ETV Bharat / international

جدید قطر کے معمار و سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی انتقال کر گئے

شیخ حمد نے 1995 میں ایک خونریز تصادم کے بغیر اپنے والد شیخ خلیفہ بن حمد آل ثانی کو اقتدار سے ہٹا کر حکومت سنبھالی۔

جدید قطر کے معمار و سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی انتقال کر گئے
جدید قطر کے معمار و سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی انتقال کر گئے (AP)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : July 12, 2026 at 4:47 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

دوحہ : قطر کے سابق امیر اور جدید قطر کے معمار سمجھے جانے والے شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی اتوار کے روز 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی اطلاع قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے دی، تاہم وفات کی وجہ بیان نہیں کی گئی۔ امیری دیوان کی جانب سے جاری تعزیتی بیان میں کہا گیا کہ قوم ایک عظیم رہنما سے محروم ہوگئی ہے، جنہوں نے قطر کو ترقی، خوشحالی اور عالمی اثر و رسوخ کی نئی بلندیوں تک پہنچایا۔

شیخ حمد نے 1995 میں ایک خونریز تصادم کے بغیر اپنے والد شیخ خلیفہ بن حمد آل ثانی کو اقتدار سے ہٹا کر حکومت سنبھالی۔ ان کی قیادت میں قطر نے محض چند برسوں میں ایک چھوٹی خلیجی ریاست سے عالمی سیاست، معیشت، سرمایہ کاری، میڈیا اور سفارت کاری کا ایک اہم مرکز بننے کا سفر طے کیا۔ قدرتی گیس اور تیل کی دولت کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے انہوں نے قطر کی معیشت کو نئی جہت دی اور دنیا کے مختلف ممالک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی۔

لندن کے معروف ہیرڈز اسٹور کی ملکیت، عالمی فضائی کمپنی قطر ایئرویز کی توسیع اور دوحہ کے جدید بین الاقوامی ہوائی اڈے کی تعمیر انہی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ شیخ حمد کی سب سے نمایاں کامیابیوں میں الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کا قیام بھی شامل ہے، جس نے عرب دنیا میں صحافت کا انداز بدل دیا۔ اگرچہ الجزیرہ کو آزاد صحافت کے لیے سراہا گیا، تاہم کئی عرب حکومتوں اور مغربی ممالک نے اس کی پالیسیوں پر اعتراضات بھی کیے۔

سفارتی محاذ پر بھی شیخ حمد نے قطر کو غیر معمولی مقام دلایا۔ ان کے دور میں قطر نے سوڈان، لبنان، فلسطین اور افغانستان سمیت متعدد بین الاقوامی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔ 2012 میں وہ غزہ کا دورہ کرنے والے پہلے سربراہِ مملکت بنے اور وہاں سینکڑوں ملین ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا۔ بعد ازاں افغانستان میں طالبان کے سیاسی دفتر کے قیام نے بھی قطر کو عالمی مذاکرات کا مرکز بنا دیا، جس کے نتیجے میں امریکہ اور طالبان کے درمیان تاریخی مذاکرات ممکن ہوئے۔

شیخ حمد نے 2013 میں رضاکارانہ طور پر اقتدار اپنے صاحبزادے شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے حوالے کر دیا، جو مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور پرامن انتقالِ اقتدار سمجھا جاتا ہے۔ ان کا یہ فیصلہ عرب بہار کے بعد خطے میں بدلتے سیاسی حالات کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز بند، امریکہ کی ایران پر پھر سے بمباری، خلیجی ممالک میں تہران کے جوابی حملے

ان کے دورِ حکومت میں قطر کو 2022 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی حاصل ہوئی، جو ملک کی عالمی شناخت کا ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوئی۔ اگرچہ اس دوران قطر کی بعض خارجہ پالیسیوں، خصوصاً ایران، حماس اور اخوان المسلمون کے ساتھ تعلقات پر تنقید بھی کی گئی، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ شیخ حمد نے قطر کو عالمی سطح پر ایک بااثر اور فعال ریاست میں تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی وفات پر قطر سمیت دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔