ETV Bharat / international

"ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا" ممکنہ دوحہ مذاکرات سے قبل ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

ٹرمپ کے مطابق ایران کو کبھی بھی جوہری بم بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خود ایران بھی اب اس پر راضی ہے۔

DONALD TRUMP
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Photo: IANS)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : June 30, 2026 at 11:07 AM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

واشنگٹن: قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کے اگلے دور پر تذبذب کے بیچ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار تیار نہ بنانے رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس وقت فوجی اور سفارتی دونوں محاذوں پر مضبوط برتری رکھتا ہے۔ انہوں نے دوحہ مذاکرات کے حوالے سے مثبت رویہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات کے لیے امریکی حکام کی ایک ٹیم قطر پہنچ چکی ہے جس سے مشرق وسطیٰ کے بحران کو ٹالنے میں مدد مل سکتی ہے۔

'ایران کی مکمل جوہری تخفیف بنیادی ہدف'

صدر ٹرمپ نے امریکہ کے ارادوں کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کا مقصد بہت سادہ اور واضح ہے اور وہ ہے ایران کی مکمل جوہری تخفیف۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کو کبھی بھی جوہری بم بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خود ایران نے اب اس پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ تاہم امریکی صدر نے اس مبینہ معاہدے کی شرائط، ٹائم فریم یا قانونی فریم ورک کے حوالے سے میڈیا کے ساتھ کوئی تفصیلات شیئر نہیں کیں۔

عسکری کارروائی سے امریکہ کا پلڑا بھاری

صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سفارتی پیش رفت ایران کے جوہری ڈھانچے کے خلاف حالیہ امریکی فوجی کارروائی سے ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے پُر اعتماد انداز میں کہا کہ امریکہ نے فوجی فتح تقریباً حاصل کر لی ہے اور اس دباؤ نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے پر مجبور کیا ہے۔ ٹرمپ نے اس سفارتی پیش رفت کو عالمی معیشت سے بھی جوڑتے ہوئے کہا کہ تناؤ میں نرمی کی وجہ سے بین الاقوامی خام تیل کی قیمتیں 69 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہیں۔

ملکی پالیسی کے پلیٹ فارم سے بین الاقوامی اعلان

دلچسپ بات یہ ہے کہ بین الاقوامی سلامتی سے متعلق یہ بڑا اعلان ملکی پالیسی کے ایک پروگرام کے دوران سامنے آیا۔ صدر ٹرمپ دراصل ایک انتظامی یادداشت پر دستخط کر رہے تھے جو امریکی صارفین کو اپنی گاڑیوں کی مرمت کا قانونی حق دیتا تھا۔ انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی (EPA) کے ایڈمنسٹریٹر لی زیلڈن نے اسے "فریڈم ٹو فکس" مہم کا حصہ قرار دیا۔ پالیسی کا مقصد آٹوموبائل سیکٹر میں تھرڈ پارٹی پارٹس کی مارکیٹ میں مسابقت کو بڑھانا اور پرزوں کی تصدیق پر ریاست کیلیفورنیا کی اجارہ داری کو ختم کرنا ہے۔