ایران-امریکہ جنگ بندی معاہدہ ختم، ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا
امریکی صدر کے ایران کے ساتھ ایم او یو کو ختم کرنے کےاعلان کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں 6 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔

Published : July 8, 2026 at 3:22 PM IST
انقرہ، ترکی: ایران پر 80 سے زائد اہداف پر حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو اجلاس میں میڈیا نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ، ان کے خیال میں ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت ’’ختم‘‘ ہوچکی ہے۔ ٹرمپ نے کہا ، "ان (ایران) کے ساتھ بات چیت صرف وقت کا ضیاع ہے۔
اس بیان کے فوری بعد ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی نمائندے مذاکرات جاری رکھ سکتے ہیں لیکن انہوں نے اس کے نتائج پر شک ظاہر کیا۔ ٹرمپ نے کہا، "وہ بات کر سکتے ہیں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں،" انہوں نے کہا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے بعد کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات شروع ہونے والے تھے۔
بات چیت کا مقصد مشکل ترین معاملات پر توجہ مرکوز کرنا ہے، بشمول آبنائے کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا اور تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام کو واپس لینا۔
ٹرمپ کے اعلان کے فوری بعد ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں امریکہ کو سخت انتباہ دیا۔
قالیباف نے لکھا، "غنڈہ گردی اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو گیا ہے، ہم نہیں جھکیں گے۔"
پاکستان، قطر اور ترکی کی ثالثی میں گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران نے سوئٹزرلینڈ میں ایک ایم او یو پر دستخط کیے تھے جس کے بعد جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی تھی۔ اس ایم او یو ایران کے منجمد اثاثوں اجرا سمیت ایران کو بین الاقوامی بازار میں تیل فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی اور ایم او یو ختم کرنے والے بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چھ فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ یہی نہیں اس اعلان کے ساتھ اسٹاک میں تیزی سے گراوٹ آئی۔
برینٹ کروڈ کی قیمت چھ فیصد بڑھ کر 78 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ یوروپی اسٹاک اس دن 1.6 فیصد گر گئے۔ ڈالر مضبوط ہوا۔
امریکہ نے ایرانی تیل کی فروخت کا لائسنس منسوخ کر دیا
ایران پر تازہ حملوں سے پہلے، امریکہ نے عبوری معاہدے کے ایک حصے کے طور پر ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دینے والا لائسنس منسوخ کر دیا تھا۔ اس لائسنس نے تہران پر تیل فروخت کرنے کی امریکی پابندیوں کو روک دیا تھا اور ایران کو برسوں میں پہلی بار امریکی ڈالر میں تیل کی کھلے عام فروخت کرنے کی اجازت دی تھی۔
یہ فیصلہ جہاز رانی پر ایک حملے کے بعد کیا گیا۔ یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے بتایا کہ ایک ٹینکر عمان کے ساحل سے دور تھا جب اسے نشانہ بنایا گیا جس سے اس میں آگ لگ گئی۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا کہ ٹینکر انتباہات کو نظر انداز کرنے کے بعد حملے کی زد میں آیا لیکن اس نے براہ راست حملے کا دعویٰ نہیں کیا۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ ٹینکر قطری قدرتی گیس لے جا رہا تھا۔ قطر نے حملے کو بین الاقوامی نیویگیشن اور عالمی توانائی کی سلامتی پر ایک "ناقابل قبول حملہ" قرار دیا۔
ایران اور امریکہ نے عبوری معاہدے کے ایک حصے کے طور پر بحری جہازوں کو 60 دن تک ٹول ادا کیے بغیر آبنائے سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا۔ لیکن تہران نے اصرار کیا ہے کہ اسے جہازوں کے راستوں کو کنٹرول کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہونا چاہیے۔ تہران نے کہا تھا اسےآبنائے سے گزرنے کے لیے فیس وصول کرنے کا حق حاصل ہے۔ منگل کو حملہ کرنے والے تمام بحری جہاز آبنائے ہرمز کے بجائے عمان کے ساحل کے قریب کا راستہ استعمال کر رہے تھے۔
امریکہ اور کئی خلیجی عرب ریاستوں کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے سے گزرنے کے لیے ایران سے معاوضہ لینے سے اتفاق نہیں کریں گے۔
ایران نے امریکہ کے فضائی حملوں کی مذمت کی
ایران کی وزارت خارجہ نے جنوبی ایران میں امریکی حملوں کے بعد واشنگٹن کی طرف سے "جارحانہ حملوں اور مفاہمت کی یادداشت کی سنگین خلاف ورزی" کی شدید مذمت کی ہے۔
وزارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور سکریٹری جنرل کو ان کی ذمہ داریوں کی یاددہانی کراتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی مسلح افواج "امریکی فوجی جارحیت کے خلاف ایران کی علاقائی سالمیت، قومی خودمختاری اور قومی سلامتی کا دفاع کرنے میں دریغ نہیں کریں گی۔
یہ بھی پڑھیں:

