ETV Bharat / international

ایران جنگ: ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملہ، ایران نے دبئی میں امریکی فوج کو نشانہ بنایا

سعودی عرب کی وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے پر دو ڈرونز سے حملہ کیا گیا۔

A building which was damaged in the strike that struck a police station during the ongoing joint U.S.-Israeli military campaign is seen, in Tehran, Iran, Monday
امریکہ اور اسرائیل کی جاری مشترکہ فوجی مہم کے دوران پیر کو تہران میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملے کے بعد کا منظر (AP)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : March 3, 2026 at 8:36 AM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

ریاض: امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ چوتھے دن میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی و اسرائیلی افواج دار الحکومت تہران اور دیگر شہروں پر مسلسل بمباری کر رہی ہیں۔ ایران بھی جوابی حملے کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق منگل کی رات سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملہ ہوا۔ حملے کے بعد سفارت خانے کے احاطے میں آگ لگ گئی اور دھماکے کی آواز سنی گئی۔ حالانکہ اس حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

امریکی سفارت خانے پر حملے کے بعد ریاض میں مزید دو دھماکے ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے ریاض کے سفارتی کوارٹر میں دو نئے دھماکوں کی اطلاع دی۔

میڈیا رپورٹس میں امریکی محکمہ خارجہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ سفارت خانے پر دو ڈرونز سے حملہ کیا گیا، جو عمارت کی چھت اور احاطے سے ٹکرائے۔ شبہ ہے کہ یہ ایرانی ڈرون تھے۔ ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

سعودی عرب کی وزارت دفاع نے سوشل میڈیا ایکس پر شیئر کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ریاض میں موجود امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملوں کے نیتجے میں "محدود پیمانے پر آگ لگ گئی اور عمارت کو معمولی نقصان پہنچا"۔

امریکی سفارت خانے پر حملے کے بعد ٹرمپ کا رد عمل

ان حملوں پر رد عمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی نمائندہ کیلی میئر نے کہا کہ ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے پر اپنے پہلے ردِ عمل میں صدر ٹرمپ نے مجھ سے کہا کہ ’’آپ کو جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ امریکہ کا جوابی اقدام کیا ہوگا۔''

دریں اثنا سعودی عرب میں امریکی مشن نے جدہ، ریاض اور ظہران میں اپنے شہریوں اور سفارتی عملے کو محفوظ مقامات پر پناہ گاہ لینے کی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ امریکی مشن کہا کہ خطے میں کسی بھی فوجی تنصیبات تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

امریکی شہریوں کو 12 ممالک سے فوراً نکلنے کا مشورہ

امریکہ نے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے 12 سے زیادہ ممالک فوری طور پر چھوڑ دیں۔ امریکہ نے ایک ایڈوائزری جاری کر کے امریکی شہریوں سے کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے ایک درجن سے زائد ممالک سے "سنگین حفاظتی خطرات" کی وجہ سے "ابھی نکل جائیں" کیونکہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مربوط فضائی حملوں اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کے خلاف تہران کے جوابی حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں ایک ویڈیو پیغام شیئر کرتے ہوئے سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے "سنگین حفاظتی خطرات" کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک سے فوری طور پر نکل جائیں۔ "مشرق وسطی میں تمام امریکی شہریوں کے لیے: آپ کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس لیے وہاں سے فوراً نکلنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

ایران کا دبئی میں امریکی افواج پر حملے کا دعویٰ

دریں اثنا، ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس کی بحریہ نے دبئی، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں امریکی افواج کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑا ڈرون اور میزائل حملہ کیا۔ آئی آر جی سی نے کویت میں عارفجان بیس پر ڈرون حملے کا دعویٰ بھی کیا۔

تہران میں مسلسل دھماکے

اطلاعات کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے تیز رفتار حملوں کے باعث تہران میں آدھی رات سے مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ بمباری نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ آئی آر آئی بی کے سرکاری ٹیلی ویژن کمپلیکس پر بھی بمباری کی گئی، حالانکہ ٹیلی ویژن کی نشریات اب بھی جاری ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق ایران کی ایکسپیڈینسی کونسل سے تعلق رکھنے والی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید پڑھیں:

سٹارمر نے ایران پر امریکی حملوں میں برطانیہ کے شامل نہ ہونے کے فیصلے کا دفاع کیا

خامنہ ای کی موت کے بعد ایک بکھرا ہوا ایران متحد ہو رہا ہے! اب پڑوسی مسلم ممالک کی حکمت عملی کیا ہوگی؟

ایران جنگ مشرق وسطیٰ تک پھیلنے سے بھارتی تارکین وطن کو سلامتی کے خدشات

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق خامنہ ای کی اہلیہ انتقال کر گئیں، اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے کے بعد زیر علاج تھیں