خامنہ ای کی آخری رسومات: قالیباف اور عراقچی پھوٹ پھوٹ کر روئے، آخری دیدار کیلئے امڈ پڑا انسانی سروں کا سیلاب
ہندوستانی وفد نے بھی ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔

Published : July 4, 2026 at 7:49 AM IST
تہران: امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں جاں بحق ہوئے ایران کے سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا سلسلہ جاری ہے۔ آج تہران میں آج ان کے جسد خاکی کو عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا ہے جہاں ان کے آخری دیدار اور الوداع کے لیے انسانی سروں کا سیلاب امڈ پڑا ہے۔
اس سے قبل گذشتہ روز بروز جمعہ تہران کے امام خمینی گرانڈ مصلیٰ میدان میں مقتول رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے متعدد ملکوں کے سربراہان، نمائندوں اور وفود اکٹھے ہوئے۔ اس موقعے پر ایران کے تمام سیاسی و عکسری سربراہان بھی مقتول رہنما کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دیکھے گئے۔

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی الوداعی تقریب میں ایرانی فوجی کمانڈر محسن رضائی، وزیر خارجہ عباس عراقچی، ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجی، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے شرکت کی۔
بھارتی وفد نے بھی پیش کیا خراج عقیدت
تہران میں جنازے کی تقریبات سے قبل ہندوستانی وفد نے بھی ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔ بھارت میں ایران کے سفارت خانے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کیا کہ "بھارتی معززین نے ایران کے شہید قائد، ان کے ممتاز رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔"
واضح رہے کہ وزیر مملکت برائے خارجہ امور (ایم او ایس) پوتر مارگریٹا اور بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطا حسنین نے جمعہ کو آخری رسومات میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔
Just travelled back home. The Nation gave us great honour in asking us to attend the funeral in Tehran. https://t.co/coMIVsid25
— Syed Ata Hasnain (@atahasnain53) July 3, 2026
بھارت میں ایرانی سفارت خانے کی طرف سے ایکس پر شیئر کی گئی تصویر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی اور سلمان خورشید کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ سلمان خورشید کانگریس پارٹی کے خارجہ امور کے شعبے کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے کئی دیگر بھارتی شخصیات کے ساتھ آخری رسومات میں شرکت کی۔
تقریباً 100 ممالک کے سربراہان، نمائندوں اور وفود کی شرکت
ایران کے سابق رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے دنیا بھر کے لیڈران اکٹھے ہوئے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ترکمانستان کی پیپلز کونسل کے چیئرمین گربنگولی بردی محمدو، عراقی صدر نزار امیدی، آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پشینیان، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور عراقی کردستان خطے کے رہنما نے شرکت کی اور آیت اللہ خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر نے خامنہ ای کو خراج تحسین پیش کیا
عراق، آذربائیجان، بنگلہ دیش، ازبکستان، بیلاروس، کرغزستان، نکاراگوا، کانگو اور برکینا فاسو، مصر کے رہنماؤں، فلسطینی اسلامی جہاد مزاحمتی تحریک کے سیکریٹری جنرل اور عمانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بھی مقتول رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا۔
پریس ٹی وی نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ''شہید رہبر کی الوداعی تقریب میں عوامی شخصیات اور سول سوسائٹی کے گروپوں کے ساتھ تقریباً 100 ممالک کے وفود نے شرکت کی۔''
باغائی نے کہا کہ "ہمارے پاس پڑوسی ممالک سے اعلیٰ سطح کے وفود موجود ہیں۔ کم از کم آٹھ سربراہان حکومت بشمول صدور یا وزرائے اعظم اور 12 ممالک کے پارلیمانی اسپیکرز نے شرکت کی۔" "بہت سے دوسرے ممالک کی نمائندگی وزرائے خارجہ، دیگر وزراء یا خصوصی ایلچی کی سطح پر کی گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ تقریب میں تقریباً 100 ممالک سے عوامی گروپ اور اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: خامنہ ای کی آخری رسومات: محبوبہ مفتی تہران پہنچیں، آغا سید حسن موسوی کو ایران جانے سے روکا گیا
ایران نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا پہلا مرحلہ تین جولائی بروز جمعہ شروع ہو چکا ہے، غیر ملکی معززین اور مذہبی شخصیات نے تہران میں ان کی تعزیت کی۔ اہم بات یہ ہے کہ شدید سیکورٹی خدشات کی وجہ سے موجودہ سپریم لیڈر، مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہوں گے۔
قالیباف اور عراقچی پھوٹ پھوٹ کر روئے
فارس نیوز کے مطابق جمعہ کے روز تہران میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی الوداعی تقریب کے دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پھوٹ پھوٹ کر روئے۔ فارس نیوز کے مطابق، اس سال 28 فروری کو امریکی-اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے مقتول رہنما کے لیے سوگ کی تقریبات شروع ہو چکی ہیں۔
آج کے لیے ایرانی عہدیداروں کی ہدایات
تہران کے گورنر محمد صادق معتمادیان نے کہا کہ ''شہید رہبر کے لیے الوداعی اور رخصتی کی تقریب میں اعلیٰ ترین سطح کی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "کل صبح 6 بجے، تہران جنازہ والے میدان کے دروازے کھل جائیں گے، چھ بجے سے پہلے کوئی دروازہ نہیں کھلے گا۔" انہوں نے مزید کہا کہ "لوگوں کو اسی کے مطابق نماز جنازہ کے میدان میں پہنچنے کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔"
عراق بھی لے جایا جائے گا جنازہ
کئی دنوں پر محیط آخری رسومات کے دوران مقتول رہنما کا جنازہ ایران کے پڑوسی اور شیعہ اکثریتی ملک عراق بھی لے جایا جائے گا۔ فارس نیوز نے اطلاع دی ہے کہ عراق کی راجدھانی بغداد کے گورنر عطوان العطوانی کے اعلان کے بعد سابق رہبر اعلیٰ کے جنازے کے لیے بغداد بند رہے گا۔
ٹرمپ اسرائیل میں اپنے پالتو جانوروں کو خاموش کریں، یہاں جانیں ایرانی وزیر خارجہ نے ایسا کیوں کہا؟
9 جولائی کو آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات، کھرگے اور نتن نبین اور کو ایران سے دعوت نامہ موصول

