ایران کا افزودہ یورینیم کو ذخیرہ نہیں کرنے پر اتفاق، عمان کے وزیر خارجہ نے کہا "امن ہماری پہنچ میں"
ایران-امریکہ کشیدگی کے بیچ چین، فرانس، اٹلی، امریکہ اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو ایران سے فوری نکلنے اور سفرنہیں کرنے کی ہدایت دی ہے۔

Published : February 28, 2026 at 12:08 PM IST
عمان کے اعلیٰ سفارت کار نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کے دوران اس بات پر اتفاق کیا کہ افزودہ یورینیم کو کبھی بھی ذخیرہ نہیں کیا جائے گا اور مکمل بیرونی معائنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ جمعرات کو جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت کے تیسرے دور کی ثالثی کے بعد، واشنگٹن ڈی سی میں سی بی ایس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں بدر البوسیدی نے کہا کہ، "ایک امن معاہدہ ہماری پہنچ میں ہے، اگر ہم سفارت کاری کو وہ مقام فراہم کرتے ہیں جہاں اسے پہنچنے کی ضرورت ہے۔"
امریکہ-ایران جوہری مذاکرات میں شامل عمان کے وزیر خارجہ البوسیدی نے بات چیت میں اسے اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ، امریکہ چاہتا ہے ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونا چاہیے، اگر ایران افزودہ یورینیم ذخیرہ نہیں کرتا تو جوہری ہتھیار تیار کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے نیوکلیئر واچ ڈاگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "آئی اے ای اے (انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی) کی طرف سے مکمل اور جامع تصدیق" بھی ہوگی۔
جمعرات کو جنیوا میں ایران-امریکہ جوہری مذاکرات کا ایک اور دور بغیر کسی معاہدے کے اختتام پذیر ہو گیا۔ تکنیکی مذاکرات اگلے ہفتے ویانا میں ہونے والے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا کہ "ہم نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں" لیکن انہوں نے اس بارے میں کوئی خاص تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ایران طویل عرصے سے اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے اقدامات کے بدلے بھاری بین الاقوامی پابندیوں سے نجات کا مطالبہ کر رہا ہے۔
سی بی ایس نیوز پر اپنے انٹرویو سے پہلے، البوسیدی نے جمعہ کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی تاکہ بات چیت پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ البوسیدی نے کہا کہ، آنے والے دنوں میں مزید ٹھوس عمل کی امید کرتا ہوں۔ امن ہماری پہنچ میں ہے۔"
ٹرمپ نے مذاکرات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، مزید وقت دینے کے لیے تیار:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر نئے مذاکرات سے "خوش نہیں" ہیں، لیکن اشارہ دیا کہ وہ مذاکرات کاروں کو مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ کو روکنے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت دیں گے۔
ٹرمپ نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے جمعہ کو ٹیکساس کے دورے کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ایرانی مذاکرات کار "آگے بڑھنا نہیں چاہتے۔ یہ بہت بری بات ہے۔"
امریکی فوجی مشرق وسطیٰ میں تعینات ہیں اور ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام پر کسی بڑے معاہدے پر راضی نہیں ہوا تو فوجی کارروائی کی جائے گی۔ ایران پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کے اپنے حق کو برقرار رکھنے اور جوہری ہتھیار تیار نہیں کرنے کی یقین دہانی کرا چکا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، "میں خوش نہیں ہوں کہ وہ ہمیں وہ دینے کو تیار نہیں ہیں جو ہماری ضرورت ہے۔ میں اس سے خوش نہیں ہوں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ ہم بعد میں بات کریں گے۔ ہم جس طرح سے بات چیت کر رہے ہیں اس سے ہم بالکل خوش نہیں ہیں۔ ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے۔" ٹرمپ کے منفی اندازے کے باوجود، عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اگر مذاکرات کا عمل آگے بڑھے گا تو معاہدہ ممکن ہے۔
البوسیدی نے کہا، "اگر میں صدر ٹرمپ ہوتا تو میرا صرف یہی مشورہ ہوتا کہ ان مذاکرات کاروں کو کافی وقت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ ان باقی مسائل پر بھی بات چیت ہو سکے جن پر اتفاق کرنے کی ضرورت ہے۔"
دوسری جانب ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایران کو کسی بھی مقدار میں یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی جائے اور کہا کہ تیل کی دولت سے مالا مال ملک کو اپنے توانائی پروگرام کے لیے یورینیم کی افزودگی کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ جب ایک رپورٹر نے ٹرمپ سے پوچھا کہ وہ فوجی کارروائی کے فیصلے کے کتنے قریب ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں آپ کو نہیں بتانا چاہتا۔
امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کا دورہ کریں گے:
دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو آئندہ ہفتے کے اوائل میں اسرائیل کے مختصر دورے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
روبیو کے دورے کا اعلان اور ٹرمپ کے نئے بیانات کسی بھی ممکنہ حملے کے لیے طویل ٹائم لائن کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ محکمہ خارجہ نے کہا کہ روبیو پیر اور منگل کو اسرائیل کا دورہ کریں گے تاکہ "متعدد علاقائی ترجیحات پر تبادلہ خیال کریں، جن میں ایران، لبنان اور غزہ کے لیے صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے جاری کوششیں بھی شامل ہیں۔"
روبیو کے دورے کا اعلان یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے غیر ضروری عملے اور کنبہ کے افراد کے لیے "مجاز روانگی" کی حیثیت کو نافذ کرنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، یعنی اہل ملازمین سرکاری خرچ پر اپنی مرضی سے ملک چھوڑ سکتے ہیں۔
مختلف ممالک نے ایران اور اسرائیل سے متعلق سفری ایڈوائزری جاری کردی:
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق علاقائی کشیدگی کی وجہ سے فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کو اسرائیل، یروشلم اور مغربی کنارے کا سفر نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ متعدد ممالک جن میں اٹلی، امریکہ، برطانیہ اور چین شامل ہیں، اپنے شہریوں کو ایران و اسرائیل سے متعلق سفری ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ان ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران کا سفر نہیں کرنے اور وہاں موجود افراد کو جلد از جلد ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔
(اے پی کے مشمولات کے ساتھ)
یہ بھی پڑھیں:

