ETV Bharat / international

سٹارمر نے ایران پر امریکی حملوں میں برطانیہ کے شامل نہ ہونے کے فیصلے کا دفاع کیا

انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈوں کو "محدود دفاعی مقصد" کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

Keir Starmer
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر (AFP)
author img

By AFP

Published : March 3, 2026 at 7:52 AM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

لندن: برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کو ایک بیان میں ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں میں شامل نہ ہونے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی لیبر پارٹی کی حکومت "آسمان سے حکومت کی تبدیلی" پر یقین نہیں رکھتی ہے۔

سٹارمر نے اپنے پہلے اعلان پر پارلیمنٹ کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ نے امریکیوں کو مغربی ایشیا میں "محدود دفاعی مقصد" کے لیے برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ہاؤس آف کامنز میں ارکان پارلیمنٹ کے سامنے ان کا یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے وزیر اعظم نے برطانوی اپنے فوجی اڈوں کے استعمال پر اپنا موقف بدلنے میں "بہت زیادہ وقت" لیا جس پر وہ "بہت مایوس" ہیں۔

اسٹارمر نے 'ہاؤس آف کامنز' کو بتایا کہ "یہ حکومت آسمان سے حکومت کی تبدیلی پر یقین نہیں رکھتی۔" انہوں نے کہا کہ "امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر ابتدائی حملوں میں برطانیہ ملوث نہیں تھا۔ یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خطے اور دنیا کے لیے آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ایک مذاکراتی تصفیہ ہے جس میں ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی خواہشات ترک کرنے پر راضی ہو اور پورے خطے میں اپنی عدم استحکام کی سرگرمیوں کو روک دے۔"

انہوں نے کہا کہ "یہ متواتر برطانوی حکومتوں کا دیرینہ موقف رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ابتدائی حملوں میں شامل نہ ہونے کے ہمارے فیصلے سے اختلاف کا اظہار کیا ہے، لیکن یہ میرا فرض ہے کہ میں فیصلہ کروں کہ برطانیہ کے قومی مفاد میں کیا ہے۔ میں نے ایسا ہی کیا ہے، اور میں اس پر قائم ہوں۔"

سابق بیرسٹر سٹارمر نے برطانوی افواج کو ایران پر امریکی و اسرائیلی جنگ میں شامل کرنے کے لیے بار بار "قانونی بنیاد" اور "قابل عمل، سوچے سمجھے منصوبے" کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے زور دیا کہ "یہ عراق جنگ سے لیا گیا ایک سبق ہے۔" انہوں نے پارلیمانی بیان میں انکشاف کیا کہ گذشتہ سال برطانیہ کی سرزمین پر ایران کی حمایت یافتہ 20 سے زیادہ "ممکنہ مہلک" حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔

"لہذا، یہ واضح ہے کہ ایرانی رجیم کو کبھی بھی جوہری ہتھیاروں رکھنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ یہ برطانیہ اور امریکہ سمیت ہمارے اتحادیوں کا بنیادی مقصد ہے، اور بالآخر، اسے مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا،" انہوں نے کہا۔ سٹارمر نے تسلیم کیا کہ زمینی صورت حال "کچھ وقت کے لیے چیلنجنگ رہ سکتی ہے۔"

اسی کے ساتھ اسٹارمر نے خطے میں موجود تمام برطانوی شہریوں کو اپنا نام رجسٹر کرانے زور دیتے ہوئے کہا "ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ وہ جلد سے جلد اور محفوظ طریقے سے گھر واپس آسکیں۔ ایف سی ڈی او (فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس) کی فون لائنیں قونصلر سپورٹ فراہم کرنے کے لیے کھلی ہیں، اور وزراء کسی بھی انفرادی کیس پر بات کرنے کے لیے اراکین پارلیمان سے ملنے کے لیے دستیاب ہیں۔" انہوں نے کہا۔

مزید پڑھیں:

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق خامنہ ای کی اہلیہ انتقال کر گئیں، اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے کے بعد زیر علاج تھیں

ایران جنگ مشرق وسطیٰ تک پھیلنے سے بھارتی تارکین وطن کو سلامتی کے خدشات

خامنہ ای کی موت کے بعد ایک بکھرا ہوا ایران متحد ہو رہا ہے! اب پڑوسی مسلم ممالک کی حکمت عملی کیا ہوگی؟

ایران کے ساتھ تنازعہ کے دوران کئی امریکی فوجی طیارے گر کر تباہ، تمام پائلٹ محفوظ