ETV Bharat / international

آج جنیوا میں ایران امریکہ جوہری مذاکرات، تہران کا ٹرمپ پر 'بڑے جھوٹ' بولنے کا الزام

ایران نے ٹرمپ پر ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور احتجاج کے دوران ہلاکتوں پر 'بڑے جھوٹ' بولنے کا الزام عائد کیا۔

Women walk past a mural at a girls school at Enqelab-e-Eslami, or Islamic Revolution Street in downtown Tehran, Iran, Wednesday,
پچیس فروری 2026 کو ایران کے شہر تہران میں اسلامی انقلاب سٹریٹ پر لڑکیوں کے اسکول کے پاس سے گزرتی خواتین (AP)
author img

By AP (Associated Press)

Published : February 26, 2026 at 8:37 AM IST

6 Min Read
Choose ETV Bharat

دبئی: تہران کے جوہری پروگرام پر آج جنیوا میں تیسرے دور کے مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جنیوا پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ امریکہ کی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات کریں گے جس کی قیادت مشرق وسطیٰ کے خصوصی امریکی ایلچی سٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کُشنر کر رہے ہیں۔ تاہم ان مذاکرات سے قبل ایران نے بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے ہتھکنڈوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کے بیان کو "بڑا جھوٹ" قرار دیا اور مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ "باعزت سفارت کاری" کے ذریعے ہی کسی معاہدہ تک پہنچ سکتے ہیں۔

دو ایرانی عہدیداروں نے یہ ریمارکس جنیوا مذاکرات سے ایک روز قبل دیے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے جنگی طیاروں اور طیارہ بردار بحری جہازوں کئی دہائیوں میں اب تک سب سے بڑی تعیناتی کی ہے۔ یہ تعیناتی ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

ٹرمپ نے بارہا دھمکی دی ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ ایران پر حملہ کریں گے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران پر حملہ ایک نئی علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے کیونکہ اسرائیل اور حماس کی طول جنگ کے انگارے اب بھی سلگ رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ حملے کی صورت میں مشرق وسطیٰ میں تمام امریکی فوجی اڈوں کو جائز اہداف تصور کیا جائے گا، جس سے ہزاروں امریکی فوجیوں کو خطرہ لاحق ہو گا۔

اسٹیٹ آف دی یونین تقریر میں ٹرمپ کا الزام

ٹرمپ نے منگل کو دیر گئے واشنگٹن میں اپنی اسٹیٹ آف دی یونین تقریر میں ایران اور جوہری مذاکرات پر بات کی۔ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ "وہ پہلے ہی ایسے میزائل تیار کر چکے ہیں جو یورپ اور بیرون ملک ہمارے اڈوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، اور وہ ایسے میزائل بنانے پر کام کر رہے ہیں جو جلد ہی امریکہ تک پہنچ جائیں گے۔" "انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ وہ اپنے ہتھیاروں کے پروگرام اور خاص طور پر جوہری ہتھیاروں کی تعمیر نو کے لیے مستقبل میں کوئی کوشش نہ کریں، پھر بھی وہ اسے شروع کر رہے ہیں۔"

وہیں امریکہ کے سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو "ہمیشہ دوبارہ بنانے کی کوشش" کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران اس وقت یورینیم کی افزودگی نہیں کر رہا ہے، لیکن وہ اس مقام تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں سے وہ بالآخر اسے بحال کر سکتے ہیں۔

مغرب اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا الزام ہے کہ ایران کے پاس 2003 تک جوہری ہتھیاروں کا پروگرام تھا۔ جون کے حملے سے پہلے، وہ یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر رہا تھا جو ہتھیاروں بنانے کی سطح 90 فیصد سے کچھ قدم دور تھا۔

ٹرمپ کے الزام پر ایران کا رد عمل

ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے ان کا موازنہ ایڈولف ہٹلر کے پروپیگنڈہ وزیر جوزف گوئبلز سے کیا۔ انہوں نے ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ پر ایران کے خلاف "غلط جانکاری اور پروپگنڈہ مہم" چلانے کا الزام لگایا۔

باغائی نے ایکس پر لکھا کہ "وہ ایران کے جوہری پروگرام، ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور جنوری کی بدامنی کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے جو کچھ بھی الزام لگا رہے ہیں، وہ محض 'بڑے جھوٹ' کی تکرار ہے۔"

واضح رہے کہ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ گزشتہ ماہ ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 32,000 افراد ہلاک ہوئے، جو کہ مغربی ایجنسیوں کی طرف سے پیش کیے گئے تخمینے سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی نے اب تک تقریباً 7000 ہلاکتوں کا تخمینہ لگایا ہے۔ ایجنسی کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

وہیں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے موجودہ حالات پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ یا تو سفارت کاری کی کوشش کر سکتا ہے یا پھر ایران کے غضب کا سامنا کر سکتا ہے۔

قالیباف نے کہا کہ "اگر آپ ڈپلومیسی کی میز کا انتخاب کرتے ہیں - ایک ایسی سفارت کاری جس میں ایرانی قوم کے وقار اور باہمی مفادات کا احترام کیا جاتا ہے - تو ہم بھی اس میز پر ہوں گے۔ لیکن اگر آپ دھوکے، جھوٹ، غلط تجزیوں اور غلط معلومات کے ذریعے ماضی کے تجربات کو دہرانے کا فیصلہ کرتے ہیں اور مذاکرات کے درمیان حملہ کرتے ہیں، تو بلاشبہ آپ کو ایرانی قوم اور ملک کی دفاعی قوتوں کی سخت مار کا مزہ چکھنا پڑے گا۔"

(ایجنسی رپورٹ کچھ ترمیم کے ساتھ)

مزید پڑھیں:

ایران پر حملوں کے خدشات کے بیچ سی آئی اے کا 'مخبروں' کو مشورہ، کہا پرائیویٹ ویب براؤزرز استعمال کریں

ایران میں ہندوستانی طلباء وطن واپسی کی ایڈوائزری کے درمیان مخمصے کا شکار، یونیورسٹیوں سے نہیں مل رہی ہے اجازت

ہندوستانی شہری جلد از جلد ایران چھوڑ دیں، بھارت نے ایڈوائزری جاری کی، کیا جلد ہونے والا ہے حملہ؟

ٹرمپ نے کہا، ایران کے پاس جوہری معاہدے کے لئے 10 سے 15 دن کا وقت

امریکہ کی حملے کی دھمکی کے بیچ ایران کی روسی بحریہ کے ساتھ جنگی مشق

امریکی فوج سنیچر تک ایران پر حملے کیلئے تیار، حتمی فیصلہ باقی، وائٹ ہاؤس نے کہا، ڈیل تہران کیلئے 'دانشمندانہ' قدم ہوگا