتی ٹیم آج رات اسلام آباد پہنچ رہی ہے:

ایرانی سفیر نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایران کی مذاکراتی ٹیم جمعرات کی رات اسلام آباد پہنچے گی۔ رضا امیری موغادم نے ایکس پر یہ پوسٹ کے ذریعہ یہ جانکاری دی۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ مذاکراتی ٹیم میں کون کون شامل ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ "ایرانی وفد ایران کی طرف سے تجویز کردہ 10 نکات پر مبنی سنجیدہ مذاکرات کے لیے آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔"

ان نکات میں ایران کا یورینیم کی افزودگی، آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا اور دیگر امور شامل ہیں جو ماضی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نان اسٹارٹر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے بارہا ایران کی طرف سے جاری کردہ 10 نکات کو غلط قرار دیا ہے۔

موغادم نے لکھا کہ ایرانی "سفارتی اقدام کو سبوتاژ کرنے کے لیے اسرائیلی حکومت کی جانب سے بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باوجود ایرانی وفد اسلام آباد آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

Last Updated : April 9, 2026 at 12:43 PM IST