ETV Bharat / international

پاک افغان سرحد، چمن بارڈر پر شدید فائرنگ کا تبادلہ

دونوں ممالک ایک دوسرے پر جارحیت کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

ا
افغانستان کے صوبہ خوست میں پاکستانی گولہ باری کے بعد کا منظر (فائل فوٹو: اے پی)
author img

By PTI

Published : December 6, 2025 at 1:31 PM IST

2 Min Read
Choose ETV Bharat

اسلام آباد: میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور افغانستان کی فورسز کے مابین بلوچستان کے اہم چمن سرحدی مقام پر شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ روزنامہ ڈان کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ضلع اسپتال سے زخمیوں کی آمد کی تصدیق بھی کی گئی ہے، تاہم کسی ہلاکت کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ وہیں دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر ’’جمعہ کی رات دیر گئے فائرنگ‘‘ شروع کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان فورسز نے بادینی علاقے پر مارٹر گولے داغے، جبکہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے اسپن بولدک پر حملہ کیا تھا جس کا دفاع کرتے ہوئے ان کی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔ وہیں پاکستانی سرکاری ذرائع نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ پاکستانی فورسز نے افغان جارحیت کا جواب دیتے ہوئے واپس فائر کیا۔

چمن - قندھار ہائی وے کے قریب بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، تاہم اس کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ کوئٹہ کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’فائرنگ رات تقریباً 10 بجے شروع ہوئی اور دیر رات تک جاری رہی۔‘‘ چمن ڈسٹرکٹ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق تین زخمی - جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے - اسپتال لائے گئے۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) اور وزارت خارجہ نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ چمن بارڈر کراسنگ، جسے ’’فرینڈ شپ گیٹ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے بلوچستان کو افغانستان کے صوبہ قندھار سے جوڑتی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات حالیہ عرصے میں کافی کشیدہ رہے ہیں۔ پاکستان مسلسل افغان حکومت پر الزام عائد کر رہا ہے کہ وہ (تحریک طالبان پاکستان) ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم ہونے سے روکنے میں ناکام ہو چکا ہے۔

گزشتہ ماہ کشیدگی کے بعد دونوں ممالک نے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، تاہم پاکستانی وزارت خارجہ نے بعد میں کہا کہ ’’تکنیکی طور پر‘‘ کوئی فائربندی نہیں تھی، کیونکہ اس کا انحصار افغان طالبان کی جانب سے پاکستان میں دہشت گرد حملے روکنے پر تھا - جو وہ نہیں کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. پاک افغان مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ناکام