امریکہ ایران جوہری مذاکرات 26 فروری کو جنیوا میں ہوں گے، عمان کے وزیر خارجہ کی تصدیق
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت عروج پر ہے۔ تاہم مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

By ANI
Published : February 23, 2026 at 7:49 AM IST
مسقط: امریکہ اور ایران کے درمیان نئے مذاکرات جمعرات کو جنیوا میں ہوں گے۔ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بیچ مذاکرات کے اگلے دور کی تصدیق کی۔ بدر البوسعیدی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "یہ تصدیق کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ امریکہ ایران کے بیچ اگلی بات چیت اب آنے والی جمعرات کو جنیوا میں ہو گی۔ ان مذاکرات میں معاہدے کو فائنل کرنے کی سمت میں آگے بڑھنے کی ایک مثبت کوشش ہو گی۔"
Pleased to confirm US-Iran negotiations are now set for Geneva this Thursday, with a positive push to go the extra mile towards finalizing the deal.
— Badr Albusaidi - بدر البوسعيدي (@badralbusaidi) February 22, 2026
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو مضبوط بنا رہا ہے، جس سے ایران کے ساتھ بڑے تنازع کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے اطلاع دی ہے کہ پینٹاگون حکام کی جانکاری کے مطابق قطر کے العدید بیس سے سینکڑوں فوجیوں کو کہیں اور منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح کی اسٹریٹجک تبدیلیاں بحرین میں امریکی تنصیبات کے نیٹ ورک میں دیکھی گئی ہیں، جو بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر ہے۔ اس معاملے پر فوجی ماہرین نے ممکنہ حملے کا مضبوط اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بار کا حملہ جون 2025 میں ہوئی جھڑپ اور العدید پر ہونے والے حملے سے بہت مختلف ہوگی، جس کے دوران ایرانی حکام نے امریکہ کو پیشگی معلومات فراہم کی تھیں۔ یروشلم پوسٹ نے اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کی طرف سے سخت انتباہ کو اجاگر کیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ، امریکی حملے کی صورت میں "خطے میں دشمن کے تمام فوجی اڈے، تنصیبات اور اثاثے جائز اہداف ہوں گے۔"
ان خطرات کی روشنی میں مبینہ طور پر امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی افواج اور مفادات کے تحفظ کے لیے فضائی دفاعی نظام لگا کر خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے۔ دفاعی کمک کے ساتھ دو طیارہ بردار بحری جہازوں کو ایرانی سرزمین سے مناسب فاصلے پر تعینات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ جوابی کارروائی کے لیے آسان ہدف نہ بنیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ 10 سے 15 دنوں کے اندر امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر پہنچ جائے ورنہ یہ ان کے لیے برا ہوگا۔ جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ یا تو ہم معاہدہ کریں گے یا یہ ان کے لیے برا ہو گا۔ اس کے لیے 10-15 دن کا وقت کافی ہو گا۔

