ETV Bharat / international

چین کا رواں ہفتے تائیوان کے گرد فوجی مشقوں کا اعلان

چین کی فوج نے ایک بیان میں اس مشق کا اعلان کرتے ہوئے اپنی سرگرمیوں والے خطے کا نقشہ پیش کیا۔

In this photo released by Xinhua News Agency, Chinese President Xi Jinping, also chairman of the Central Military Commission (CMC), front row second from left, poses with other military officers after promoting to generals, back row, from left, Yang Zhibin of the Eastern Theater Command and Han Shengyan commander of Central Theater Command in Beijing on Monday, Dec. 22, 2025.
چینی صدر شی جن پنگ اپنی افواج کے جرنیلوں کے ساتھ (AP)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : December 29, 2025 at 10:32 AM IST

2 Min Read
Choose ETV Bharat

بیجنگ: چین نے پیر کو کہا کہ وہ تائیوان کے ارد گرد "بڑی" فوجی مشقیں کرنے جا رہا ہے، جس میں بیجنگ نے دعویٰ کیا کہ تائیوان جزیرے کے قریب سمندری اور فضائی حدود کے پانچ علاقوں میں منگل کو لائیو فائرنگ کی سرگرمیاں انجام دی جائیں گی۔

"29 دسمبر سے پیپلز لبریشن کی آرمی مشرقی کمانڈ اپنی فوج، بحریہ، فضائیہ اور راکٹ فورس کے دستوں کو 'جسٹس مشن 2025' کے نام سے مشترکہ فوجی مشقیں کرنے کے لیے روانہ کر رہی ہے۔" فورس کے ترجمان سینیئر کرنل شی یی نے ایک بیان میں نقشے جاری کرتے ہوئے تائیوان جزیرے کے ارد گرد پانچ بڑے زون کی نشاندہی کی جہاں منگل کی صبح 8:00 بجے سے شام 6:00 بجے تک "لائیو فائرنگ کی سرگرمیاں انجام دی جائیں گی"۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "حفاظت کی خاطر کسی بھی غیر متعلقہ بحری جہاز یا ہوائی جہاز کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مذکورہ سمندری اور فضائی حدود میں داخل نہ ہوں۔" بڑے پیمانے پر طاقت کا یہ مظاہرہ چین اور جاپان کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی کے بعد ہونے جا رہا ہے۔ اس کشیدگی کا آغاز ان تبصروں سے ہوا ہے جو مستقبل میں مسلح تصادم کی صورت میں تائیوان کے لیے ٹوکیو کی ممکنہ حمایت کا اشارہ دیتے ہیں۔

اس سے قبل ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کا ایک نیا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا، جس نے بیجنگ کی طرف سے شدید ردعمل کو جنم دیا۔ اس اعلان کے بعد چین نے گذشتہ ہفتے 20 امریکی دفاعی فرموں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ شی نے بیان میں کہا کہ اس ہفتے ہونے جا رہی مشقیں علیحدگی پسند قوتوں (تائیوان کی آزادی کے حامیوں) کے خلاف ایک سخت انتباہ ہیں، اور یہ چین کی خودمختاری اور قومی اتحاد کے تحفظ کے لیے ایک جائز اور ضروری اقدام ہے۔

مزید پڑھیں: جاپان نے 58 ارب ڈالر کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی منظوری دے دی