ETV Bharat / international

روس نے نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر بیلسٹک میزائل داغے

روسی فوج نے یوکرین کے مشرقی ڈونیٹسک علاقے میں مزید علاقوں پر قبضے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

روس نے نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر بیلسٹک میزائل داغے
روس نے نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر بیلسٹک میزائل داغے ((AP))
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : July 6, 2026 at 11:36 AM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

کیف: روس نے پیر کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا۔ یہ حملہ ترکی میں نیٹو کے ایک اہم سربراہی اجلاس سے ایک روز قبل ہوا، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت متوقع ہے۔ سی این این نے اس بات کی اطلاع دی۔

اطلاعات کے مطابق یوکرین کی فضائیہ نے کہا کہ حملے میں بیلسٹک میزائل، ڈرون اور کروز میزائل شامل تھے۔ حملے کے بعد صبح سویرے وسطی کیف میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ کیف کے میئر وٹالی کلِٹسکو نے شہر کے کم از کم دو اضلاع میں آگ لگنے یا گرنے والے ملبے سے ہونے والے نقصان کی اطلاع دی۔

دھماکوں سے کچھ دیر پہلے ہی دارالحکومت میں فضائی حملے کے سائرن بج گئے تھے۔ یہ تازہ حملہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی طرف سے اتوار کو جاری کردہ انتباہ کے بعد کیا گیا ہے، جس میں انٹیلی جنس معلومات کا حوالہ دیا گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ روس ایک نئے بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ زیلنسکی نے ایکس پر لکھا، "انٹیلی جنس ایک بار پھر اشارہ کرتی ہے کہ روس ایک نئے بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے.روس امریکہ کے یوم آزادی کے فوراً بعد اور انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے پہلے لوگوں کو مارنا چاہتا ہے۔"

سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ حملہ گزشتہ جمعرات کو کیف پر ایک بڑے روسی حملے کے بعد ہوا ہے جس میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے یوکرین کے دارالحکومت پر ہونے والا تیسرا سب سے مہلک حملہ ہے۔ منگل سے انقرہ میں شروع ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں یوکرین میں روس کی جنگ پر بحث متوقع ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جلوسِ جنازہ تہران سے شروع

روسی فوج نے یوکرین کے مشرقی ڈونیٹسک علاقے میں مزید علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جو کریملن کا ایک اہم مقصد ہے۔ دریں اثنا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ یوکرین نے میزائل اور ڈرون حملوں کو تیز کر دیا ہے جو روسی علاقے کے اندر اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہیں، بشمول آئل ریفائنریز، بندرگاہوں، اور فوجی کارخانے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 4 جولائی کو تقریباً 90 منٹ تک فون پر بات کی۔