ETV Bharat / international

نئی دہلی میں شیخ حسینہ کی پریس کانفرنس پر بنگلہ دیش بھڑک گیا، کہا باہمی تعلقات کے لیے نقصان دہ

ڈھاکہ نے ''مفرور، نسل کشی کی مجرم'' حسینہ کو دہلی میں میڈیا سے لائیو بات چیت کی اجازت دینے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ
بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ (ANI)
author img

By ANI

Published : August 6, 2026 at 9:23 AM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

ڈھاکہ: بنگلہ دیش نے بدھ کے روز نئی دہلی میں معزول سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی میڈیا کے ساتھ لائیو بات چیت پر برہمی کا اظہار کیا اور ان پر بنگلہ دیش اور اس کے عوام کے خلاف 'زہریلی باتیں' کرنے کا الزام لگایا گیا۔

بدھ کے روز (مقامی وقت کے مطابق) جاری ایک پریس ریلیز میں بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ 'بنگلہ دیش اس بات پر ناراض ہے کہ مفرور اور نسل کشی کی مجرم شیخ حسینہ کو بدھ کی شام نئی دہلی میں میڈیا کے ساتھ لائیو گفتگو کرنے کی اجازت دی گئی، جہاں انہوں نے اور ان کے کارندوں نے بنگلہ دیشی حکومت اور اس کے عوام کے خلاف زہریلی باتیں کیں۔'

بیان میں مزید کہا گیا کہ 'ڈھاکہ کو اس بات پر گہرا افسوس ہے کہ اس واقعے کے ہمارے دوطرفہ تعلقات پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں حکومتِ ہند کو اپنی تشویش سے آگاہ کرنے کے باوجود، اس عوامی تقریب کے انعقاد کی اجازت دی گئی۔'

وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ایک ایسے موقعے پر جب بنگلہ دیش کے عوام جولائی انقلاب کی دوسری سالگرہ منا رہے ہیں، شیخ حسینہ کی بھارتی سرزمین پر یہ پریس کانفرنس بنگلہ دیش کی خودمختاری کی توہین اور جولائی انقلاب کے شہداء کی سخت بے حرمتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ 'فاشسٹ حکومت کی جانب سے جولائی-اگست سال 2024 کے دوران نابالغ بچوں سمیت بے گناہ شہریوں کے ہولناک قتلِ عام سمیت اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ حقائق کو جھٹلانا، مفرور مجرم اور اجتماعی قتل کی ذمہ دار حسینہ اور ان کے جرائم پیشہ گروہ کی طرف سے تاریخ کا رخ موڑنے کی ایک لاحاصل کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔'

متعلقہ خبر: مجھے مار بھی دیں گے تب بھی بنگلہ دیش جاؤں گی، کسی طلبہ تحریک نے مجھے نہیں ہٹایا تھا: شیخ حسینہ

وزارت نے کہا کہ 'بنگلہ دیش کے عوام نے پہلے بھی ایسی گھناؤنی کوششوں کو مسترد کیا تھا اور اب بھی ایسا ہی کر رہے ہیں.' جولائی انقلاب کے نظریات کا اعادہ کرتے ہوئے وزارت نے کہا کہ بنگلہ دیشی عوام نے عزم مصمم کر لیا ہے کہ ہمارا ملک پھر کبھی فاشزم کے سیاہ دور میں واپس نہیں جائے گا اور بنگلہ دیش کبھی بھی کسی کا دستِ نگر (کلائنٹ اسٹیٹ) نہیں بنے گا۔ سزا یافتہ اجتماعی قاتل حسینہ اور ان کے مافیا طرز کے ہتھکنڈوں کی بنگلہ دیش کی سیاست میں اب کبھی کوئی جگہ نہیں ہو گی۔'

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ 'بنگلہ دیش بھارت کے ساتھ ایک اچھا، باہمی مفاد پر مبنی اور روشن مستقبل کا رشتہ برقرار رکھنا چاہتا ہے جو برابری، باہمی احترام، ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور ملک کی عزت پر مبنی ہو۔

افسوس کی بات ہے کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان سال 2013 میں طے پانے والے حوالگی کے معاہدے کے تحت سزا یافتہ مجرم حسینہ کو بنگلہ دیش واپس بھیجنے کے لیے، حکومتِ ہند سے بنگلہ دیش کی بار بار کی جانے والی درخواستوں کا ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔'

یہ بھی پڑھیں: شیخ حسینہ وطن واپس آئیں تو سیدھے جیل جائیں گی: بنگلہ دیشی وزیر

بیان میں مزید کہا گیا کہ 'اس کے برعکس، انہیں کسی بھی بہانے سے میڈیا سے کھل کر بات کرنے کا موقع دینا ہمارے عوام کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچاتا ہے اور بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان اچھے باہمی تعلقات کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے۔'

واضح رہے کہ بدھ کی صبح بنگلہ دیش کی معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے دسمبر میں اپنے ملک لوٹنے کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ گرفتاری، جیل یا اپنی جان کے خطرے سمیت کسی بھی نتیجے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

بنگلہ دیش چھوڑنے کے بعد نئی دہلی سے اپنی پہلی ورچوئل پریس بریفنگ میں سابق وزیرِ اعظم نے زور دے کر کہا کہ وہ بیرونِ ملک نہیں رہ سکتیں، جب کہ ان کے حامی اور ہم وطن مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 'میری قسمت چاہے جو بھی ہو، میں اپنے لوگوں کے پاس لوٹ جاؤں گی، میں دور نہیں رہ سکتی، جب کہ میرے پیارے ہم وطن پریشان ہیں۔ میں دسمبر میں واپس جانا چاہتی ہوں۔'

مزید پڑھیں:

شیخ حسینہ دسمبر میں بنگلہ دیش میں کریں گی خود سپردگی، بولیں، موت آئے تو اپنی مٹی پر آنی چاہئے

بنگلہ دیش کی مانگ کے باوجود شیخ حسینہ کی حوالگی بے حد مشکل کیوں؟

بنگلہ دیش کے ساتھ بھارت کے تعلقات مزید کشیدہ، بھارت نے سفارتی اہلکاروں کے اہل خانہ کو واپس بلا لیا

بھارتی ہائی کمشنر تریویدی کا بھارت بنگلہ دیش تعلقات کی بحالی اور گنگا معاہدے کی تجدید پر اہم اشارہ