ETV Bharat / international

ایران کا ٹرمپ کی دھمکی پر سخت ردعمل، کہا۔۔ منہ توڑ جواب دیا جائے گا

ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو امریکہ فوجی حملہ کر سکتا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان (AP)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : December 31, 2025 at 2:22 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

تہران (ایران): امریکی صدر کی جانب سےایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کے انتباہ کے جواب میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے منگل کے روز کہا کہ ان کا ملک کسی حملے کا سخت جواب دے گا۔ پیزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، "اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے کسی بھی وحشیانہ حملے کا سخت اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔"

پیزشکیان نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، لیکن ان کا یہ بیان ٹرمپ کی دھمکی کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے، اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو امریکہ فوجی حملہ کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ تبصرہ فلوریڈا میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کے ساتھ بات چیت کے دوران کیا۔

ٹرمپ نے نتن یاہو سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ، ’’اب میں نے سنا ہے کہ ایران دوبارہ طاقت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ "اور اگر وہ ایسا کر رہے ہیں تو ہمیں انہیں تباہ کرنا ہو گا۔ ہم انہیں تباہ کر دیں گے۔ ہم انہیں بری طرح تباہ کر دیں گے، لیکن امید ہے کہ ایسا نہیں ہو رہا ہے۔"

دونوں (ٹرمپ اور نتن یاہو) رہنماؤں نے جون میں تہران کے خلاف ہوئی 12 روزہ فضائی کارروائی کے بعد تبادلہ خیال کیا۔ اس فوجی کارروائی میں ایران کے سینیئر فوجی کمانڈروں اور سائنسدانوں سمیت تقریباً 1,100 شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ ایران کے جوابی میزائل حملے میں اسرائیل میں 28 افراد ہلاک ہو ئے تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا، "اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے، تو وہ اس کے نتائج کو جانتے ہیں، اور اس کے نتائج بہت اہم ہوں گے، شاید پچھلی بار سے بھی زیادہ اہم۔" پیزشکیان نے ہفتے کے روز کہا کہ دونوں طرف سے پہلے ہی کشیدگی بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ، اسرائیل اور یورپ کے ساتھ بھرپور جنگ میں ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ ہمارا ملک مستحکم ہو۔

ایران نے اصرار کیا ہے کہ وہ اب ملک میں کہیں بھی یورینیم کی افزودگی نہیں کر رہا ہے، اور مغرب کو یہ اشارہ دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر ممکنہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا اندازہ ہے کہ ایران نے آخری بار 2003 میں جوہری ہتھیاروں کا منظم پروگرام کیا تھا، حالانکہ تہران یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر رہا ہے، جو کہ ہتھیاروں کے درجے کی سطح 90 فیصد سے کافی قریب ہے۔

یہ بھی پڑھین: