آبنائے ہرمز کھلا رکھنے اور جہازوں پر حملے روکنے کیلئے تہران عوامی بیان جاری کرے، امریکہ کا ایران سے مطالبہ
امریکہ نے ثالثوں کے توسط سے تہران کو پیغام بھیجا ہےکہ وہ سنیچر تک عوامی سطح پر آبنائے ہرمز سے متعلق یہ بیان جاری کرے۔

Published : July 11, 2026 at 9:28 AM IST
واشنگٹن: امریکہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ایران عوامی سطح پر بیان جاری کر کے اعلان کرے کہ آبنائے ہرمز کھلا ہے اور اس اہم راہداری کو عبور کرنے والے بحری جہازوں پر مزید حملہ نہیں کیا جائے گا۔ سینئر امریکی حکام نے جمعے کو کہا کہ تہران میں طاقت کی اندرونی کشمکش نے کسی معاہدے تک پہنچنے اور اسے برقرار رکھنے کو مشکل بنا دیا ہے۔
نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ اس ہفتے حملوں کی بحالی ان حملوں کے بعد ہوئی جسے انہوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والے 'ایرانی سخت گیر دھڑے' کی کوشش کے طور پر بیان کیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو سوشل میڈیا پر اس بات کو دہرایا کہ عبوری جنگ بندی کا معاہدہ "ختم" ہو چکا ہے۔ تاہم اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ امریکہ جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے مقصد سے بات چیت جاری رکھے گا۔
حکام نے جمعے کو کہا کہ ٹرمپ امریکی مذاکرات کاروں کو ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے محدود وقت دے رہے ہیں، لیکن، آنے والے چیلنجز کے پیش نظر انہوں اس بات پر زور دیا کہ اگر بات چیت ناکام ہو جاتی ہے تو صدر کے پاس وسیع اختیارات موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے آغاز میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے دیرینہ رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران میں طاقت کی کشمکش شروع ہو گئی۔
امریکی حکام نے کہا کہ امریکہ ایران پر یہ عوامی بیان دینے کے لیے دباؤ ڈالنے پر کام کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز، جو کہ عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے، بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلا اور آزاد ہے۔
مزید پڑھیں: تہران کی 'کِل لسٹ' میں ٹرمپ پہلے نمبر پر! امریکی صدر نے کہا، اگر میرا قتل ہوا تو ایران میں تباہی مچ جائے گی
صحافیوں کے ساتھ ایک کال پر حکام نے دعویٰ کیا کہ ایران میں رہنماؤں نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو یہاں تک کہہ دیا کہ جہاز پر حملہ ایک غلطی تھی اور ملک اس کے باوجود مذاکرات جاری رکھنے کی امید رکھتا ہے۔
حکام نے کہا کہ ٹرمپ نے اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ بحری جہازوں پر حملے ایک سخت گیر دھڑے کی طرف سے ہوئی اور اس کا جواب زیادہ طاقتور جوابی حملوں کے ساتھ دیا گیا۔ انہوں نے ایران کو یہ پیغام دیا کہ اس بات سے قطع نظر کہ اس کے پیچھے کون ہے، اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔
ایران ہرمز کو صرف اپنے کنٹرول رکھنے کا خواہاں
لیکن امریکی حکام کے بات کرنے سے چند لمحے قبل، اقوام متحدہ میں تہران کے سفارت کار نے صحافیوں کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کھولنے سے لے کر مائنزنگ تک، اس میں کوئی بھی سرگرمی "صرف ایران کے کنٹرول ہے۔"
سفیر عامر سعید اروانی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے باہر کہا کہ "بیرونی طاقتوں کی طرف سے مداخلت یا نیا انتظام کرنے کی کوئی بھی کوشش (عبوری معاہدے) کی خلاف ورزی ہو گی، اور اس کے نفاذ کو نقصان پہنچائے گی۔ اس سے عام تجارتی نیویگیشن کی بحالی میں تاخیر ہو گی، سمندری حفاظت خطرے میں پڑے گی، اور اس سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔" سفیر عامر سعید اروانی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے باہر یہ بیان دیا۔
ایران نے کہا کہ آبنائے اب اس کے مکمل کنٹرول میں ہونا چاہیے اور بحری جہاز تہران کو فیس ادا کرنا شروع کر دیں۔ تاہم دنیا کئی دہائیوں سے اسے بین الاقوامی آبی گزرگاہ سمجھتی رہی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا بھر کے تیل اور قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے سے گزرتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کئی روزہ سرکاری تقاریب کے بعد مشہد میں سپرد خاک
تنازع کے دوران آبنائے پر ایران کی گرفت نے توانائی کے عالمی بحران کو جنم دیا، حالانکہ جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح سے تیزی سے نیچے گر گئیں۔
معاہدے کیلئے ایران کو افزودہ مواد واپس کرنے کی ضرورت ہوگی: امریکہ
امریکی حکام نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر کسی بھی معاہدے کے لیے تہران کو انتہائی افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے کو امریکہ کے حوالے کرنے کی ضرورت ہوگی۔ حکام کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ اپنے جوہری مواد کو واپس کرنے کے لیے کسی معاہدے پر نہیں پہنچتا ہے، تو اس کے پاس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوجی آپشنز موجود ہیں کہ وہ ہمیشہ کے لیے زیر زمین دفن رہے۔ انہوں نے ان آپشنز کی تفصیل نہیں بتائی۔
انتہائی افزودہ مواد جو ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، خیال کیا جاتا ہے کہ گزشتہ موسم گرما میں امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے حملوں کے بعد اسے کسی مقام پر زیر زمین دفن کر دیا گیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
مزید پڑھیں: ایران-امریکہ جنگ بندی معاہدہ ختم، ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا
امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر ایران عبوری جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی پابندی نہیں کرتا اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر نئے حملے بند نہیں کرتا تو وہ اہران کے ساتھ کبھی بھی جوہری معاہدے تک نہیں پہنچ پائیں گے۔
یہ جدوجہد ان طویل المدتی چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہے جن کا سامنا ٹرمپ انتظامیہ کو اس جنگ کے تناظر میں کرنا ہے جو اس نے مہینوں پہلے شروع کی تھی اور اس کے جلد ختم ہونے کی توقع تھی۔ ٹرمپ نے فروری کے آخر میں ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت ختم کر دی اور فوجی مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ کارروائی اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ تہران اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

