ETV Bharat / international

یو این سکیورٹی کونسل نے غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کو منظوری دے دی

حماس نے اس قرار داد کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلسطینیوں کے "سیاسی اور انسانی مطالبات اور حقوق" کو پورا نہیں کرتی۔

غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس میں ایک فلسطینی شخص کوڑے سے کچھ چیزیں اٹھاتے ہوئے
غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس میں ایک فلسطینی شخص کوڑے سے کچھ چیزیں اٹھاتے ہوئے (File Photo : AP)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : November 18, 2025 at 7:45 AM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو تقویت دینے والی امریکی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جس میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کا راستہ شامل ہے۔

15 رکنی سلامتی کونسل میں سے 13 ارکان نے امریکی منصوبے کے حق میں ووٹ دیا، جس کا امریکی صدر ٹرمپ نے استقبال کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ منصوبہ "پوری دنیا میں مزید امن" کا باعث بنے گا۔ روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، تاہم انہوں نے اسے ویٹو نہیں کیا۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ "بورڈ آف پیس جس کی سربراہی میں کروں گا، کو تسلیم کیا جانا اور اس کی توثیق کیا جانا اقوام متحدہ کی تاریخ کی سب سے بڑی منظوری کے طور پر درج جائے گا اور یہ پوری دنیا میں مزید امن کا باعث بنے گا۔"

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے ووٹنگ کے بعد کہا کہ "آج کی قرارداد ایک اور اہم قدم کی نمائندگی کرتی ہے جو غزہ کو خوشحالی اور ایک ایسا ماحول فراہم کرے گی جو اسرائیل کو سلامتی کے ساتھ رہنے کا موقع دے گا۔"

تاہم حماس، جسے قرارداد کے ذریعے غزہ میں کسی بھی انتظامی کردار سے باہر کر دیا گیا ہے، نے کہا کہ یہ قرارداد فلسطینیوں کے "سیاسی اور انسانی مطالبات اور حقوق" کو پورا نہیں کرتی۔

یہ قرارداد جس میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے نتیجے میں کئی بار نظر ثانی کی گئی، امریکی صدر کے اس منصوبے کی "توثیق" کرتی ہے، جس نے اسرائیل اور حماس کے درمیان 10 اکتوبر کو جنگ زدہ ساحلی پٹی غزہ میں ایک نازک جنگ بندی کی شروعات کی۔ دو سال کی لڑائی کے بعد غزہ کی پٹی بڑی حد تک ملبے میں تبدیل ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ میں بہت جلد بین الاقوامی فورس تعینات کی جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ

یہ امن منصوبہ ایک بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کے قیام کی اجازت دیتا ہے جو اسرائیل اور مصر اور نئی تربیت یافتہ فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے اور غزہ کی پٹی کو غیر فوجی خطہ بنانے میں مدد فراہم کرے گی۔

آئی ایس ایف کو "غیر ریاستی مسلح گروہوں سے ہتھیاروں کے مستقل خاتمے،" شہریوں کی حفاظت اور انسانی امداد کے راستوں کو محفوظ بنانے پر کام کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔

فلسطینی ریاست کا راستہ

یہ منصوبہ ایک "بورڈ آف پیس" کی تشکیل دینے کی بھی اجازت فراہم کرتا ہے، جو غزہ کے لیے ایک عبوری گورننگ باڈی ہوگی جس کی صدارت امریکی صدر ٹرمپ کریں گے۔ اس عبوری گورننگ باڈی کا مینڈیٹ 2027 کے آخر تک جاری رہے گا۔ متضاد زبان میں قرارداد میں مستقبل میں ممکنہ فلسطینی ریاست کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

متن میں کہا گیا ہے کہ ایک بار جب فلسطینی اتھارٹی اصلاحات مکمل کر لے گی اور غزہ کی تعمیر نو کا کام جاری ہوگا، "فلسطینی خود ارادیت اور ریاستی حیثیت کی سمت میں ایک قابل اعتبار راستے کے لیے حالات بالآخر اپنی سازگار ہو سکتے ہیں۔" حالانکہ اسرائیلی نے فلسطینی ملک کے قیام کے امکان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل انروا کو غزہ میں امداد فراہم کرنے کی اجازت دے: عالمی عدالت انصاف

قرارداد میں اقوام متحدہ، آئی سی آر سی اور ہلال احمر کے ذریعے بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی کو دوبارہ شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر جیمز کریوکی نے کہا کہ "ہمیں اقوام متحدہ کی انسانی کوششوں کی حمایت کے لیے اپنے کام کو بھی کافی حد تک تیز کرنا چاہیے۔ اس کے لیے تمام کراسنگ کھولنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ امدادی ایجنسیاں اور بین الاقوامی این جی اوز بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر سکیں"۔

اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے ووٹنگ سے قبل کہا کہ قرارداد "اس بات کو یقینی بنائے گی کہ حماس اسرائیل کے خلاف مزید خطرہ نہیں بنے گی۔"

وہیں امریکی منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے روس نے ایک مسابقتی مسودہ پیش کیا، جس میں کہا گیا کہ امریکی دستاویز فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کے لیے مطلوبہ حد تک نہیں جاتی۔

ماسکو کے مسودے میں کونسل سے کہا گیا کہ وہ "دو ریاستی حل کے وژن کے لیے اپنی غیر متزلزل عزم" کا اظہار کرے۔ ماسکو کے سفیر واسیلی نیبنزیا نے کہا، "عملی طور پر سیکورٹی کونسل کے ارکان کو نیک نیتی سے کام کرنے کے لیے وقت نہیں دیا گیا۔"

"کونسل واشنگٹن کے وعدوں کی بنیاد پر ایک امریکی اقدام کو اپنی منظوری دے رہی ہے، جس سے اسے بورڈ آف پیس کی آر میں غزہ کی پٹی پر مکمل کنٹرول مل گیا ہے۔"

وہیں قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، انڈونیشیا، پاکستان، اردن اور ترکی کے دستخط شدہ متن کی حمایت کا مشترکہ بیان شائع کرتے ہوئے امریکہ نے کئی عرب اور مسلم اکثریتی ممالک کی حمایت حاصل ہونے کا اعلان کیا۔

مزید پڑھیں: دو سال کی تباہ کن جنگ کے بعد غزہ کیسا نظر آرہا ہے، تصویروں سے سمجھیں

غزہ کے بچوں میں اب بھی باقی ہے علم کی حقیقی طلب، تصویروں میں دیکھیں