ETV Bharat / international

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جلوسِ جنازہ تہران سے شروع

سابق سپریم لیڈر خامنہ ای کے جنازے کا جلوس عراق تک لے جائے گا۔ اس میں بڑی تعداد میں عوام کی شرکت کا امکان ہے۔

Iran begins a procession through Tehran for Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei's funeral
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جلوسِ جنازہ تہران سے شروع (AP)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : July 6, 2026 at 9:22 AM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

تہران: ایران نے پیر کو اپنے دارالحکومت تہران سے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کے جلوس کا آغاز کر دیا ہے۔ اس دوران ایرانی پرچم میں لپٹے خامنہ ای اور ان کے افراد خاندان کے تابوتوں کو مختلف علاقوں سے گزارا جائے گا۔ واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کے پہلے ہی دن اسرائیل اور امریکہ نے سابق رہبر اعلیٰ خامنہ ای سمیت متعدد سرکردہ رہنماؤں کو جاں بحق کر دیا تھا۔

خامنہ کے جنازہ جلوس کو تہران کی سڑکوں سے ہوتے ہوئے مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر لے جایا جائے گا۔ سابق رہبر اعلیٰ اور ایران حکومت کے تئیں عوامی حمایت کے اظہار کرنے کے لیے شہر بھر میں نکالے جا رہے اس جلوس میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کا امکان ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی کہ جلوس شروع ہو گیا ہے۔ حکام نے سوگ کے لیے سڑکوں، فضائی حدود اور معمول کے کاموں کو بند کر دیا ہے، یہ جلوس جمعرات کو اس وقت ختم ہو گا جب 86 سالہ خامنہ ای کو ان کی جائے پیدائش مشہد میں امام رضا کے مزار پر دفن کیا جائے گا۔

اس دوران امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے آگے بڑھ رہا ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا، اپنے متنازع جوہری پروگرام کو واپس لینا اور جنگ کے مستقل خاتمے تک پہنچنا ہے۔ فی الحال خامنہ ای کی تدفین تک مذاکرات رکے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

جنازے میں خامنہ ای کے تین بیٹوں کی شرکت اور لاکھوں کا ہجوم

گذشتہ روز تہران میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ اس دوران ایران کے اعلیٰ حکام اور سابق سپریم لیڈر کے فرزندان نے اتوار کو نماز جنازہ میں شرکت کے لیے عوامی سطح پر سامنے آئے۔ خامنہ ای کے بیٹے مسعود، میثم اور مصطفیٰ جو جنگ کے بعد سے نظر نہیں آئے تھے، نے نماز جنازہ میں ایک ساتھ شرکت کی۔ انہوں نے ایک ساتھ سامنے آ کر ایرانی عوام کو اتحاد اور اعتماد کا پیغام دیا۔

دریں اثنا نماز جنازہ میں شریک لاکھوں کے ہجوم نے "مرگ بر امریکہ" اور "مرگ بر اسرائیل" کے نعرے لگائے اور 28 فروری کے حملے کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا جس میں 86 سالہ سپریم لیڈر اور دیگر اعلیٰ حکام جاں بحق ہو گئے۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کا مطالبہ کیا۔

موجودہ رہبر اعلیٰ جنازے میں شامل نہیں ہوئے

ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے مقتول والد کے جنازے کی تقریبات میں شرکت نہیں کی ہے، جو کئی دنوں سے جاری ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مبینہ طور پر فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد سے روپوش ہیں اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے درپیش خطرات کے پیش نظر جنازے میں شرکت نہیں کی۔

اتوار کو جنازے میں شریک ایک نرس زیبا نادری نے کہا کہ ایران کو مجتبیٰ خامنہ ای کے احکامات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بدلہ لینے کی آواز سنی، لیکن ہمارے لیڈر کو یہ کہنا چاہیے کہ ہمیں کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ "اور ہمیں ان کی بات سننی چاہیے۔"

جنازے میں اعلیٰ ایرانی قائدین کی شرکت

97 سالہ شیعہ عالم آیت اللہ جعفر سبحانی نے تہران کے عظیم الشان مسجد میں مقتول رہبر خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی نماز کی امامت کی۔

نماز جنازہ میں انقلابی گارڈ کے سربراہ جنرل احمد واحدی، جنہوں نے جمعرات کو جنگ کے بعد پہلی بار تصویر کھنچوائی، کو صحافیوں کے ہجوم میں دیکھا گیا، جو سادہ لباس میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ اور سیاہ ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔

ایران کے صدر مسعود پیزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف - جنہوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کی- اور اسماعیل قانی، جو پاسداران انقلاب کی قدس فورس کی قیادت کرتے ہیں، نے بھی شرکت کی۔

(مختلف ایجنسیوں کے ان پٹ کے ساتھ)

مزید پڑھیں:

ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا دوسرا روز، لاکھوں سوگوار شریک

اگر چاہیں تو آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شریک تمام اعلی ایرانی رہنماؤں کو ختم کرسکتے ہیں: امریکی صدر

خامنہ ای کی آخری رسومات: قالیباف اور عراقچی پھوٹ پھوٹ کر روئے، آخری دیدار کیلئے امڈ پڑا انسانی سروں کا سیلاب