ETV Bharat / international

پاکستان کا افغانستان پر فضائی حملہ، مدارس سمیت مختلف مقامات پر بمباری، 20 سے زیادہ لوگ ہلاک

پاکستان نے خودکش حملوں کے جواب میں اپنے سرحدی علاقوں اور افغانستان کے حدود میں فضائی حملے کیے ہیں۔

Pakistan Strikes Seven 'Terrorist' Sites In Afghanistan; Taliban Says Dozens Of Civilians Killed
افغانستان پر پاکستان کے فضائی حملے (AFP)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 22, 2026 at 8:23 AM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

کابل: پاکستانی فضائیہ نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے برمل ضلع میں ایک دینی مدرسے کو نشانہ بنایا، طلوع نیوز نے ذرائع کے حوالے سے اس بات کی جانکاری دی۔ افغانستان کے چینل طلوع نیوز کے مطابق پاکستانی جیٹ طیاروں نے صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں بھی کئی فضائی حملے کیے۔

افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اتوار کو ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ پاکستان نے ننگرہار اور پکتیکا صوبوں میں ہمارے شہریوں پر بمباری کی جس میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 20 افراد ہلاک ہوگئے۔

طلوع نیوز کے مطابق، پاکستان نے سنیچر کے بعد سے پکتیکا کے برمل اور ارگن اضلاع کے ساتھ ساتھ ننگرہار کے اضلاع خوگیانی، بہسود اور غنی خیل میں کئی حملے کیے ہیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے بھی اسلام آباد کے فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر مبینہ دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے جیو نیوز نے رپورٹ کیا کہ حملوں میں مبینہ فتنہ الخوارج، اس سے وابستہ تنظیموں اور داعش خراسان صوبہ (ڈی کے پی) کے سات کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ آپریشن رمضان المبارک کے دوران اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے حالیہ خودکش حملوں کا جواب دیا گیا ہے۔

Pakistan Strikes Seven 'Terrorist' Sites In Afghanistan; Taliban Says Dozens Of Civilians Killed
پاکستان کا افغانستان پر فضائی حملہ (AFP)

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی وزارت دفاع نے الزام لگایا کہ اسلام آباد سمیت مختلف مقامات پر ہوئے خودکش بم دھماکے افغان قیادت اور ہینڈلرز کے کہنے پر کیے گئے، اور یہ کہ ان حملوں کی ذمہ داری مبینہ طور پر افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش سے وابستہ تنظیموں نے ذمہ داری قبول کی تھی۔

اسلام آباد کے اس دعوے کے باوجود کہ اس نے افغان طالبان سے دہشت گرد گروپوں کو افغان سرزمین کو استعمال کرنے سے روکنے کی بارہا اپیل کی، پاکستان خود طویل عرصے سے خطے میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں اور لاجسٹک مدد فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی جانچ کا سامنا کر رہا ہے۔

اپنے بیان میں پاکستان نے کہا کہ وہ افغانستان کی عبوری حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے گی۔

پاکستان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ افغان حکام پر دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ ڈان کے مطابق، پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ باجوڑ میں ایک مہلک حملے کے بعد سرحد پار سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پاکستان اپنے شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے افغانستان کو نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ڈان کے مطابق، پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ "پاکستان پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے اندر دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کی جائے۔" اس لیے جب تک یہ مطالبہ پورا نہیں ہو جاتا، صبر کے ساتھ تمام آپشن کھلے رہیں گے۔

مزید پڑھیں: پاک افغان سرحد، چمن بارڈر پر شدید فائرنگ کا تبادلہ

پاکستان کی افغانستان میں بمباری، نو بچوں سمیت دس افراد ہلاک

بھارت، افغانستان دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کا فیصلہ، کمرشل اتاشی مقرر کرنے کا اعلان