امریکہ نے حملہ کیا تو امریکی و اسرائیلی مفادات نشانہ ہوں گے: ایران کی کھلی دھمکی، احتجاجی ہلاکتوں کی تعداد 116 تک جا پہنچی
قالیباف، جو ایک سخت گیر رہنما سمجھے جاتے ہیں، نے مظاہروں کے دوران پولیس، پاسدارانِ انقلاب اور بسیج فورسز کی تعریف کی۔

Published : January 11, 2026 at 4:23 PM IST
دبئی / تہران: ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں دارالحکومت تہران اور ملک کے دوسرے بڑے شہر مشہد سمیت متعدد شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق، مظاہروں اور سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں اب تک کم از کم 116 افراد ہلاک جبکہ 2,600 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
اسی دوران ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ اور اسرائیل کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو امریکی فوجی اڈے، بحری جہاز اور اسرائیلی اہداف ایران کے لیے ’’جائز ہدف‘‘ ہوں گے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران ارکان نے ڈائس کا گھیراؤ کرتے ہوئے ’’امریکہ مردہ باد‘‘ کے نعرے لگائے، جس کی براہِ راست نشریات سرکاری ٹی وی پر دکھائی گئیں۔
قالیباف، جو ایک سخت گیر رہنما سمجھے جاتے ہیں، نے مظاہروں کے دوران پولیس، پاسدارانِ انقلاب اور بسیج فورسز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مظاہرین سے ’’انتہائی سختی‘‘ سے نمٹے گی۔ انہوں نے اسرائیل کو ’’مقبوضہ علاقہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی حملے کا انتظار نہیں کرے گا بلکہ خطرے کی علامات نظر آنے پر پیشگی کارروائی بھی کر سکتا ہے۔
ایران میں انٹرنیٹ اور بین الاقوامی فون سروسز معطل ہیں، جس کے باعث ملک سے باہر بیٹھے مبصرین کے لیے حالات کا درست اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اطلاعاتی بلیک آؤٹ سخت گیر عناصر کو مزید خونی کریک ڈاؤن کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ’’امن پسند مظاہرین کے تحفظ کے لیے تیار ہے‘‘۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آپشنز پیش کیے جا چکے ہیں، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود مظاہرے جاری، آسٹریلیا، کینیڈا، یورپی یونین کا مشترکہ بیان
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کریک ڈاؤن کے اشارے دیے ہیں، جبکہ اٹارنی جنرل نے مظاہروں میں شامل افراد کو ’’دشمنِ خدا‘‘ قرار دیتے ہوئے سزائے موت تک کی دھمکی دی ہے۔ یہ مظاہرے 28 دسمبر کو ایرانی کرنسی ریال کی تاریخی گراوٹ کے بعد شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں ایران کی مذہبی حکومت کے خلاف کھلی بغاوت میں تبدیل ہو گئے۔

