بنگلہ دیش کے ساتھ بھارت کے تعلقات مزید کشیدہ، بھارت نے سفارتی اہلکاروں کے اہل خانہ کو واپس بلا لیا
حسینہ واجد کے خاتمے کے بعد محمد یونس کے اقتدار میں آنے کے بعد ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔


Published : January 21, 2026 at 11:12 AM IST
نئی دہلی: بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات ٹھیک نہیں چل رہے۔ سکیورٹی صورتحال کی روشنی میں ہندوستان نے اپنے مشن کے اہلکاروں کے اہل خانہ کو واپس بلا لیا ہے۔ تاہم وہاں ہندوستانی مشن مکمل طور پر معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔ لیکن ہندوستانی حکومت نے بنگلہ دیش میں اپنے ہائی کمیشن اور دیگر مشنز کے اہلکاروں کے اہل خانہ سے ہندوستان واپس آنے کو کہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ وہاں کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ تاہم، اس عرصے کے دوران، ہندوستانی مشن اور دیگر پوسٹس اپنی روزانہ کی مصروفیات و کارروائیاں جاری رکھیں گے اور مکمل طور پر فعال رہیں گے۔ بنگلہ دیش میں 12 فروری کو عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ اسی دن ریفرنڈم بھی ہونا ہے۔
ضرورت پڑنے پر سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا
اگست 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد محمد یونس انتظامیہ کے تحت انتخابات ہو رہے ہیں۔ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ ان انتخابات کے لیے کالعدم قرار دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر بھارتی حکومت سکیورٹی صورتحال کا جائزہ بھی لے سکتی ہے۔ حال ہی میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارتی تناؤ بھی پیدا ہوا ہے۔ طالب علم رہنما عثمان ہادی کے حالیہ قتل کے بعد بنگلہ دیش میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر بھی احتجاج دیکھا گیا۔ بنگلہ دیش میں ہندوستانی مشنز اور سفارت کاروں کی سکیورٹی ہندوستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ بھارت نے اس معاملے پر بات چیت کے لیے دہلی میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر ریاض حمید اللہ کو طلب کیا۔
بھارتی مشنز کی سکیورٹی پر تشویش ہے
ذرائع کے مطابق حکومت نے حمید اللہ کو طلب کیا اور ڈھاکہ میں بھارتی مشن کی سکیورٹی پر تشویش کا اظہار کیا۔ بنگلہ دیش نے دہلی میں اپنے ہائی کمیشن کے باہر مظاہروں کے بارے میں ہندوستانی سفیر پرنائے ورما سے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ دریں اثنا، وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے دہلی میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کیا۔

