ETV Bharat / international

ایران پر امریکی حملوں کی چوتھی لہر کے بعد خلیجی ریاستوں پر تہران کے تازہ حملے

وہیں امریکی فوج نے کہاکہ اس نے ایران میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد حملوں کی نئی لہر کو مکمل کر لیا ہے۔

Commercial vessels are seen in the Strait of Hormuz off Bandar Abbas, Iran, Tuesday, June 30
تیس جون کو بندر عباس، ایران کے قریب آبنائے ہرمز میں موجود تجارتی جہاز (AP)
author img

By AP (Associated Press)

Published : July 13, 2026 at 9:57 AM IST

6 Min Read
Choose ETV Bharat

دبئی، متحدہ عرب امارات: ایران نے امریکی فضائی حملوں پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے پیر کو بحرین کو دوسری بار نشانہ بنایا۔ اس دوران بحرین میں میزائل الرٹ کے سائرن بجتے ہوئے سنائی دیے۔ در اصل امریکہ کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے تازہ ترین چوتھے دور خاتمے کے بعد تہران نے خلیجی ریاستوں پر حملہ کیا۔

دریں اثنا وارننگ میں عوام پر زور دیا گیا کہ وہ ملک کی پناہ گاہوں میں جلد از جلد پناہ حاصل کریں۔ واضح رہے کہ بحرین امریکی بحریہ کے 5ویں بیڑے کا گھر ہے۔ پیر کی صبح ہونے والے حملوں میں کسی جانی یا مالی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔

اس سے قبل امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ایران میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد اپنے تازہ ترین حملوں کو مکمل کر لیا ہے۔ وہیں ایران کے نیم فوجی سپاہ پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی حملوں کے جواب اس کے حملے جاری ہیں۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر بحری جہاز پر ایرانی حملے کے بعد امریکہ نے پیر کی صبح تک ایران پر کئی بار حملے کیے۔ ہرمز میں ہوئے اس حملے میں جہاز پر آگ لگ گئی اور عملے کا ایک رکن لاپتہ ہوگیا۔ بعد ازاں امریکہ اور ایران کے بیچ حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ چل پڑا۔

امریکی بحریہ کے 5ویں بحری بیڑے کے گھر بحرین میں پیر کی صبح سویرے میزائل الرٹ سائرن بجے۔ تاحال حملوں سے ہوئے نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی بیان نہیں آیا۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے پیر کے اوائل میں اپنی سرزمین پر ہونے والے تازہ ترین حملوں کا اعتراف کرتے ہوئے کئی مقامات پر ہونے والے دھماکوں کی جانکاری دی جس میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے پیر کے روز ہونے والے حملوں میں درجنوں مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جن میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار سائٹس، میزائل اور ڈرون آلات اور چھوٹی کشتیاں شامل ہیں۔ سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ "ایران اس پر کٹرول نہیں رکھتا۔"

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز بند، امریکہ کی ایران پر پھر سے بمباری، خلیجی ممالک میں تہران کے جوابی حملے

"امریکی افواج اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار اور الرٹ ہیں کہ ایران کی مسلسل غیر ضروری جارحیت، ہراساں کیے جانے، دھمکیوں اور من مانی کے باوجود تجارتی جہاز رانی کے لیے راستہ کھلا رہے۔"

اس سے قبل اتوار کو ہونے والے ایرانی حملوں کا دائرہ بحرین، کویت، قطر، اردن اور یہاں تک کہ عمان تک پھیلا ہوا تھا - واضح رہے کہ عمان بھی ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کا ساحلی ملک ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے بیچ حملے 60 روزہ عبوری معاہدے کی مدت کے تقریباً وسط میں ہو رہے ہیں، جس میں جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے بات چیت ہونی تھی۔ وہیں مذاکرات کے بجائے اب صورت حال آبنائے اور اس کے مستقبل پر حملوں کے ایک سلسلے میں تبدیل ہو گئی ہے، جس سے عالمی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ ایران جنگ دوبارہ بڑے پیمانے پر شروع ہو سکتی ہے۔ دریں اثنا اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے ایک بیان میں کہا کہ "مکمل پیمانے پر جنگ کی طرف واپسی کے تباہ کن نتائج ہوں گے۔"

تازہ لڑائی آبنائے پر مرکوز

امریکی فوج نے اتوار کے اوائل میں کہا کہ اس نے ایران کے تقریباً 140 اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں میزائل اور ڈرون لانچ کرنے کی جگہیں، گولہ بارود کے ڈمپ، مواصلاتی آلات اور دیگر مقامات شامل تھے– جو حملوں کے دو سابقہ ​​لہروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی کے "میٹ دی پریس" کو بتایا، "ہم نے کل رات ان پر وسیع پیمانے پر بمباری کی۔" وہیں ایران نے اس خطے میں امریکی فوجی دستوں کی میزبانی کرنے والے ممالک پر حملہ کر کے جوابی کارروائی کی، جب کہ اس بات پر اصرار کیا کہ اسے اکیلے آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کا حق ہے اور ممکنہ طور پر اس سے گزرنے کے لیے جہازوں سے وصول کرے گا۔

تہران کی طرف سے ایک اہم مذاکرات کار ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے لکھا کہ "یک طرفہ سودوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔" "ہم نے آپ سے کہا کہ اپنی بات رکھیں یا قیمت ادا کریں۔ حقیقت دستک دے رہی ہے۔"

ایران نے آبنائے ہرمز کو اگلے اعلان تک بند قرار دیا یے، جب کہ امریکی فوج اور ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ آبنائے کھلا ہے۔ 28 فروری کو سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد جنگ شروع ہونے سے لے کر اب تک ایران اس کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں ہرمز میں متعدد جہازوں کو نشانہ بنایا۔ وہیں امریکی فوج نے عمان کی ساحلی پٹی سے لگنے والے جنوبی راستے کا استعمال کرتے ہوئے بحری جہازوں کو آبنائے پار کرنے میں مدد فراہم کی۔ ایران اس نئے راستے کا سخت مخالفت ہے۔ عبوری معاہدے کے دوران حالیہ دنوں میں نے اسے عمان والے راستے کا استعمال کرنے والے تقریباً چار جہازوں پر حملے کیے۔

مزید پڑھیں:

آبنائے ہرمز کھلا رکھنے اور جہازوں پر حملے روکنے کیلئے تہران عوامی بیان جاری کرے، امریکہ کا ایران سے مطالبہ

تہران کی 'کِل لسٹ' میں ٹرمپ پہلے نمبر پر! امریکی صدر نے کہا، اگر میرا قتل ہوا تو ایران میں تباہی مچ جائے گی

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کئی روزہ سرکاری تقاریب کے بعد مشہد میں سپرد خاک

امریکہ ایران جنگ کا خطرہ، خام تیل انیاسی ڈالر سے تجاوز کر گیا، عوام کی جیبوں کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ