ETV Bharat / international

امریکی فوج کا ایران میں 10 اہداف پر حملوں کا دعویٰ، تہران نے بحرین اور کویت کو بنایا نشانہ

امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز اور اس کے قریب مقامات پر 10 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج کا آبنائے ہرمز کے آس پاس ایران کے 10 اہداف پر حملوں کا دعویٰ
امریکی فوج کا آبنائے ہرمز کے آس پاس ایران کے 10 اہداف پر حملوں کا دعویٰ (AP)
author img

By AP (Associated Press)

Published : June 28, 2026 at 7:38 AM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

دبئی: (متحدہ عرب امارات) امریکی فوج نے سنیچر کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کا دوسرا دور شروع کیا جب کہ تہران نے بحرین اور کویت میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں ہوا جنگ کا عبوری معاہدہ خطرے میں ہے۔

اس سلسلے میں امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران میں 10 اہداف کو نشانہ بنایا ہے، حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس نے تہران اور واشنگٹن کے بیچ ہوئی نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ سنیچر کی صبح ایک تجارتی جہاز پر حملے کے بعد امریکی فوجی طیاروں نے ایرانی فوجی "نگرانی کے بنیادی ڈھانچے، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی مقامات، ڈرون ذخیرہ کرنے کی سہولیات، اور بارودی سرنگ کی صلاحیتوں" کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں امریکی فوج نے ایک اور بیان میں وضاحت کی کہ ان حملوں میں آبنائے ہرمز اور اس کے قریب مقامات پر 10 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے پر اتفاق کرنے کے لیے ایک عبوری معاہدے تک پہنچنے کے بعد بھی خلیج فارس میں جاری حملوں کی وجہ سے ایران جنگ کے دوبارہ قابو سے باہر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر ایرانی میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات اور ساحلی راڈار سائٹس پر حملہ کیا ہے! انہوں نے ایک ایسی صورت حال کے بارے میں خبردار کیا جہاں امریکہ معقولیت کو درکنار کر کے عسکری طور پر کام ختم کرنے پر مجبور ہوگا۔" اسی کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ''اگر ایسا ہوا تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا!'' ٹرمپ نے سوشل ٹروتھ پر لکھا۔

تازہ حملے گذشتہ روز ہوئے واقعات کے بعد ہوئے ہیں جب جمعرات کو ایک ایرانی ڈرون نے عمان کے ساحل پر ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا اور اگلے دن امریکی فوج نے جوابی کارروائی کی۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کا جواب تھا۔

متعلقہ خبر: امریکہ کا ایران پر حملہ، ڈرون اسٹوریج مقامات اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا، ایران کی جوابی کارروائی

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ اس تازہ حملے میں ایرانی فورسز نے آئل ٹینکر کیکو پر یکطرفہ ڈرون سے حملہ کیا۔ یہ ٹینکر بیس لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل سے لدا ہوا تھا اور آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔

جہاز سے باخبر رہنے والی ویب سائٹس کے مطابق، کیکو نے سنیچر کے شروع میں خلیج فارس کے وسط میں ایک قطری آئل فیلڈ سے روانہ ہوا اور وہ متحدہ عرب امارات کی ایک بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا جو آبنائے ہرمز کے بالکل دوسری طرف خلیج امان پر واقع ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک ایسے راستے کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو عمان کے ساحل کے قریب قائم کیا گیا تھا جو ایران کی طرف سے منظور شدہ راستے کے متبادل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ہرمز کبھی بھی جنگ سے پہلے کی حالت میں واپس نہیں آئے گا: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر

امریکی فوج نے کہا کہ "ایران کے پاس جنگ بندی کے معاہدے کا احترام کرنے کا موقع تھا" لیکن جب اس کی افواج نے کیکو پر حملہ کیا تو اس نے معاہدے کا احترام "نہ کرنے کا انتخاب کیا"۔

وہیں ایران کے پاسداران انقلاب نے اس سے قبل سرکاری ارنا نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اس نے "خطے میں امریکی دہشت گرد فوج کے متعدد مقامات" کو نشانہ بنایا، تاہم اس کی وضاحت نہیں کی کہ کن علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

دریں اثنا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے واسنگٹن کی طرف سے ایران کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کی ہے، نے جمعے کی رات سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر جنگ بندی معاہدے کے بارے میں اختلاف ہے تو ایران کو "فون اٹھانا چاہیے۔" اسی کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ تشدد کا مقابلہ تشدد سے کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ عبوری معاہدے کے تحت، دونوں فریقوں کے پاس حتمی معاہدے کی تفصیلات پر کام کرنے کے لیے 60 دن ہیں۔ اسرائیل اور ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ عسکریت پسند گروپ کے درمیان لبنان میں لڑائی کا خاتمہ اس معاہدے کا ایک اہم حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

بھارتی شہری ایران کا سفر نہ کریں، ہندوستانی سفارت خانے نے نئی ایڈوائزری جاری کردی

امریکی کانگریس میں ایران کے خلاف ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی قرارداد منظور

ایران کا عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو تباہ شدہ جوہری پلانٹس کے معائنے کی اجازت دینے سے انکار

امید ہے امریکہ-ایران معاہدہ طویل المدتی معاہدہ بن جائے گا، شہباز شریف