خالدہ ضیاء کا بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بننے سے لے کر قید اور رہائی تک کا سفر
خالدہ ضیاء کو بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم اور حسینہ واجد کی کٹر حریف کے طور پر جانا جاتا ہے۔

Published : December 30, 2025 at 10:30 AM IST
ڈھاکہ، بنگلہ دیش: خالدہ ضیاء بنگلہ دیش کی پہلی خاتون منتخب وزیراعظم تھیں۔ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے ساتھ چلی سیاسی رسہ کشی کے لیے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ شیخ حسینہ حکومت میں خالدہ ضیاء کو کئی بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے انھیں اپنے ہی ملک میں جیل اور نظر بندی کی زندگی گزارنی پڑی۔
79 سالہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کو 8 فروری 2018 کو ضیا آرفنیج ٹرسٹ کرپشن کیس میں نچلی عدالت کی جانب سے پانچ سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد اولڈ ڈھاکہ جیل بھیج دیا گیا تھا۔
سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی انتظامیہ سے خالدہ ضیاء کے خاندان نے کم از کم 18 بار درخواست کی کہ انہیں بیرون ملک علاج کی اجازت دی جائے، لیکن درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔کورونا وائرس وبائی دور میں شیخ حسینہ حکومت نے 25 مارچ 2020 کو ان کی سزا معطل کرتے ہوئے ایک ایگزیکٹو آرڈر پاس کیا تھا جس کے تحت خالدہ ضیا کو اس شرط کے ساتھ عارضی طور پر جیل سے رہا کیا گیا تھا کہ کہ وہ اپنی رہائش گاہ میں ہی رہیں گی اور ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گی۔
2024 میں حکومت مخالف طلباء تحریک میں شیخ حسینہ حکومت کا تختہ الٹ گیا جس کے بعد جنوری 2025 میں، سپریم کورٹ نے خالدہ ضیا کو ان کے خلاف بدعنوانی کے آخری مقدمے میں بری کر دیا۔ اس کے بعد وہ علاج کے لیے جنوری میں لندن گئی اور مئی میں بنگلہ دیش واپس آئی۔

خالدہ ضیاء کی فوجی آمریت کے خلاف جنگ
1971 میں پاکستان کے ساتھ خونریز جنگ میں بنگلہ دیش کو آزادی حاصل ہوئی۔ اس دوران بنگلہ دیش میں قتل و غارت، بغاوت اور جوابی بغاوتوں کا دور تھا کیونکہ فوجی شخصیات اور سیکولر اور اسلامی رہنما اقتدار کے لیے زور لگا رہے تھے۔
خالدہ ضیاء کے شوہر صدر ضیاء الرحمن نے 1977 میں فوجی سربراہ کی حیثیت سے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور ایک سال بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) بنائی۔ ملک میں جمہوریت کا دروازہ کھولنے کا سہرا ضیاء الرحمان کے سر باندھا جاتا ہے لیکن وہ 1981 کی فوجی بغاوت میں مارے گئے۔
فوجی آمریت کے خلاف خالدہ ضیاء نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور اس کے خلاف ایک عوامی تحریک کی تعمیر میں مدد کی جس کا اختتام 1990 میں آمر اور سابق آرمی چیف ایچ ایم ارشاد کی معزولی کے ساتھ ہوا۔

خالدہ ضیاء 1991 پہلی مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ پاکستان کے ساتھ آزادی کے جنگ لڑنے والے شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی شیخ حسینہ کو خالدہ ضیاء کی کٹر حریف تھیں۔ شیخ مجیب الرحمان کو 1975 کی بغاوت میں قتل کر دیا گیا تھا۔
خالدہ ضیاء کو 1996 کے اوائل کے انتخابات میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں ان کی پارٹی نے حسینہ کی عوامی لیگ سمیت دیگر سرکردہ جماعتوں کے وسیع بائیکاٹ کے دوران 300 پارلیمانی نشستوں میں سے 278 پر کامیابی حاصل کی تھی، جس نے انتخابات کے دوران نگراں حکومت کا مطالبہ کیا تھا۔ ضیاء کی حکومت صرف 12 دن تک چلی اسی دوران ایک غیرجانبدار نگران حکومت قائم ہوئی اور اسی سال جون میں نئے انتخابات ہوئے۔
خالدہ ضیاء 2001 میں ملک کی مرکزی اسلام پسند جماعت جماعت اسلامی کے ساتھ مشترکہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوئیں۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا ماضی ملک کی آزادی کی جنگ سے متعلق تاریک تھا۔
خالدہ ضیاء حکومت نے سرمایہ کاری کے حامی، کھلی منڈی کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے کاروباری برادری کا اعتماد برقرار رکھا۔ ضیاء کو پاکستان کے لیے نرم گوشہ کے طور پر جانا جاتا تھا اور وہ ہندوستان مخالف سیاسی تقریریں کیا کرتی تھیں۔ بھارت کا الزام تھا کہ خالدہ ضیاء نے مبینہ طور پر 2001-2006 کے دوران بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے باغیوں کو بنگلہ دیش کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔
اس مدت کے دوران خالدہ ضیاء پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ ان کے بڑے بیٹے طارق رحمان ایک متوازی حکومت چلا رہے تھے اور بڑے پیمانے پر بدعنوانی میں ملوث تھے۔

حسینہ سے دشمنی؟
2004 میں، شیخ حسینہ کی پارٹی پروگرام میں ڈھاکہ میں گرینیڈ حملے ہوئے، یہ حملے خالدہ ضیاء حکومت کے لیے اچھے ثابت نہیں ہوئے۔ ان حملوں میں شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پارٹی کے 24 ارکان ہلاک اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔ شیخ حسینہ اس حملے سے بال بال بچ گئیں، جسے انہوں نے قاتلانہ حملے کے طور پر بیان کیا۔ شیخ حسینہ نے خالدہ ضیاء کی حکومت اور طارق رحمان کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیا۔
پھر 2008 عام انتخابات میں شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔
خالدہ ضیاء کی بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے نگراں حکومت کے تنازعہ میں 2014 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا، جس سے حسینہ واجد کی بڑھتی ہوئی آمرانہ حکومت کو یک طرفہ کامیابی ملی۔ بی این پی نے 2018 میں قومی انتخابات میں شمولیت اختیار کی لیکن 2024 میں دوبارہ بائیکاٹ کیا، جس سے حسینہ کو متنازعہ انتخابات کے ذریعے مسلسل چوتھی بار اقتدار میں واپس آنے کا موقع ملا۔
خالدہ ضیاء کو بدعنوانی کے دو الگ الگ مقدمات میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جس میں ان کے مرحوم شوہر کے نام سے منسوب ایک خیراتی ادارے کے فنڈز کے غبن میں اختیارات کا غلط استعمال کرنا بھی شامل تھا۔ ان کی پارٹی نے کہا کہ یہ الزامات سیاسی طور پر اپوزیشن کو کمزور کرنے کے لیے لگائے گئے تھے۔
ضیا کو جیل بھیجنے پر شیخ حسینہ کو ان کے مخالفین اور آزاد ناقدین دونوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

خراب صحت اور سیاست سے دوری
خالدہ ضیاء کو حسینہ کی حکومت نے 2020 میں جیل سے رہا کیا تھا اور اسے کرائے کے گھر میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ جہاں سے وہ باقاعدگی سے ایک نجی اسپتال جاتی تھیں۔ ان کے اہل خانہ نے حسینہ کی انتظامیہ سے بارہا درخواست کی کہ ضیاء کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے، لیکن حسینہ حکومت نے انکار کر دیا۔
15 سال اقتدار میں رہنے کے بعد، حسینہ کو اگست 2024 میں ایک عوامی بغاوت میں بے دخل کر دیا گیا اور وہ ملک سے فرار ہو گئیں۔ ضیا کو بیرون ملک سفر کی اجازت نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت نے دی تھی۔
ضیا برسوں تک سیاست سے دور رہیں اور سیاسی جلسوں میں شرکت نہیں کر پائیں، لیکن وہ اپنی موت تک بی این پی کی چیئرپرسن رہیں۔ ان کے بیٹے طارق رحمان 2018 سے پارٹی کے قائم مقام سربراہ ہیں۔
خالدہ ضیاء آخری بار 21 نومبر کو ڈھاکہ چھاؤنی میں بنگلہ دیشی فوج کی ایک سالانہ تقریب میں دیکھی گئی تھیں، جب یونس اور دیگر سیاسی رہنما ان سے ملے تھے۔ وہ وہیل چیئر پر تھیں۔
ان کے پسماندگان میں ان کے بڑے بیٹے طارق رحمان سیاسی خاندان میں ظاہری وارث ہیں۔ ان کے چھوٹے بیٹے عرفات کا 2015 میں انتقال ہو گیا تھا۔
(ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مشمولات کے ساتھ)
یہ بھی پڑھیں:

