ٹرمپ کی برطانیہ کے وزیر اعظم پر تنقید، ایران جنگ میں سٹارمر کے امریکہ کا ساتھ نہیں دینے کو مسلم ووٹ بینک سے جوڑ دیا
ٹرمپ نے برطانیہ کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے کہا کہ، برطانیہ اب قابل شناخت ملک نہیں رہا۔۔

By ANI
Published : March 3, 2026 at 3:41 PM IST
واشنگٹن ڈی سی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو برطانوی اخبار دی سن کے ساتھ ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں برطانیہ کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں میں امریکہ کا ساتھ نہ دینے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انھوں نے الزام لگایا کہ سٹارمر نے یہ فیصلہ ملک میں اسلامی عقیدے کے ووٹروں کو خوش کرنے کے لیے کیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ، کیئر سٹارمر ایران میں امریکی حملوں کی حمایت نہ کر کے مسلمان ووٹروں کو خوش کر رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ اب "ایسا قابل شناخت ملک نہیں رہا"۔
اسٹارمر کا حوالہ دیتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا، "وہ مددگار نہیں رہے، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ایسا دیکھوں گا۔ ہمیں یوکے سے محبت ہے"۔
جب ٹرمپ سے برطانوی وزیراعظم کے سیاسی وجوہات کی بناء پر مسلم ووٹروں کو اہمیت دینے سے متعلق پوچھا گیا تو انھوں کہا، یہ ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا، "لندن ایک بہت ہی مختلف جگہ ہے، جہاں ایک خوفناک میئر ہے۔ وہاں آپ کے پاس ایک خوفناک میئر ہے، کچھ خوفناک لوگ ہیں۔ لیکن یہ بہت مختلف جگہ ہے۔"
برطانوی وزیراعظم نے ایوان میں واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف امریکی مہم کا حصہ نہیں بنے گا۔ سٹارمر نے کہا کہ، "صدر ٹرمپ نے ابتدائی حملوں میں شامل نہ ہونے کے ہمارے فیصلے سے اختلاف کا اظہار کیا ہے۔ لیکن یہ میرا فرض ہے کہ میں فیصلہ کروں کہ برطانیہ کے قومی مفاد میں کیا ہے، اور میں نے جو فیصلہ لیا ہے۔ میں اس پر قائم ہوں۔"
سٹارمر نے اپنے ریمارکس میں ایران کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے اسے برطانیہ کے شراکت داروں، مفادات اور اتحادیوں کے لیے خطرہ قرار دیا۔
انہوں نے ایوان کو مزید بتایا کہ امریکہ کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ سٹارمر نے کہا امریکہ نے اس کی درخواست کی تھی اور اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اڈے صرف دفاعی مقاصد تک محدود رہیں گے۔
امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری/روئرنگ لائین مربوط آپریشن شروع کیا ہے۔ آپریشن میں، امریکی اور اسرائیلی افواج نے پورے ایران میں بڑے پیمانے پر ہوائی اور میزائل حملے کیے ہیں، جس میں اہم فوجی تنصیبات، جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس کے جواب میں، ایران نے اسرائیل، بحرین، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات، اور اردن سمیت پورے خطے میں امریکی اثاثوں اور اتحادیوں پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغ کر جوابی کارروائی کی ہے، جس سے خطے میں ایک وسیع علاقائی تنازعہ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
عالمی رہنما اور بین الاقوامی ادارے اس وقت کشیدگی میں کمی پر زور دے رہے ہیں حالانکہ جنگ کسی واضح انجام کے بغیر جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

