ETV Bharat / international

حجاج کرام شیطان کو کنکریاں مارنے کی عظیم سنت ابراہیمی میں مصروف: رمیِ جمرات برائیوں اور شیطانی وسوسوں کے خلاف مزاحمت کا اعلان

دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں حجاج کرام عظیم سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے شیطان کو کنکریاں مارنے میں مصروف ہیں۔

لاکھوں حجاج کرام شیطان کو کنکریاں مارنے کی عظیم سنت ابراہیمی کو ادا کرنے میں مصروف: رمیِ جمرات برائیوں اور شیطانی وسوسوں کے خلاف مزاحمت کا اعلان
لاکھوں حجاج کرام شیطان کو کنکریاں مارنے کی عظیم سنت ابراہیمی کو ادا کرنے میں مصروف: رمیِ جمرات برائیوں اور شیطانی وسوسوں کے خلاف مزاحمت کا اعلان (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : May 27, 2026 at 12:40 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

مکہ مکرمہ: (خورشید وانی) حج 1447ھ کے رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ کی ادائیگی کے بعد لاکھوں حجاج کرام مزدلفہ پہنچ گئے، جہاں انہوں نے کھلے آسمان تلے رات گزاری، نمازِ مغرب و عشاء ایک ساتھ ادا کیں اور رمیِ جمرات کے لیے کنکریاں جمع کیں۔ آج 10 ذوالحجہ کو فرزندانِ اسلام منیٰ میں جمرۂ عقبہ کو کنکریاں مارنے کی سنت ادا کریں گے، جو حضرت ابراہیمؑ کی عظیم قربانی اور شیطان کے خلاف اعلانِ بغاوت کی یاد تازہ کرتی ہے۔

حجاج کرام شیطان کو کنکریاں مارنے کی عظیم سنت ابراہیمی میں مصروف: رمیِ جمرات برائیوں اور شیطانی وسوسوں کے خلاف مزاحمت کا اعلان (ETV Bharat)

مزدلفہ کی فضائیں رات بھر تکبیرات، تلبیہ، دعا و استغفار اور ذکرِ الٰہی سے گونجتی رہیں۔ لاکھوں حجاج نے عبادت، توبہ اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں مانگیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق رمیِ جمرات حج کے اہم واجبات میں شامل ہے۔ لاکھوں حجاج کرام عظیم سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے شیطان کو کنکریاں مارنے میں مصروف ہیں۔ اس عمل کی اصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس واقعہ سے جڑی ہے جب شیطان نے انہیں اللہ کے حکم کی تعمیل سے روکنے کی کوشش کی تھی، جس پر حضرت ابراہیمؑ نے اسے کنکریاں مار کر دور بھگا دیا تھا۔

اسی یاد میں حجاج آج شیطان کی علامتی نمائندگی کرنے والے ستونوں کو کنکریاں مارتے ہیں۔ علمائے کرام کے مطابق رمیِ جمرات صرف ایک ظاہری عمل نہیں بلکہ یہ انسان کے نفس، گناہوں، برائیوں اور شیطانی وسوسوں کے خلاف عملی اعلانِ مزاحمت ہے۔ یہ عمل بندۂ مومن کو اس بات کا درس دیتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہر قسم کی برائی، گمراہی اور نافرمانی کو رد کرے۔

سعودی حکام نے رمیِ جمرات کے موقع پر غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔ جمرات کمپلیکس میں حجاج کی نقل و حرکت کو منظم بنانے کے لیے جدید راستے، ایمرجنسی طبی مراکز، کولنگ سسٹمز اور سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ لاکھوں افراد بآسانی مناسک ادا کر سکیں۔

وزارتِ حج و عمرہ نے حجاج کو ہدایت دی ہے کہ شدید گرمی کے پیش نظر زیادہ پانی استعمال کریں، دھوپ سے بچنے کے لیے چھتریوں کا استعمال کریں اور مقررہ اوقات میں ہی جمرات جائیں تاکہ رش اور ازدحام سے بچا جا سکے۔ رمیِ جمرات کے بعد حجاج کرام قربانی ادا کریں گے، حلق یا قصر کروائیں گے اور پھر بیت اللہ جا کر طوافِ زیارت ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں آج جوش و جذبے کے ساتھ منائی جارہی ہے عید الاضحیٰ، حج اختتامی مراحل میں داخل

اس کے بعد ایامِ تشریق میں مزید دو یا تین دن تک حجاج تینوں جمرات کو کنکریاں مارنے کی سنت ادا کرتے رہیں گے۔ دنیا بھر کے مسلمان ان مبارک لمحات میں حجاج کرام کی عبادات کی قبولیت، امتِ مسلمہ کے اتحاد، امن اور پوری انسانیت کی بھلائی کے لیے خصوصی دعائیں کر رہے ہیں۔