ٹرمپ کا ایران پر نیا معاشی وار، مزید اقتصادی پابندیاں عائد
آبنائے ہرمز کی بندش، بڑھتی توانائی قیمتوں اور جنگی کشیدگی کے درمیان امریکہ نے ایران پر نئی سخت پابندیاں عائد کیں۔

Published : May 28, 2026 at 7:17 AM IST
واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ کے روز ایران پر مزید پابندیاں عائد کر دیں۔ یہ اقدام جنگ کے دوران ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی وسیع مہم کا ایک حصہ ہے۔ اس بار پابندیوں کا نشانہ ایران کا نیا قائم کیا گیا ادارہ بنا ہے، جو آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس کی خبر ایسوسی ایٹڈ پریس نے دی۔
یہ اقدام ایران کو جنگ ختم کرنے اور اس اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولنے پر مجبور کرنے کی امریکی کوششوں کا تازہ حصہ ہے۔ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور قدرتی گیس عام طور پر اسی راستے سے گزرتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ معاہدہ قریب ہے، تاہم مذاکرات ابھی جاری ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور دیگر اخراجات نے ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی پر سیاسی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، خاص طور پر وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے قبل۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے بیان میں کہا: ’’ایرانی فوج کی عالمی بحری تجارت سے بھتہ وصول کرنے کی تازہ کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشی دباؤ نے ایرانی حکومت کو مالی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔‘‘
پابندیاں ایران کی "پرسین گلف اسٹریٹ اتھارٹی" اور اس ادارے کے ساتھ تعاون کرنے والے تمام افراد اور اداروں پر عائد کی گئی ہیں۔ یہ ادارہ رواں ماہ قائم کیا گیا تھا۔ اس کا کام آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو اجازت دینا اور ان سے فیس وصول کرنا ہے، جو ایک جہاز پر 20 لاکھ ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
ایران کی طاقتور نیم فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب نے اس نگرانی کے نظام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کا واحد راستہ وہی ہے جو اس نے مقرر کیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ مقررہ راستے سے ہٹنے والے جہازوں کو حملوں اور دیگر خطرات کا سامنا کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت نے دنیا بھر میں توانائی کے بحران کو جنم دیا ہے۔ یہ صورتحال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے بعد پیدا ہوئی۔ تیل، گیس اور دیگر متعلقہ مصنوعات کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق بحری راستہ کھلنے کے بعد بھی قیمتوں اور بحری تجارت کو معمول پر آنے میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ نے ایک ماہ سے زائد عرصے سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ ناکہ بندی اس وقت تک پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گی جب تک کوئی معاہدہ طے پا کر اس کی توثیق اور دستخط نہیں ہو جاتے۔
تازہ معاشی پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی برسوں کی شدید ترین سفارتی سرگرمیاں اور مذاکرات جاری ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور دونوں دیرینہ حریف ممالک کے درمیان مسائل کا مستقل حل تلاش کرنا ہے۔
ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ ایران "’انتہائی دباؤ میں مذاکرات کر رہا ہے‘" اور فریقین معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت آیا جب امریکی فوج نے کہا کہ اس نے "دفاعی کارروائی" میں ایرانی میزائل لانچنگ مقامات اور بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں پر حملے کیے۔ بعد ازاں امریکی حکام کے مطابق امریکی افواج نے ایرانی حملہ آور ڈرون مار گرانے کے بعد ایران کے ایک فوجی مرکز پر مزید دفاعی حملے بھی کیے۔
ٹرمپ نے کابینہ اجلاس کے دوران کہا، "وہ بہت زیادہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ابھی تک بات نہیں بنی۔ ہم اس سے مطمئن نہیں، مگر ہو جائیں گے، ورنہ ہمیں کام مکمل کرنا پڑے گا۔"
ریپبلکن صدر نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو لڑائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، تاہم گزشتہ چند مہینوں میں وہ کئی بار ایسے بیانات سے پیچھے بھی ہٹتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
ایران کے افزودہ یورینیم کو امریکہ یا کسی اور مقام پر تباہ کیا جا سکتا ہے: ٹرمپ

