اقوام متحدہ میں بھارت کا دو ٹوک موقف، ’پاکستان نے ہی جنگ بندی کی اپیل کی‘
’’آپریشن سندور‘‘ پر بھارتی مندوب نے اقوام متحدہ میں پاکستان کو کشمیر جیسے داخلی معاملے پر بیان بازی سے گریز کرنے کو کہا۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : January 27, 2026 at 3:59 PM IST
نئی دہلی: بھارت نے پیر کے روز اقوام متحدہ میں پاکستان کے ان بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے جو اس نے گزشتہ برس اپریل میں پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے کے بعد بھارت کی جوابی کارروائی ’’آپریشن سندور‘‘ کے حوالے سے دیے تھے۔ بھارت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’پاکستان دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔‘‘
اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب پروتھانینی ہریش نے اقوام متحدہ کے ممبران کو یاد دلایا کہ گزشتہ برس مئی میں ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران بھارتی حملوں کے بعد پاکستان کی فوج نے ’’جنگ بندی‘‘ کی اپیل کی تھی۔
ہریش اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اوپن اجلاس میں ’’بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کی تجدید: امن، انصاف اور کثیرالجہتی راستے‘‘ کے موضوع پر بھارت کا موقف بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: ’’پاکستان کا نمائندہ، جو سلامتی کونسل کا منتخب رکن ہے، جھوٹ اور خود غرضی پر مبنی بیانیہ پیش کر رہا ہے۔‘‘
اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران ہریش نے کہا: ’’میں پاکستان کے نمائندے کے اس بیان کا جواب دینا چاہتا ہوں، جو میرے ملک اور عوام کو نقصان پہنچانے کے اکلوتے ایجنڈے پر کام کرتے ہیں، اس نے پچھلے سال مئی کے آپریشن سندور کے بارے میں ایک جھوٹا اور مفاد پرست بیانیہ پیش کیا۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ 9 مئی تک پاکستان بھارت پر مزید حملوں کی دھمکیاں دے رہا تھا، لیکن 10 مئی کو ’’پاکستانی فوج نے براہ راست بھارتی فوج سے رابطہ کر کے جنگ بندی کی درخواست کی۔’’
#IndiaAtUN
— India at UN, NY (@IndiaUNNewYork) January 26, 2026
PR @AmbHarishP delivered 🇮🇳’s statement at the @UN Security Council Open Debate on ‘Reaffirming International Rule of Law: Pathways to Reinvigorating Peace, Justice and Multilateralism’. @MEAIndia @IndianDiplomacy pic.twitter.com/AiTD8hIdoD
بھارتی نمائندے نے یو این میں کہا کہ ’’بھارتی کارروائیوں سے پاکستان کے کئی فضائی اڈوں کو زبردست نقصان پہنچا، جن میں تباہ شدہ رن ویز اور خاکستر ہوئے ہینگرز شامل ہیں، اور ان تصاویر کا ریکارڈ عوامی سطح پر بھی موجود ہے۔‘‘
پاکستان کی جانب سے ’’نیو نارمل‘‘ کے ذکر پر ہریش نے کہا کہ دہشت گردی کو کبھی معمول نہیں بنایا جا سکتا جیسا کہ پاکستان چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’پاکستان کا دہشت گردی کو اسٹیٹ پالیسی (State Policy) کے طور پر استعمال کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا، اور اقوام متحدہ کا فورم پاکستان کو یہ جواز فراہم نہیں کر سکتا کہ وہ دہشت گردی کو قانونی حیثیت دے۔‘‘
انہوں نے کہا: ’’پاکستان کے نمائندے نے نئے معمول کی بات کی، مگر میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ دہشت گردی کو معمول بنانا ممکن نہیں۔ یہ قابل قبول نہیں کہ دہشت گردی کو پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔ یہ معزز ایوان پاکستان کی دہشت گردی کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا۔‘‘
جموں و کشمیر کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے ہریش نے کہا کہ ’’پاکستان کو بھارت کے اندرونی معاملات پر رائے دینے کا کوئی حق نہیں۔ پاکستان کو بھارت کے اندرونی معاملات، خصوصاً جموں و کشمیر کے بارے میں کچھ کہنے کا کوئی اختیار نہیں۔ جموں و کشمیر بھارت کا جزو لا ینفک اور ناقابلِ واپسی حصہ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔‘‘
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارتی نمائندے نے کہا کہ بھارت نے اس معاہدہ پر 65 سال قبل نیک نیتی اور دوستی کے جذبے کے ساتھ دستخط کیے تھے، مگر اتنے برسوں میں پاکستان نے تین جنگیں لڑیں اور ہزاروں دہشت گرد حملے کیے، جو اس معاہدے کی روح کے منافی ہیں۔
انہوں نے کہا: ’’پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گرد حملوں میں ہزاروں بھارتی شہریوں کی جانیں تلف ہوئی ہیں۔ اسی وجہ سے بھارت نے اعلان کیا ہے کہ معاہدے پر عمل اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان، جسے جو کہ عالمی دہشت گردی کا مرکز ہے، ہر قسم کی دہشت گردی کی حمایت ختم نہیں کرتا۔‘‘
ہریش نے پاکستان کو نصیحت کی کہ وہ پہلے اپنے ملک میں قانون کی بالادستی پر غور کرے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’پاکستان میں فوج کو 27ویں ترمیم کے ذریعے ایک ’’آئینی بغاوت‘‘ کی اجازت کیسے دی گئی؟ جو ملک کے چیف آف ڈیفنس فورسز کو تاحیات استثنا فراہم کرتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں:
بھارت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کو دیا منہ توڑ جواب

