اسرائیلی وزیر اعظم کی امریکی صدر سے ملاقات، ٹرمپ نے کہا، ایران سے مذاکرات جاری رہنا چاہیے
اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران سے متعلق "مذاکرات کے سلسلے میں اسرائیلی ریاست کی سلامتی پر اصرار کیا۔"

By AFP
Published : February 12, 2026 at 7:56 AM IST
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم کے تہران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے بینجمن نیتن یاہو سے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنی چاہیے
ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ تین گھنٹے کی میٹنگ کے بعد سوشل میڈیا پر لکھا کہ "کوئی حتمی بات نہیں ہوئی، میں نے اصرار کیا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہیں، دیکھا جا رہا ہے کہ کوئی ڈیل ہوتی ہے یا نہیں۔"
"میں وزیر اعظم کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایران سے معاہدہ ترجیح ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو دیکھیں گے کہ مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔" ٹرمپ نے یہ بات ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف گذشتہ سال کے امریکی حملوں کو یاد دلاتے ہوئے کہی۔
اسلامی جمہوریہ کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو کسی بھی معاہدے میں شامل کرنے کے لیے زور دینے کے لیے نیتن یاہو ٹرمپ کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد اپنی ساتویں ملاقات کے لیے واشنگٹن پہنچے۔
نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران سے متعلق "مذاکرات کے سلسلے میں اسرائیلی ریاست کی سلامتی کی ضروریات پر زور دیا"۔
ٹرمپ نے مظاہرین کے خلاف تہران کے مہلک کریک ڈاؤن کے بعد ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے، لیکن ساتھ ہی واشنگٹن اور تہران نے گذشتہ ہفتے عمان میں ہونے والی ملاقات کے ساتھ بات چیت کا دوبارہ آغاز کیا ہے۔
گزشتہ جولائی میں ایران کے ساتھ اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد مذاکرات معطل ہو گئے تھے۔
نیتن یاہو کیا چاہتے ہیں؟
وائٹ ہاؤس کی میٹنگ بند دروازوں کے پیچھے ہوئی۔ نیتن یاہو روایتی گارڈ آف آنر حاصل کیے بغیر ایک داخلی دروازے سے اندر چلے گئے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کی گئی تصویر میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کو مصافحہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
اس سے قبل واشنگٹن روانہ ہوتے وقت نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی بات چیت "سب سے پہلے اور سب سے اہم" ایران مذاکرات کے بارے میں ہو گی، جب کہ وہ غزہ اور دیگر علاقائی مسائل پر بھی بات کریں گے۔
انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ "میں صدر (ٹرمپ) کو مذاکرات کے اصولوں کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کروں گا۔" نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ وہ ایران کے میزائل ہتھیاروں کا معاملہ اٹھائیں گے۔
اسرائیل کے خدشات گذشتہ سال 12 روزہ جنگ کے تلخ تجربے کے نیتجے میں سامنے آئے، جس کے دوران ایران نے اسرائیلی سرزمین پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی بڑی بڑی کھیپ سے فوجی اور شہری دونوں جگہوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
ٹرمپ کیا سوچتے ہیں؟
جوہری معاہدے کی امیدوں کو بڑھاتے ہوئے ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خطرے کو بھی دھمکی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے منگل کو ایک انٹرویو میں متنبہ کیا کہ وہ خطے میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کے بارے میں "سوچ رہے ہیں"۔
ٹرمپ نے کہا کہ یا تو ہم کوئی معاہدہ کریں گے یا ہمیں پچھلی بار کی طرح کچھ بہت سخت کرنا پڑے گا۔ "ہمارا ایک آرمڈا وہاں ہے جب کہ ایک اور جا رہا ہے۔"
ایران کیا کہتا ہے؟
اب تک ایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت کو اپنے جوہری پروگرام تک محدود رکھنے پر اصرار کر رہا ہے جب کہ اس نے اپنے میزائل پروگرام پر بات چیت کو مسترد کر دیا ہے، حالانکہ واشنگٹن بھی تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی عسکریت پسند گروپوں کی حمایت پر بات چیت کرنا چاہتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے بدھ کو کہا کہ تہران اپنے جوہری پروگرام پر "ضرورت سے زیادہ مطالبات کو تسلیم نہیں کرے گا"۔ انہوں نے اصرار کیا کہ ان کا ملک "جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔"
'بورڈ آف پیس' اور مغربی کنارہ
نیتن یاہو کے دورے پر غزہ سے لے کر مغربی کنارے تک دیگر امور بھی زیر غور آئے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے بتایا کہ انہوں نے بدھ کے اوائل میں سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس" کے رکن کے طور پر باضابطہ دستخط کیے تھے۔
اس گروپ کا اصل مقصد غزہ جنگ بندی کی نگرانی کرنا ہے لیکن ٹرمپ اب اسے اقوام متحدہ کے ممکنہ حریف کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی آبادکاروں کو فلسطینی مالکان سے براہ راست زمین خریدنے کی اجازت دے کر مقبوضہ مغربی کنارے کا کنٹرول سخت کرنے کے اسرائیلی اقدامات پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی غم و غصے کے درمیان ہوئی۔
(ایجنسی کی رپورٹ کچھ ترمیم کے ساتھ)
مزید پڑھیں: ایران کی طاقت، پاورفل ممالک سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں مضمر: وزیر خارجہ عراقچی
"ایران سے فوری طور پر انخلاء کریں"، امریکہ نے اپنے شہریوں کو سخت کشیدگی کے درمیان کیا خبردار

