ETV Bharat / international

خالدہ ضیاء کے انتقال پر بنگلہ دیش میں تین روزہ سوگ کا اعلان، بدھ کو ہوگی تجہیز و تکفین

بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیا 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیاء کا انتقال
بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیاء کا انتقال (ANI)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : December 30, 2025 at 7:26 AM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیا طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔ ان کا انتقال ڈھاکہ کے ایور کیئر ہسپتال میں دوران علاج ہوا۔ ان کی عمر 80 سال تھی۔ رپورٹس کے مطابق خالدہ ضیاء کو عمر سے متعلق مختلف عارضوں میں متبلا تھیں۔


بی این پی نے خالدہ ضیاء کے انتقال کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا انتقال صبح چھ بجے (مقامی وقت کے مطابق) نماز فجر کے فوراً بعد ہوا۔ پارٹی نے اپنے فیس بک پیج پر ایک پوسٹس کے ذریعے اس اس بارے میں جانکاری دی۔ بی این پی نے کہا کہ "خالدہ ضیاء کا انتقال صبح 6:00 بجے، فجر کی نماز کے فوراً بعد ہوا۔" پارٹی نے ان کے حق میں دعا کرتے ہوئے دوسروں سے بھی دعا کی اپیل کی۔

تدفین بدھ کو، تین روزہ سوگ کا اعلان

خالدہ ضیا کی تجہیز و تکفین بدھ کو ادا کی جائیں گی۔ اسی بیچ بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے منگل کو سابق وزیر اعظم کی موت کے بعد تین روزہ سرکاری سوگ اور ایک دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

قوم سے ٹیلی ویژن پر خطاب خطاب کرتے ہوئے محمد یونس نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ نماز جنازہ اور سوگ کے دوران ملک بھر میں نظم و ضبط اور امن و امان برقرار رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کی وفات پر میں تین روزہ سرکاری سوگ اور کل ان کی نماز جنازہ کے دن ایک روزہ عام تعطیل کا اعلان کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ "میں جانتا ہوں کہ آپ سب اس وقت بہت غمگین ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ سوگ کے اس وقت میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور ان تمام متعلقہ افراد کے ساتھ تعاون کریں گے جو اس کی نماز جنازہ سمیت رسمی کارروائیوں میں شامل ہیں۔"

طویل علالت کے بعد آج انتقال

بیگم خالدہ ضیاء کو پھیپھڑوں میں انفیکشن کے باعث 23 نومبر کو دارالحکومت ڈھاکہ کے ایور کیئر ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ 80 سالہ سابق وزیراعظم طویل عرصے سے مختلف عارضوں میں مبتلا تھیں جن میں دل کی بیماری، ذیابیطس، گٹھیا، جگر کے سیروسس اور گردے کی پیچیدگیاں شامل ہیں۔ اس ماہ کے اوائل میں انہیں جدید علاج کے لیے لندن بھیجا گیا تھا۔ ان کی موت ایک اہم سیاسی لمحے پر ہوئی ہے، جب کہ بنگلہ دیش فروری 2026 کو ہونے والے قومی انتخابات کی تیاری کر رہا ہے اور گذشتہ سال جولائی میں شیخ حسینہ کی حکومت سے بے دخلی کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں۔

سابق وزیر اعظم کا انتقال ان کے بیٹے اور بی این پی رہنما طارق رحمان کی برسوں کی جلاوطنی کے بعد بنگلہ دیش میں حالیہ واپسی کے بعد ہوا ہے۔ رحمن نے 2007-08 میں گرفتار ہونے کے بعد ملک چھوڑ دیا تھا اور بعد ازاں لندن میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ گذشتہ سال شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ عوامی لیگ کے دور میں دائر کئی مقدمات سے بری کر دیے گئے، جس سے ان کی واپسی کا راستہ صاف ہوا۔

طارق رحمان گذشتہ ہفتے بنگلہ دیش پہنچے اور ائیرپورٹ پر پارٹی کے رہنماؤں اور حامیوں کے ایک بڑے مجمع نے ان کا استقبال کیا، جسے آئندہ انتخابات سے قبل ایک بڑی سیاسی تقریب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ملک واپس آنے کے بعد طارق نے ایور کیئر ہسپتال جا کر اپنی والدہ کی عیادت بھی کی۔

خالدہ ضیاء کون تھیں؟

خالدہ ضیا 15 اگست سنہ 1945 کو دیناج پور، مشرقی بنگال (اب بنگلہ دیش میں) میں پیدا ہوئیں۔ وہ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ وہ سنہ 1991 سے 1996 تک اور سنہ 2001 سے 2006 تک وزیر اعظم رہیں۔ ان کی شادی ایک فوجی افسر اور سیاست دان ضیاء الرحمن سے ہوئی جو سنہ 1977 سے 1981 تک بنگلہ دیش کے چھٹے صدر رہے۔ ان کے شوہر ضیاء الرحمن بنگلہ دیش کی جدوجہد آزادی میں ایک اہم رہنما تھے۔ بنگلہ دیش اس وقت پاکستان کا حصہ تھا۔ ضیاء الرحمن کو ملک کا صدر رہتے ہوئے سنہ 1981 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ خالدہ ضیا اور ضیاء الرحمن کے دو بیٹے طارق رحمان اور عرفات رحمان ہیں۔ عرفات رحمان 2015 میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔