ETV Bharat / international

جاپان نے 58 ارب ڈالر کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی منظوری دے دی

چین کو روکنے کے لیے جاپان نےمیزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے 9 ٹریلین ین کا دفاعی بجٹ منظور کیا ہے۔

جاپان نے 58 ارب ڈالر کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی منظوری دے دی
جاپان نے 58 ارب ڈالر کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی منظوری دے دی (AP)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : December 26, 2025 at 11:55 AM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی: جاپان کی کابینہ نے جمعہ کو آئندہ مالی سال 2026 کے لیے 9 ٹریلین ین (تقریباً 58 بلین امریکی ڈالر) کے دفاعی بجٹ کی منظوری دی ہے۔ یہ اب تک کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد خطے میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے درمیان ملکی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔

گزشتہ سال کے مقابلے 9.4 فیصد زیادہ اخراجات

اپریل سے شروع ہونے والے مالی سال 2026 کے لیے پیش کیے جانے والے بجٹ کا مسودہ گزشتہ سال کے مقابلے 9.4 فیصد زیادہ ہے۔ یہ جاپان کے پانچ سالہ دفاعی توسیعی منصوبے کا چوتھا سال ہے، جس کا مقصد فوجی اخراجات کو مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے دو فیصد تک بڑھانا ہے۔

چین اور تائیوان کشیدگی کے اثرات

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین کے ساتھ جاپان کی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی پہلے ہی اشارہ دے چکی ہیں کہ اگر چین تائیوان کے خلاف فوجی کارروائی کرتا ہے تو جاپان مداخلت کر سکتا ہے۔ بیجنگ اور ٹوکیو کے درمیان تعلقات تائیوان کو لے کر کشیدہ ہیں۔

امریکی دباؤ اور اسٹریٹجک تبدیلی

امریکی دباؤ کی وجہ سے جاپان نے مارچ تک دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے دو فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو پہلے سے طے شدہ ہدف سے دو سال پہلے ہے۔ مزید برآں، جاپان دسمبر 2026 تک اپنی سیکیورٹی اور دفاعی پالیسی میں بڑی تبدیلیاں کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

میزائل اور ڈرون فوکس

نئے دفاعی بجٹ میں کروز میزائلوں اور بغیر پائلٹ کے ہتھیاروں کی خریداری پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ جنوب مغربی جزائر کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور ڈرون تعینات کیے جائیں گے۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کی پالیسی سے ایک بڑی تبدیلی ہے، جس نے فوجی کارروائی کو اپنے دفاع تک محدود کر دیا ہے۔

ٹائپ 12 میزائلوں کی تعیناتی

بجٹ میں اسٹینڈ آف میزائل کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے 970 بلین ین سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے۔ اس میں ٹائپ 12 سطح سے جہاز تک مار کرنے والے میزائلوں کی خریداری بھی شامل ہے، جن کی رینج تقریباً 1000 کلومیٹر ہے۔ ان میزائلوں کی پہلی کھیپ مارچ تک کماموٹو خطے میں تعینات کی جائے گی۔

بغیر پائلٹ کے ہتھیاروں پر بڑھتا ہوا انحصار

جاپان کی کم ہوئی آبادی اور محدود فوجی قوت کے پیش نظر حکومت بغیر پائلٹ کے ہتھیاروں کو اپنی مستقبل کی سیکیورٹی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ سمجھ رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈرونز اور خودکار نظام فوج کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: