وینزویلا پر امریکی حملے اور مادورو کی 'گرفتاری' پر شدید رد عمل، کملا ہیرس اور ممدانی ٹرمپ پر برس پڑے
نکولس مادورو کو 'گرفتاری' کے بعد نیویارک ڈیٹنشن سینٹر منتقل کر دیا گیا۔ وہیں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وینزویلا کو امریکہ چلائے گا۔۔

Published : January 4, 2026 at 12:24 PM IST
|Updated : January 4, 2026 at 2:12 PM IST
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز بتایا کہ امریکی افواج نے جنوبی امریکی ملک وینزویلا پر بڑے پیمانے پر عسکری حملوں کے بعد صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے اعلان کیا کہ اقتدار کی محفوظ اور منصفانہ منتقلی تک وینزویلا کو امریکہ چلائے گا۔
مادورو کی بے دخلی کے آپریشن کے بعد ٹرمپ نے نہ صرف وینزویلا کو 'چلانے' کا اعلان کیا بلکہ اس کے تیل کے ذخائر کو استعمال کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ مادورو کی گرفتاری کے چند گھنٹے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو "ٹھیک" کرنے اور دوسرے ممالک کو "بڑی مقدار میں" تیل فروخت کرنے کے کے اپنے منصوبوں کا انکشاف کیا۔
اس قبل ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ "ریاستہائے متحدہ امریکہ نے وینزویلا اور اس کے رہنما، صدر نکولس مادورو کے خلاف کامیابی کے ساتھ ایک بڑی کارروائی انجام دی، جو اپنی اہلیہ کے ساتھ پکڑے گئے اور ملک سے باہر منتقل کر دیے گیے۔"
مادورو کو 'گرفتاری' کے بعد نیویارک منتقل کر دیا گیا
Perp walked.pic.twitter.com/34iIsFUDdG
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) January 4, 2026
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو سنیچر کی شام کاراکس میں گرفتار کیے جانے کے بعد امریکہ کے ایک فوجی اڈے پر لائے گئے اور وہاں سے امریکی افواج کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد انہیں نیویارک شہر منتقل کر دیا گیا۔
اس کے بعد بائیں بازو کے رہنما کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہٹن لے جایا گیا، جہاں قانون نافذ کرنے والے ایک بڑے دستے کا انتظار تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق، 63 سالہ رہنما کو پہلے امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے دفاتر، پھر بروکلین میں واقع میٹروپولیٹن حراستی مرکز لے جایا گیا۔
مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک میں ایک جج کے سامنے غیر متعینہ تاریخ پر پیش کیا جانا ہے۔ ان پر 'منشیات کی اسمگلنگ اور منشیات سے منتعلق دہشت گردی' سمیت غیر قانونی ہتھیار رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
حملہ منشیات یا جمہوریت کے لیے نہیں بلکہ تیل کیلئے: کملا ہیرس
سابق نائب امریکی صدر کملا ہیرس نے امریکی صدر ٹرمپ انتظامیہ کے وینزویلا پر حملے کی شدید مخالفت کی ہے۔ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ "وینزویلا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات امریکہ کو محفوظ، مضبوط یا سستا نہیں بناتے۔ مادورو ایک بے رحم، غیر قانونی ڈکٹیٹر ہیں، اس سے یہ حقیقت نہیں بدلتی کہ یہ حملہ غیر قانونی اور احمقانہ تھا۔'
Donald Trump’s actions in Venezuela do not make America safer, stronger, or more affordable.
— Kamala Harris (@KamalaHarris) January 4, 2026
That Maduro is a brutal, illegitimate dictator does not change the fact that this action was both unlawful and unwise. We’ve seen this movie before. Wars for regime change or oil that…
اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ 'یہ منشیات یا جمہوریت کے بارے میں نہیں ہے بلکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی علاقائی پاور ہاؤس بننے کی خواہش ہے۔' انہوں نے الزام عائد کیا کہ صدر فوجیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، اربوں خرچ کر رہے ہیں، خطے کو غیر مستحکم کر رہے ہیں اور ایسا کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی قانونی اختیار نہیں ہے، کوئی ایگزٹ پلان نہیں ہے، اور اس اقدام کا امریکہ کے لیے کوئی فائدہ نہیں ہے۔'
کسی خودمختار ملک پر حملہ کرنا جنگی اقدام: ممدانی
نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست بات کی۔ انہوں نے کہا کہ وینزویلا ایک خودمختار ملک ہے اور امریکہ کے حملے جنگی اقدام ہیں۔ مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس اس وقت نیویارک کے جنوبی ضلع میں قید میں ہیں۔ ممدانی نے کہا کہ وہ اس اقدام کی مخالفت کرتے ہیں۔
I was briefed this morning on the U.S. military capture of Venezuelan President Nicolás Maduro and his wife, as well as their planned imprisonment in federal custody here in New York City.
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) January 3, 2026
Unilaterally attacking a sovereign nation is an act of war and a violation of federal and…
یو این نے مادورو کی گرفتاری کو خطرناک نظیر قرار دیا
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے وینزویلا اور اس کے صدر نکولس مادورو کے خلاف امریکی اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت نے "خطرناک مثال" قائم کی ہے۔ سکریٹری جنرل کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گوٹیریس "وینزویلا میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر گہری تشویش کے شکار ہیں۔ امریکی فوجی کارروائی کے خطے میں ممکنہ طور پر تشویشناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔"
Just got off the phone with @SecRubio
— Mike Lee (@BasedMikeLee) January 3, 2026
He informed me that Nicolás Maduro has been arrested by U.S. personnel to stand trial on criminal charges in the United States, and that the kinetic action we saw tonight was deployed to protect and defend those executing the arrest warrant… https://t.co/lXCxhPoKSZ
گوٹیرس نے کہا کہ وینزویلا کی صورت حال سے ہٹ کر "ان پیش رفت نے ایک خطرناک مثال قائم کی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ بین الاقوامی قانون کا احترام نہیں کیا گیا ہے۔
وینزویلا میں احتجاج شروع
وینزویلا پر امریکی حملے اور صدر مادورو کی گرفتاری کے بعد ملک کے بعض علاقوں میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔ تاہم، امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وینزویلا کے کئی حصوں میں لوگوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی اقدام کا خیرمقدم بھی کیا۔
Nicolas Maduro and his wife, Cilia Flores, have been indicted in the Southern District of New York. Nicolas Maduro has been charged with Narco-Terrorism Conspiracy, Cocaine Importation Conspiracy, Possession of Machineguns and Destructive Devices, and Conspiracy to Possess…
— Attorney General Pamela Bondi (@AGPamBondi) January 3, 2026
وینزویلا پر امریکی حملے میں 40 افراد ہلاک
نیویارک ٹائمز کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو "اغوا" کرنے کے لیے امریکی فوج کے حملے میں شہریوں اور فوجیوں سمیت کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے۔ وینزویلا کے ایک سینئر اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، رپورٹ میں کہا گیا، ’’اس حملے میں عام شہریوں اور فوجیوں سمیت کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے‘‘۔
امریکی حکام نے اخبار کو بتایا کہ اس حملے میں ایک بڑے پیمانے پر فضائی بمباری شامل تھی جس کا مقصد زمینی افواج کی تعیناتی سے پہلے وینزویلا کے فضائی دفاع کو غیر فعال کرنا تھا۔ امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا، "150 سے زائد امریکی طیارے فضائی دفاع کو تباہ کرنے کے لیے روانہ کیے گئے تاکہ فوجی ہیلی کاپٹر ان فوجیوں کو پہنچا سکیں جنیں مادورو کی رہائش گاہ پر حملہ کرنا تھا۔" وہیں ہلاکتوں کے اعداد و شمار کے بارے میں وائٹ ہاؤس یا پینٹاگون کی جانب سے فوری طور پر کوئی عوامی تصدیق نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیں: روس کی امریکہ سے مادورو کو رہا کرنے کی اپیل، بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کی تاکید

