ETV Bharat / international

غزہ: متزلزل جنگ بندی معاہدہ اور رمضان کی آمد، ابتر حالات میں خوشی تلاش کررہے ہیں فلسطینی

عارضی کیمپ، موسمی حالات، معاشی پریشانیاں اور اسرائیلی حملے۔۔۔اس مشکل دور میں فلسطینی رمضان المبارک کی خوشیاں تلاش رہے ہیں۔

فلسطینی غزہ شہر میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے آغاز کا جشن منا رہے ہیں۔
فلسطینی غزہ شہر میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے آغاز کا جشن منا رہے ہیں۔ (AP)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 18, 2026 at 10:47 AM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

غزہ سٹی، غزہ کی پٹی: غزہ میں فلسطینیوں نے ایک نازک جنگ بندی معاہدے کے دوران مقدس مہینے رمضان کا استقبال کیا۔لیکن بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی روزمرہ کی زندگی کے چیلنجز اور اسرائیلی جارحیت سے نقصانات نے عام طور پر تہوار کے جذبے کو کم کر دیا ہے۔

غزہ شہر کے رہائشی فدا عیاد نے کہا کہ "ہمارے خاندان اور پیاروں کو کھونے کے بعد کوئی خوشی نہیں ہے۔" "اگر ہم حالات سے نمٹنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، تو ہم اسے اپنے دلوں میں محسوس نہیں کر سکتے۔۔۔۔میں ان لوگوں میں سے ہوں جو رمضان کے ماحول کو محسوس نہیں کر پا رہا۔"

مسلمان نمازی رمضان المبارک کے مقدس روزے کی پہلی رات مسجد الکنز میں نماز تراویح ادا کر رہے ہیں
مسلمان نمازی رمضان المبارک کے مقدس روزے کی پہلی رات مسجد الکنز میں نماز تراویح ادا کر رہے ہیں (AP)

غزہ میں مقدس مہینے کا آج ( بدھ) پہلا دن ہے۔ غزہ میں حالات معمول سے بہت دور ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیلی حملموں میں 72,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور علاقے کے بیشتر خاندان بے گھر ہیں۔

غزہ کے رہائشیوں نے اس ہفتے بازاروں کا دورہ کیا، کچھ نے افسوس کا اظہار کیا کہ معاشی پریشانیوں نے اس بابرکت مہینے کی خوشیوں کو پھیکا کر دیا ہے۔

غزہ شہر کے رہائشی ولید زقزوق نے کہا، "لوگوں کے پاس نقد رقم نہیں ہے۔ کوئی کام نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ یہ رمضان ہے، لیکن رمضان میں پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے"۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کو لوگوں کی مالی مشکلات کا خیال رکھنا چاہیے۔

ولید زقزوق نے مزید کہا، جنگ سے پہلے، "لوگ باوقار زندگی گزارتے تھے،" انہوں نے کہا۔ "جنگ میں صورت حال مکمل طور پر بدل گئی ہے، یعنی لوگ تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔"

حالانکہ 10 اکتوبر کو امریکی ثالثی میں جنگ بندی معاہدے نے دو سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کو روک دیا ہے۔ شدید ترین لڑائی تھم گئی ہے لیکن غزہ میں تقریباً روزانہ اسرائیلی حملے اور فائرنگ ہوتی رہی ہے۔

غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اسرائیلی فورسز نے فلسطینیوں پر فوج کے زیر قبضہ علاقوں کے قریب بار بار فضائی حملے اور فائرنگ کی ہے جس میں 600 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مسلم نمازی رمضان المبارک کے مقدس روزے کی پہلی رات عظیم عمری مسجد میں نماز تراویح ادا کرتےہوئے
مسلم نمازی رمضان المبارک کے مقدس روزے کی پہلی رات عظیم عمری مسجد میں نماز تراویح ادا کرتےہوئے (AP)

غزہ میں شدید سردی کے باعث بچوں کی اموات ہوئی ہیں، اور موسلا دھار بارش نے فلسطینیی خاندانوں کے عارضی کیمپ پانی سے بھر گئے اور پہلے سے ہی بری طرح تباہ شدہ عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں۔

غزہ شہر میں رہنے والے رعد کوہیل نے کہا، "جنگ سے پہلے والے رمضان اور اس رمضان میں بہت فرق ہے۔" "ماضی میں ماحول زیادہ خوشگوار تھا۔ گلیاں سجاوٹ سے جگمگاتی تھیں۔ تمام گلیوں میں سجاوٹ تھی۔ ہمارے بچے خوش تھے۔"

ان مشکل حالات میں بھی فلسطینیوں کا ایک بڑا طبقہ استقبال رمضان میں مصروف نظر آیا۔

خان یونس میں کھنڈرات اور خستہ حال عمارتوں میں گھرے ہوئے، خطاط اور مصور ہانی دہمان نے بچوں کو خوشی محسوس کرانے کے لیے اپنے برش کو پینٹ میں ڈبو یا اور عربی میں "خوش آمدید، رمضان" لکھا۔

مسلمان نمازی رمضان المبارک کے مقدس روزے کی پہلی رات مسجد الکنز میں نماز تراویح ادا کر رہے ہیں
مسلمان نمازی رمضان المبارک کے مقدس روزے کی پہلی رات مسجد الکنز میں نماز تراویح ادا کر رہے ہیں (AP)

دہمان نے کہا، "ہم یہاں خان یونس کیمپ میں ہیں، بچوں، عورتوں، مردوں اور پورے خاندان کے دلوں میں خوشی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔" "ہم دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم وہ لوگ ہیں جو زندگی کی تلاش میں ہیں۔"

تمام مشکلات کے باوجود کھنڈرات کے درمیان محمد تانیری رمضان کی سجاوٹ کے تار لٹکا کر ایک خوبصورت ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

(اے پی کے مشمولات کے ساتھ)

یہ بھی پڑھیں: