عرب ممالک اپنی سرزمین پر ایرانی حملوں سے شدید ناراض، کیا جوابی حملہ کریں گے؟ جانیں کس نے کیا کہا
ایران نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی بیسز کو نشانہ بنایا ہے۔

Published : February 28, 2026 at 4:37 PM IST
ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے جواب میں قطر، متحدہ عرب امارات،بحرین کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران نے تصدیق کی ہے کہ اس نے خلیجی خطے میں کچھ مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ جن میں قطر میں العدید ایئر بیس، کویت میں السلیم ایئر بیس، متحدہ عرب امارات میں الظفرا ایئر بیس اور بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کا اڈہ شامل ہیں۔
ایران کی جانب سے قطر میں امریکی بیس کو میزائل کے ذریعہ نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ قطر کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل کو پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم نے ناکارہ بنا دیا ہے۔ تاہم قطر کی دارالحکومت دوحہ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
قطر کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایرانی حملے کے بعد ردعمل کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
قطر نے بیلسٹک میزائلوں سے قطری سرزمین کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ، ایرانی حملے اس کی قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، اس کی سلامتی پر براہ راست حملہ اور خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک ناقابل قبول اضافہ ہے۔
اردن میں واقع امریکی بیس پر ایران نے اپنے میزائل داغ دیے ہیں۔ اردن کی فوج کے مطابق، دو بیلسٹک میزائل اردن کے اوپر مار گرائے گئے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ میزائل کس نے داغے تھے۔
ایران نے متحدہ عرب امارات میں واقع امریکی بیس پر بھی میزائل داغ دی۔متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی۔ ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، ایران سے داغے گئے متعدد میزائلوں کو روکنے کے بعد متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے کہا کہ "یہ حملہ قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے" اور مزید کہا کہ "وہ اس کشیدگی کا جواب دینے کا اپنا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔"
"وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ یہ نشانہ بنانا قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، اور یہ کہ ریاست اس کشیدگی کا جواب دینے اور اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا اپنا پورا حق محفوظ رکھتی ہے،" بیان میں مزید کہا گیا کہ وہ "کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے"۔
بحرین نے تصدیق کی ہے کہ امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹر کو ایران نے میزائل حملے سے نشانہ بنایا ہے۔
بحرین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حملوں میں مقامات اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بحرین نے کہا کہ، ایرانی حملے "مملکت کی خودمختاری اور سلامتی کی کھلی خلاف ورزی ہے"۔
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، اردن اور کویت پر ایرانی حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
سعودی عرب نے "ریاستی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں" کی مسلسل خلاف ورزی پر "سنگین نتائج" سے ایران کو خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

