ایران میں جاری مظاہروں میں کم از کم 35 افراد ہلاک، 1200 کو حراست میں لیا گیا
بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اور مہنگائی کے بحران کے خلاف ایران کے 31 میں سے 27 صوبوں میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔

Published : January 6, 2026 at 9:57 AM IST
دبئی، متحدہ عرب امارات: ایران کی خراب ہوتی اقتصادی صورتحال اور مہنگائی کے خلاف عوام کا ایک طبقہ سڑکوں پر ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہرے کبھی کبھی پرتشدد بھی ہو جاتے ہیں۔ ان مظاہروں میں کم از کم 35 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ کارکنوں نے منگل کو بتایا کہ مظاہرے رکنے کے فی الحال کوئی آثار نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔
امریکہ ایران میں جاری مظاہروں پر نظر بنائے ہوئے ہے۔ صدر ٹرمپ وقتاً فوقتاً ایران کو اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکی بھی دیتے رہتے ہیں۔
ہلاکتوں اور گرفتاریوں کے یہ اعداد و شمار بھی امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق ایک ہفتے سے زائد عرصے سے جاری مظاہروں میں 1200 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ 29 مظاہرین، چار بچے اور ایران کی سیکورٹی فورسز کے دو ارکان اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ایران کے 31 میں سے 27 صوبوں میں جاری مظاہرے 250 سے زیادہ مقامات تک پہنچ چکے ہیں۔
ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی اپنی رپورٹنگ کے لیے ایران کے اندر ایک سرگرم نیٹ ورک پر انحصار کرتی ہے۔ اس کے اعداد وشمار ماضی میں ہوئیں بدامنی میں بالکل درست ثابت ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی، جسے ایران کے نیم فوجی پاسداران انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، نے پیر کو دیر گئے اطلاع دی کہ مظاہروں میں تقریباً 250 پولیس افسران اور گارڈ کی رضاکار بسیج فورس کے 45 ارکان زخمی ہوئے ہیں۔
مظاہروں میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ان میں امریکی مداخلت کا امکان پیدا کررہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تہران پرامن مظاہرین کو پرتشدد طریقے سے دبانے کی کوشش کرتا ہے تو امریکہ ان (مظاہرین) کے بچاؤ کے لیے آئے گا۔
حالانکہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ کس طرح اور کس انداز میں ایران کے داخلی امور میں مداخلت کریں گے۔ ٹرمپ کے تبصروں سے ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ امریکی صدر کے بیان سے ناراض تھیوکریسی کے اندر موجود عہدیداروں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ ہفتے کے روز امریکی فوج کی جانب سے تہران کے دیرینہ اتحادی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے بعد یہ تبصرے نئی اہمیت اختیار کر گئے تھے۔
ایسا دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ موجودہ مظاہرے 2022کے بعد ایران میں سب سے بڑے مظاہرے بن گئے ہیں۔ 2022 میں پولیس حراست میں 22 سالہ ماہا امینی کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ ماہا امینی کو حکام کی پسند کے مطابق حجاب یا اسکارف نہ پہننے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ حالانکہ موجودہ احتجاج اور 2022 کے احتجاج میں زمین آسمان کا فرق نظر آرہا ہے کیونکہ یہ ابھی اتنے شدید نہیں ہوئے ہیں۔
ایران کو حالیہ برسوں میں ملک گیر احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایران اسرائیل کے ساتھ 12 دن کی جنگ کے بعد جدوجہد کر رہا تھا، ایسے حالات میں پابندیاں سخت کر دی گئیں۔ جس کے نتیجے میں دسمبر میں اس کی ریال کرنسی 1.4 ملین سے ایک ڈالر تک پہنچ گئی۔ ملک کی خراب ہوتی اقتصادی صورتحال نے احتجاج کو جنم دیا۔
احتجاج کے اس تازہ ترین دور کے پیمانے کو سمجھنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے مظاہروں کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم کی ہیں۔ سوشل میڈیا پر آن لائن ویڈیوز صرف گلیوں میں لوگوں کی ہلکی جھلک یا گولی چلنے کی آواز ہی دکھا رہے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہفتے کے روز مظاہرے ختم کرنے کی اپیل کی تھی، لیکن احتجاج رکتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

