خامنہ ای کے قتل کے خلاف پاکستان میں خونریز احتجاج، کم از کم 22 افراد ہلاک، مظاہرین کی امریکی قونصل خانے پر حملے کی کوشش
پولیس اور اہلکاروں نے بتایا کہ جھڑپوں میں کم از کم 50 افراد زخمی ہوئے اور ان میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

Published : March 2, 2026 at 9:37 AM IST
کراچی: پاکستان کے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی اور ملک کے شمال میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 120 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جب کہ ایرانی حکومت کے حامی مظاہرین نے اتوار کے روز امریکی قونصل خانے پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ ملک کے شمال میں مظاہرین کی جانب سے اقوام متحدہ اور سرکاری دفاتر پر حملے کی بھی اطلاع ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد احتجاج پرتشدد ہوگیا۔ کراچی کے ایک اسپتال میں پولیس اور اہلکاروں نے بتایا کہ جھڑپوں میں کم از کم 50 افراد زخمی بھی ہوئے اور ان میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری ان کے دفتر کے مطابق صدر نے خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور ایران سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ زرداری نے کہا کہ پاکستان دکھ کی اس گھڑی میں ایرانی قوم کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
شہر کے مرکزی سرکاری اسپتال کی پولیس سرجن، سمیہ سید طارق نے تصدیق کی کہ چھ لاشیں اور متعدد زخمی افراد کو اسپتال لایا گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ چار شدید زخمیوں کی موت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 10 ہو گئی۔
مقامی پولیس اہلکار اصغر علی نے بتایا کہ، شمالی گلگت بلتستان کے علاقے میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں 12 افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوگئے جب ایران پر امریکی اور اسرائیل کے حملوں سے مشتعل ہزاروں مظاہرین نے یو این ملٹری آبزرور گروپ اور یو این ڈیولپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) کے دفاتر پر حملہ کیا۔
ایک حکومتی ترجمان شبیر میر نے کہا کہ ان تنظیموں کے لیے کام کرنے والا تمام عملہ محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے مختلف مقامات پر مظاہرین کی پولیس کے ساتھ بار بار جھڑپیں ہوئیں، ایک مقامی خیراتی ادارے کے دفتر کو نقصان پہنچا اور پولیس کے دفاتر کو آگ لگا دی گئی۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ حکام نے فوجیوں کو تعینات کیا ہے اور صورتحال کو قابو میں کر لیا ہے۔
پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ وہ کراچی اور لاہور میں امریکی قونصل خانے میں جاری مظاہروں کی رپورٹس کی نگرانی کر رہا ہے، ساتھ ہی اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور پشاور میں قونصلیٹ جنرل پر اضافی مظاہروں کی اطلاع دے رہا ہے۔ اس نے پاکستان میں امریکی شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ مقامی خبروں پر نظر رکھیں، اپنے اردگرد کے حالات سے باخبر رہیں، بڑے ہجوم میں شمولیت سے گریز کریں اور امریکی حکومت کے ساتھ اپنی سفری رجسٹریشن کو اپڈیٹ رکھیں۔
امریکی قونصل خانے کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے
جنوبی صوبہ سندھ کا دارالحکومت اور پاکستان کا سب سے بڑے شہر کراچی کے سینئر پولیس اہلکار عرفان بلوچ نے بتایا کہ مظاہرین نے مختصر طور پر امریکی قونصل خانے کے احاطے پر حملہ کیا، لیکن بعد میں منتشر ہو گئے۔
انہوں نے قونصل خانے کی عمارت کے کسی حصے میں آگ لگنے کی خبروں کو مسترد کیا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کے پہنچنے اور دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے سے پہلے مظاہرین نے ایک قریبی پولیس چوکی کو نذر آتش کیا اور قونصل خانے کی کھڑکیوں کو توڑ دیا۔
قونصل خانے کے ارد گرد کے علاقے میں احتجاج گھنٹوں تک جاری رہا، درجنوں نوجوانوں نے، جن میں سے کچھ نے اپنے چہرے ڈھانپے ہوئے تھے، پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور قونصل خانے تک پہنچنے کی کوشش کی، جہاں سینکڑوں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ جھڑپوں کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی پرسکون رہنے کی اپیل جاری کی ہے۔
نقوی نے ایک بیان میں کہا، "آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد، پاکستان کا ہر شہری ایران کے عوام کے غم میں برابر کا شریک ہے،" لیکن انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور پرامن طریقے سے اپنے احتجاج کا اظہار کریں۔ سندھ کی صوبائی حکومت نے بھی شہریوں پر زور دیا کہ وہ پرامن طریقے سے اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ انھوں نے عوام سے تشدد میں ملوث ہونے کے خلاف خبردار کیا ہے۔

پاکستان میں دیگر مقامات پر بھی احتجاج
اسلام آباد میں، جب خامنہ ای کے قتل سے مشتعل سینکڑوں مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لاٹھی چارج کیا۔ یہ جھڑپیں شہر کے ڈپلومیٹک انکلیو کے باہر ہوئیں، جہاں سفارت خانہ واقع ہے، اور اضافی پولیس تعینات کی گئی تھی۔
دریں اثنا، پشاور کے شمال مغربی شہر میں، حکام نے ہزاروں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھیوں کا استعمال کیا جو ایک ریلی نکالنے اور ایرانی رہنما کے قتل کی مذمت کرنے کے لیے امریکی قونصل خانے کے قریب جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں بھی مظاہرین نے پرامن ریلی نکالی جس میں اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نعرے لگائے گئے۔
ریلی میں شریک مامونہ شیرازی نے کہا کہ وہ خامنہ ای کے قتل پر احتجاج کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’انشاءاللہ ہم امریکہ اور اسرائیل کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے۔‘‘ پولیس نے بتایا کہ مشرقی پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں امریکی قونصل خانے کے قریب مظاہرین نے ریلیاں بھی کیں اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے مزید تشدد سے بچنے کے لیے دارالحکومت میں امریکی سفارت خانے اور ملک بھر کے قونصل خانوں کے ارد گرد سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

