موہن بھاگوت کا اسکان مندر، نیویارک کا دورہ، کہا 'کرشن چیتنا' دنیا کو بہتر بنا سکتی ہے
موہن بھاگوت اپنے دورۂ امریکہ کے دوران نیویارک میں واقع اسکان مندر گئے اور لوگوں میں کھانا تقسیم کرنے کی مہم میں حصہ لیا۔

Published : August 29, 2026 at 3:40 PM IST
|Updated : August 29, 2026 at 3:51 PM IST
نیویارک: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت جمعہ کو اپنے دورۂ امریکہ کے دوران نیویارک میں واقع اسکان مندر گئے اور بے گھر لوگوں میں کھانا تقسیم کرنے کی مہم میں حصہ لیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کرشن چیتنا (کرشن کا شعور) دنیا سے جھگڑوں اور اختلافات کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
مندر میں عقیدت مندوں سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے اختلافات اور تنازعات کے باوجود لوگوں کو ایک دھاگے میں پرونے کے لیے شعور کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ "آج کی دنیا میں بہت سے جھگڑے اور بہت سے تضادات ہیں۔ صرف ایک ہی چیز ہے جو سب کو جوڑتی ہے، اور وہ ہے شعور۔"
موہن بھاگوت نے مزید کہا کہ "وہ شعور دراصل 'کرشن چیتنا' ہے۔ ہم سب ایک ہیں اور ہم دنیا کے ان تضادات کے درمیان بھی اس پختہ یقین کے ساتھ جی رہے ہیں کہ اگرچہ یہاں اتنے تنوع، تضادات اور جھگڑے موجود ہیں، لیکن درحقیقت یہ سب کرشن ہی کا روپ ہیں۔" انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کے دلوں میں یہ بات بیٹھ جائے کہ ہر چیز کرشن کا حصہ ہے، تو یہ ایک بہتر اور زیادہ ہم آہنگ دنیا کی تعمیر میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "سب کچھ کرشن ہے، اگر یہ سوچ دنیا کے ہر دل تک پہنچ جائے، تو یہ ایک بہتر دنیا ہوگی، یہ وہ دنیا نہیں ہوگی جو ہم آج دیکھتے ہیں۔ یہ ہر انسان کے لیے ایک جنت بن جائے گی۔"
بھاگوت کا یہ دورہ 29 اگست کو میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہونے والے 'یونیورسل وننس سیلیبریشن' یعنی عالمی یگانگت کے جشن میں ہندوستانی برادری سے ان کے طے شدہ خطاب سے پہلے ہو رہا ہے، جس کا انعقاد راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے صد سالہ تقاریب کے حصے کے طور پر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی کمیشن کا آر ایس ایس پر نفرت پھیلانے کا الزام، بھاگوت سے مذاکرات کی پیشکش
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ منگل کو امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کے سہ ملکی دورے کے تحت نیویارک پہنچے۔ نیویارک میں آر ایس ایس کے پروگرام کی مخالفت بھی کی جا رہی ہے۔ نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ وہ آر ایس ایس کے اس پروگرام کی حمایت نہیں کرتے، لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ یقینی طور پر نہیں جانتے کہ آیا شہر کی انتظامیہ کے پاس اس نجی اجتماع کو منسوخ کرنے کا کوئی قانونی اختیار ہے یا نہیں۔
اس دوران، آچاریہ مہامنڈلیشور سوامی اودھیشانند گری، جو اس پروگرام میں شرکت کرنے والے ہیں، نے کہا کہ جو لوگ اس تقریب کی مخالفت کر رہے ہیں، انہیں اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور اس پر تنقید کرنے کا پورا حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام دنیا بھر میں بھائی چارے اور ہم آہنگی کا پیغام دے گا، اور اس بھارتی عقیدے 'وسودھیو کٹمبکم' یعنی دنیا ایک خاندان ہے، پر زور دے گا۔ آر ایس ایس کے اکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ سنیل امبیکر نے 'یونیورسل وننس سیلیبریشن' کو بین المذاہب اجتماع قرار دیا جو مختلف برادریوں، ثقافتوں اور الگ الگ مذاہب کے لوگوں کو ایک ساتھ لاتا ہے۔ ہندو امریکن فاؤنڈیشن نے بھی پروگرام سے قبل ایک سکیورٹی ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں شرکاء سے محتاط رہنے، ارد گرد کے حالات پر نظر رکھنے اور بات چیت کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت جین زی اور جین الفا سے خطاب کریں گے
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے سنگھ کے قیام کی بنیادی وجہ کیا بتائی؟

