شیخ حسینہ وطن واپس آئیں تو سیدھے جیل جائیں گی: بنگلہ دیشی وزیر
بنگلہ دیش کے وزیر شمع عبید اسلام نے کہاکہ اگر شیخ حسینہ خودسپردگی کرتی ہیں تو حکومت قانون کے مطابق سختی سے کارروائی کرے گی۔

Published : July 14, 2026 at 2:04 PM IST
|Updated : July 14, 2026 at 2:31 PM IST
ڈھاکہ: 'شیخ حسینہ اگر ملک واپس آتی ہیں تو انہیں جیل جانا ہوگا'، یہ کہنا ہے بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ شمع عبید اسلام کا ہے۔ ان کا یہ بیان ان اطلاعات کے درمیان سامنے آیا ہے کہ کالعدم عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ دسمبر تک ڈھاکہ واپس آنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی 78 سالہ بیٹی شیخ حسینہ کی حکومت پانچ اگست سال 2024 کو طلبہ کی قیادت میں ہونے والے پُرتشدد احتجاج کے نتیجے میں ختم ہوگئی تھی۔ حکومت کے خاتمے کے بعد انہوں نے ڈھاکہ سے نکل کر بھارت میں پناہ لیا اور تب سے وہیں مقیم ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق وزیر مملکت برائے امور خارجہ شمع عبید اسلام نے کہا کہ ’’اگر وہ خودسپردگی کرتی ہیں تو موجودہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ انہیں جیل جانا ہوگا اور قانون اپنے طریقے سے نمٹے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ شیخ حسینہ کی خودسپردگی کی صورت میں حکومت موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت کارروائی کرے گی۔
گزشتہ ہفتے شیخ حسینہ کے قریبی ذرائع نے بتایا تھا کہ وہ دسمبر تک ڈھاکہ واپس آنے کی تیاری کر رہی ہیں اور یہ فیصلہ مکمل طور پر ان کا اپنا ہے۔
شمع عبید نے صحافیوں سے کہا کہ ’’شیخ حسینہ جہاں بھی خودسپردگی کریں، خواہ بھارت میں یا بنگلہ دیش میں، انہیں پہلے جیل جانا ہوگا۔ ایک سزا یافتہ شخص کے بیانات کے حوالے سے حکومت کے پاس غور کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔''
انہوں نے کہا کہ شیخ حسینہ کو پہلے ہی سزا سنائی جا چکی ہے۔ گذشتہ سال نومبر میں ڈھاکہ کی ایک خصوصی عدالت نے 2024 کے طلبہ احتجاج کے خلاف مبینہ سخت کارروائی کے سلسلے میں ’’انسانیت کے خلاف جرائم‘‘ کے الزام میں انہیں ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
شیخ حسینہ نے سزائے موت، دیگر سزاؤں اور اپنے خلاف الزامات کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ فیصلے کے بعد سے ڈھاکہ، نئی دہلی سے انہیں مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے بنگلہ دیش کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
شمع عبید نے کہا کہ شیخ حسینہ کو واپس لانے کا عمل سابق عبوری حکومت کے دور میں شروع ہوا تھا اور اب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت والی حکومت اسے آگے بڑھا رہی ہے۔ ان کے مطابق شیخ حسینہ کی بنگلہ دیش واپسی کے بعد قانونی عمل ہی آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کرے گا۔
شیخ حسینہ کی وطن واپسی کے منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ بیانات عوامی لیگ کے ان رہنماؤں اور کارکنوں کی حوصلہ افزائی کی کوشش ہے جو روپوش ہیں یا ملک چھوڑ چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: فلسطین کے حق میں بھارت کا دوٹوک مؤقف، اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت کی حمایت کا اعادہ
انہوں نے مزید کہا کہ خودسپردگی کے بجائے بیرون ملک سے آنے والے ان کے بیانات بظاہر عوامی لیگ کے ان رہنماؤں اور کارکنوں کی حوصلہ افزائی کی کوشش ہیں جو یا تو روپوش ہیں یا ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ مجھے اس کی کوئی دوسری وجہ نظر نہیں آتی۔

