'اگر امریکہ کے ساتھ 'گیم' کھیلنے کی کوشش کی تو پہلے سے زیادہ ٹیرف کا کرنا پڑے گا سامنا: ٹرمپ کا انتباہ
سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود ٹرمپ ٹیرف کو اپنا اصل ہتھیار رکھنے پر بضد ہیں، ٹرمپ نے ٹروتھ پر دی وارننگ۔

Published : February 24, 2026 at 12:56 PM IST
نئی دہلی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو ’مضحکہ خیز‘ اور ’امریکہ مخالف‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو ممالک اس فیصلے کا فائدہ اٹھا کر امریکا کے ساتھ ’گیم‘ کھیلنے کی کوشش کریں گے انہیں پہلے سے زیادہ ٹیرف اور سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ نے یہ انتباہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے دیا۔
ٹرمپ کے نئے ٹیرف کے متبادل کیا ہیں؟
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان ان ممالک کے لیے وارننگ ہے جو امریکہ کے ساتھ تجارت میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اے این آئی نے اپنے ایکس ہینڈل پر ٹرمپ کی پوسٹ بھی شیئر کی ہے۔ جس پر لکھا ہے کہ ’’کوئی بھی ملک جو سپریم کورٹ کے 'مضحکہ خیز' فیصلے سے کھیلنا چاہے گا، خاص طور پر جو لوگ برسوں سے امریکہ کو لوٹ رہے ہیں، انہیں پہلے طے شدہ ٹیرف سے کہیں زیادہ ٹیرف اور اس سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا..."
US President Donald Trump posts - " any country that wants to “play games” with the ridiculous supreme court decision, especially those that have “ripped off” the u.s.a. for years, and even decades, will be met with a much higher tariff, and worse, than that which they just… pic.twitter.com/Miol56TRLJ
— ANI (@ANI) February 23, 2026
کیا ہے معاملہ؟
ٹرمپ کا یہ بیان 20 فروری 2026 کو سپریم کورٹ کے 3-6 اکثریتی فیصلے کے بعد آیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) صدر کو کانگریس کی منظوری کے بغیر بڑے پیمانے پر ٹیرف لگانے کا اختیار نہیں دیتا۔ اس فیصلے نے ٹرمپ کی طرف سے عائد کردہ زیادہ تر "باہمی" اور ہنگامی محصولات کو باطل کر دیا۔
عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ
فیصلے کے چند گھنٹے بعد، ٹرمپ نے ایک الگ قانونی شق (تجارتی ایکٹ کی دفعہ 122) کے تحت تمام ممالک پر 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کر دیا، جسے اگلے دن بڑھا کر 15 فیصد کر دیا گیا۔ یہ زیادہ سے زیادہ حد ہے جو اس قانون کے تحت ممکن ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ عدالت نے دیگر محصولات کی منظوری دے دی ہے اور اب وہ انہیں "زیادہ طاقتور اور سخت" طریقے سے استعمال کریں گے۔
اقتصادی سلامتی یا سفارتی تناؤ؟
اے این آئی کے ایکس ہینڈل پر اس پوسٹ پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ اسے اقتصادی سلامتی کے لیے ایک قدم قرار دے رہے ہیں تو کچھ اسے سفارتی تناؤ میں اضافہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ٹرمپ کی اپنی دوسری اننگز میں تجارتی پالیسی میں ایک اہم موڑ ثابت ہو رہی ہے، جہاں وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود ٹیرف کو اپنے اہم ہتھیار کے طور پر برقرار رکھنے پر بضد ہیں۔

