ETV Bharat / international

سعودی عرب: ایرانی ڈرون نے سب سے بڑی آرامکو آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، بھیانک آگ کا ویڈیو منظر عام پر

سعودی آرامکو نے ڈرون حملے کے بعد راس تنورا ریفائنری بند کر دی۔

سعودی عرب: ایرانی ڈرون نے سب سے بڑی آرامکو آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، بھیانک آگ کا ویڈیو منظر عام پر
سعودی عرب: ایرانی ڈرون نے سب سے بڑی آرامکو آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، بھیانک آگ کا ویڈیو منظر عام پر (ANI)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : March 2, 2026 at 2:49 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

پیر کے روز ڈرون ایرانی ڈرون حملے کی زد میں آنے کے بعد سعودی آرامکو نے اپنی راس تنورا ریفائنری میں آپریشن بند کر دیا ہے۔ راس تنورا ریفائنری مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے تیل کے مرکزوں میں سے ایک ہے۔ مملکت کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے، آنے والے طیارے کو مار گرایا گیا ہے۔

سعودی فوج کے ترجمان نے یہ اعلان سرکاری سعودی پریس ایجنسی پر کیا۔ سائٹ سے آن لائن ویڈیوز میں حملے کے بعد گاڑھا سیاہ دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ دمام کے قریب راس تنورا کی روزانہ خام تیل کی گنجائش نصف ملین بیرل سے زیادہ ہے۔ اس ریفائنری کا بند ہونا خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں وسیع تر رکاوٹ کے خدشات کو بڑھاتی ہے۔

آرامکو کے میڈیا آفس نے ابھی تک اس حملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم سعودی وزارت دفاع کے ترجمان نے العربیہ ٹی وی کو بتایا کہ سعودی آرامکو کی راس تنورہ تنصیب کو نشانہ بنانے والے دو ڈرونز کو روک لیا گیا۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب آبنائے ہرمز سے جہاز مالکان نے حفاظتی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرانزٹ کو معطل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے تیل کی عالمی منڈی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں چار سال کا سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز تنگ راستہ ہے جو دنیا کے روزانہ تیل کے بہاؤ کا تقریباً 20 فیصد تک سنبھالتا ہے۔

ہفتے کے روز اسرائیل امریکہ کے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی آپریشن ایران تنازع ایک غیر مستحکم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران بھر میں اہداف پر میزائل حملے شروع کیے۔ اس کے جواب میں تہران نے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین میں اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں اور دیگر اہداف پر حملوں کی بیراج کے ساتھ جواب دیا۔

دوسری جانب ایرانی حملوں پر سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس نے خلیج میں بڑھتے ہوئے تنازعہ کے درمیان دارالحکومت ریاض کے ارد گرد کے علاقوں کے ساتھ ساتھ مملکت کے مشرقی علاقے کے مقامات کو نشانہ بنانے والے بزدلانہ ایرانی حملوں کو پسپا کر دیا ہے۔ ریاض نے تہران کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ، مملکت نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ اس کی سرزمین اور فضائی حدود ایران کے خلاف امریکی یا اسرائیلی کارروائیوں میں استعمال نہیں ہو رہی ہیں۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کو "کسی بھی بہانے یا کسی بھی طرح سے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے، اور یہ ایرانی حکام کے علم کے باوجود کہ مملکت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا"۔ سعودی حکام نے حملوں کے سلسلے میں مملکت میں ایران کے سفیر علی رضا عنایتی کو بھی ریاض میں طلب کیا۔

یہ بھی پڑھیں: