ETV Bharat / international

امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نئے 10 فیصد عالمی ٹیرف کا اعلان

ٹریژری سکریٹری سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ متبادل طریقے کے نتیجے میں "2026 میں ٹیرف سے ہونے والی آمدنی بغیر تبدیلی کے جاری رہے گی۔"

President Donald Trump speaks during a press briefing at the White House, Friday, Feb. 20, 2026, in Washington.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 فروری 2026 کو وائٹ ہاؤس میں ایک پریس بریفنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے (AP)
author img

By AFP

Published : February 21, 2026 at 7:55 AM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

واشنگٹن: سپریم کورٹ کے فیصلے سے 'مایوس' امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو امریکہ پہنچنے والی تمام ممالک درآمدات پر اضافی 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے اوول آفس میں ٹیرف کے نئے حکمنامے پر دستخط کیے۔ بعد ازاں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ یہ "تقریباً فوری طور پر نافذ العمل ہے۔"

اسی کے ساتھ امریکی صدر نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دینے سے 'انتہائی مایوس' ہیں۔ انھوں نے فیصلہ سنانے والے ججز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'عدالت کے کچھ ارکان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ ملک کے مفاد کے لیے سچ کا ساتھ دے سکیں۔' اسی کے ساتھ انہوں نے فیصلے کے خلاف اختلافی رائے دینے والے تین ججوں کی ستائش بھی کی۔

امریکی صدر نے عدالت عظمیٰ پر 'بیرونی مفادات سے متاثر' ہونے کا الزام عائد کیا۔ ٹرمپ کے مطابق کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہ دوسرے طریقوں سے ٹیرف وصول کرنے کی کوشش کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ عدالت نے ٹیرف کو کالعدم قرار نہیں دیا بلکہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاوورز ایکٹ کے ذریعہ ٹیرف وصول کرنے سے روکا ہے۔ لہٰذا وہ دوسرے طریقوں سے عالمی ٹیرف کا اپنا پلان جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ امریکہ کی سپریم کورٹ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں ٹرمپ کی اقتصادی پالیسی پر سخت سرزنش کرتے ہوئے ان کے بھاری اور صوابدیدی ٹیرف کو ختم کر دیا۔

قدامت پسند اکثریتی سپریم کورٹ نے جمعہ کو چھ اور تین کی اکثریت سے فیصلہ سنایا کہ ٹرمپ نے انفرادی طور پر ملکوں پر اچانک ٹیرف لگانے کے لیے 1977 کے ایک قانون کا سہارا لیا جب کہ یہ قانون "صدر کو ٹیرف لگانے کا اختیار نہیں دیتا ہے۔"

واضح رہے کہ ٹیرف کے خلاف فیصلہ دینے والے چھ ججز میں دو ایسے جج بھی شامل ہیں جنہیں ٹرمپ نے خود نامزد کیا تھا۔ عدالت کے اس فیصلے پر اپنے رد عمل میں ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ 'میں عدالت کے بعض ارکان سے شرمندہ ہوں، بالکل شرمندہ ہوں، جو ہمارے ملک کے لیے صحیح ہے کرنے کی ہمت نہیں رکھتے‘‘۔

واضح رہے کہ اس فیصلے سے اسٹیل، ایلومینیم اور دیگر مختلف اشیا پر ٹرمپ کی جانب سے الگ سے عائد کردہ شعبے سے متعلق ڈیوٹیز پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ پھر بھی یہ 13 ماہ قبل وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے سپریم کورٹ میں ٹرمپ کی سب سے بڑی شکست ہے۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد ٹیرف کے ذریعہ وصولے گئے فنڈز کو کمپنیوں کو واپس کرنے کا معاملہ زیر بحث ہے۔ دریں اثنا امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ڈلاس کے اکنامک کلب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ٹیرف سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ری فنڈ کا معاملہ ’کئی برسوں تک عدالت میں رہ سکتا ہے۔'

یورپی یونین اور برطانیہ سمیت امریکہ کے قریبی تجارتی شراکت داروں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے خاص طور پر بھارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انفرادی ممالک کے ساتھ طے پانے والے تجارتی معاہدے برقرار رہیں گے۔

(ایجنسی رپورٹ کچھ ترمیم کے ساتھ)

مزید پڑھیں:

امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بڑا دھچکا

ٹرمپ نے کیا پھر دعویٰ: بھارت اور پاکستان کی جنگ ’دو سو فیصد ٹیرف کی دھمکی‘ دیکر رکوا دی