ETV Bharat / international

ٹرمپ کے غزہ بورڈ کی میٹنگ پر حماس کا رد عمل، اسرائیلی 'جارحیت' ختم کرنے کا مطالبہ

حماس کے مطابق غزہ کے مستقبل کے انتظامات کا آغاز "ناکہ بندی کے خاتمے، لوگوں کی آزادی اور خود ارادیت کی ضمانت سے ہونا چاہیے۔

Muslim worshippers gather for Friday prayer during the holy fasting month of Ramadan at the Alkanz Mosque, which was damaged during the Israel–Hamas war, in Gaza City, Friday, Feb. 20, 2026.
بیس فروری 2026 کو غزہ سٹی میں الکنز مسجد، جسے اسرائیل-حماس جنگ کے دوران شدید نقصان پہنچا تھا، میں نماز جمعہ کے لیے جمع ہو رہے نمازی (AP)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 21, 2026 at 1:44 PM IST

7 Min Read
Choose ETV Bharat

غزہ سٹی: غزہ کے مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس" کی میٹنگ پر رد عمل دیتے ہوئے حماس نے اسرائیلی جارحیت کو مکمل طور پر رکنے کا مطالبہ کیا۔ تحریک نے ایک بیان جاری کر کے کہا کہ غزہ پر کوئی بھی بات چیت اسرائیلی "جارحیت" کو مکمل طور پر روکنے کے ساتھ شروع ہونی چاہیے۔ وہیں اسرائیل کا اصرار ہے کہ غزہ کا تعمیر نو شروع ہونے سے پہلے عسکریت پسندوں کو غیر مسلح کیا جانا چاہیے۔

ٹرمپ کے بورڈ نے جمعرات کو واشنگٹن میں اپنے افتتاحی اجلاس منعقد کیا، جس میں مختلف ممالک نے اسرائیل اور حماس کے درمیان چار ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ بندی کو آگے بڑھانے کے لیے غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈ اور سکیورٹی اہلکار فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ تاہم بورڈ کے اجلاس میں حماس کو غیر مسلح کرنے یا اسرائیلی فوج کے تباہ حال پٹی سے پیچھے ہٹنے کے لیے کوئی ٹائم لائن پیش نہیں کی گئی۔

حماس نے جمعرات کو دیر گئے ایک بیان میں کہا کہ 'غزہ کی پٹی اور ہمارے فلسطینی عوام کے مستقبل کے بارے میں زیرِ بحث کسی بھی سیاسی عمل یا انتظامات کا آغاز جارحیت کو مکمل طور پر روکنے کے ساتھ ہونا چاہیے۔‘‘

فلسطینی گروپ نے یہ بھی کہا کہ غزہ کے مستقبل کے انتظامات کا آغاز "ناکہ بندی کے خاتمے، اور ہمارے لوگوں کے جائز قومی حقوق جیسے کہ آزادی اور حقِ خود ارادیت کی ضمانت" سے ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ بورڈ آف پیس کے اجلاس کے دوران مٹھی بھر ممالک بشمول البانیہ، انڈونیشیا، قازقستان، کوسوو اور مراکش نے غزہ کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) کے لیے اپنی فوج بھیجنے کا اعلان کیا۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اے ایف پی کو بتایا کہ انتباہات کے ساتھ فلسطینی اسلامی تحریک علاقے میں بین الاقوامی افواج کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہے۔

قاسم نے کہا، "ہم امن فوج چاہتے ہیں جو غزہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیے بغیر، جنگ بندی کی نگرانی کرے، اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے، اور غزہ کی پٹی میں قابض فوج اور ہمارے لوگوں کے درمیان بفر کے طور پر کام کرے۔" قاسم نے کہا۔ آئی ایس ایف کا مقصد 20,000 فوجیوں کے ساتھ ساتھ ایک نئی پولیس فورس کا قیام بھی ہے۔ مسلم اکثریتی انڈونیشیا نے کہا کہ وہ 8000 تک فوجی بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

غزہ میں امن و امان و سکیورٹی کا معاملہ

غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سال سے جاری تباہ کن جنگ کو روکنے کے لیے اکتوبر میں ٹرمپ انتظامیہ نے ثالث قطر اور مصر کے ساتھ جنگ ​​بندی پر طویل بات چیت کے بعد بورڈ آف پیس کا قیام عمل میں لایا۔

ٹرمپ کے منصوبے کا اگلا مرحلہ حماس کے تخفیف اسلحہ، اسرائیلی فوج کے بتدریج انخلا اور آئی ایس ایف کی تعیناتی، ایک عبوری فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے ساتھ حکمرانی کی نگرانی پر مشتمل ہے۔

وہیں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اصرار کیا ہے کہ تعمیر نو شروع کرنے سے پہلے حماس کو غیر مسلح کرنا ضروری ہے۔ لیکن حماس اسرائیل کی طرف سے مقرر کردہ شرائط کے تحت ہتھیار ڈالنے سے منکر ہے۔ دونوں فریق اکثر ایک دوسرے پر جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے ہیں، جو کہ دو سال کی تباہ کن جنگ کے بعد گذشتہ اکتوبر میں نافذ ہوئی تھی۔

جمعرات کو بورڈ آف پیس کے اجلاس میں ٹرمپ نے کہا کہ کئی ممالک، جن میں زیادہ تر خلیجی ہیں، نے علاقے کی تعمیر نو کے لیے سات بلین ڈالر سے زیادہ کا فنڈ فراہم کرنے وعدہ کیا ہے۔ جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں اے ایف پی سے بات کرنے والے فلسطینیوں نے واشنگٹن میٹنگ کے بارے میں امید اور شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔

فرید ابو عودہ نام کے ایک فلسطینی نے بورڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ٹرمپ محض ایک فوجی طاقت ہے جو دنیا پر اپنے نظریات مسلط کر رہی ہے، اور یہ سب فلسطین پر قبضے کا ایک اور گیٹ وے ہے، صہیونی قبضے کا ایک اور چہرہ"۔

ایک اور فلسطینی، محمد الصقا نے کہا کہ وہ دعا کر رہے ہیں کہ ٹرمپ کا بورڈ "سلامتی اور امن، اور اس صورت حال سے بہتر چیز کی طرف لے جائے جس سے ہم گزرے ہیں"۔

نوآبادیاتی منصوبے کا خدشہ

بہت سے ماہرین اور کچھ امریکی اتحادیوں نے بھی بورڈ پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ان کو خدشات لاحق ہیں کہ یہ امن بورڈ اقوام متحدہ کو سائیڈ لائن کر سکتا ہے۔ یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز کے ایک سینئر پالیسی فیلو ہیو لوواٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ بورڈ سے جو کچھ نکل کر سامنے آ رہا ہے، وہ "سنگین طور پر پریشان کن" ہے۔

لوواٹ نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے بورڈ کے بہت سے خیالات اسرائیل کے دوستانہ شراکت داروں کی طرف سے شروع ہوئے ہیں، جب کہ فلسطینی آوازوں کو خارج کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ علامات "کسی علاقے پر غیر ملکی اقتصادی منصوبے کو مسلط کرنے کی کوشش کے لحاظ سے ایک نوآبادیاتی منصوبے" کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

فرانسیسی وزیر خارجہ جین نول باروٹ نے کہا کہ یورپی کمیشن کو اجلاس میں اپنا نمائندہ نہیں بھیجنا چاہیے تھا کیونکہ اس کے پاس رکن ممالک کی نمائندگی کا مینڈیٹ نہیں تھا۔ اسرائیل میں سابق امریکی سفیر ڈین شاپیرو نے کہا کہ فلسطینی ان پٹ کی کمی اور حماس کے تخفیف اسلحہ سے متعلق تعمیر نو کے منصوبوں کی وجہ سے "بورڈ آف پیس کو سنجیدگی سے لینا مشکل ہو گیا ہے"۔

مزید پڑھیں:

غزہ بورڈ آف پیس کا افتتاح: کن ممالک نے غزہ کے لیے امدادی پیکج اور اپنے فوجی بھیجنے کا وعدہ کیا؟ یہاں جانیں سب کچھ

ٹرمپ کا غزہ بورڈ آف پیس کے اراکین ممالک کے ساتھ آج پہلا اجلاس، حماس کو غیر مسلح کرنا رہے گا بات چیت کا مرکز

انڈونیشیا غزہ امن فوج کے لیے 8,000 فوجی روانہ کرنے کے لیے تیار

غزہ: متزلزل جنگ بندی معاہدہ اور رمضان کی آمد، ابتر حالات میں خوشی تلاش کررہے ہیں فلسطینی

کن ممالک نے ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کرلی، کس نے کیا انکار، کون ہیں خاموش؟ یہاں جانیں