ETV Bharat / international

اقوام متحدہ میں بھارت کا دوٹوک مؤقف: ’’دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے، دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں‘‘

ہریش پروتھانی نے کہا کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کا امتیاز یا دوہرا معیار اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

اقوام متحدہ میں بھارت کا دوٹوک مؤقف: ’’دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے، دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں‘‘
اقوام متحدہ میں بھارت کا دوٹوک مؤقف: ’’دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے، دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں‘‘ (ANI)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : July 2, 2026 at 1:30 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

اقوام متحدہ/نیویارک: بھارت نے اقوام متحدہ میں ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف اپنا سخت مؤقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ "دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے، کسی بھی سیاسی، مذہبی یا نظریاتی وجہ کی بنیاد پر دہشت گردی کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔" بھارت نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف دوہرے معیار ترک کرے اور دہشت گردوں، ان کے سرپرستوں، مالی معاونین اور منصوبہ سازوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے متحد ہو کر کام کرے۔

اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب سفیر ہریش پروتھانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اقوام متحدہ کی عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی کے نویں جائزے کی منظوری کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کئی دہائیوں سے سرحد پار دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث ہندوستان نے ہزاروں جانیں گنوائی ہیں، بے شمار خاندان بکھر گئے اور معاشرے شدید متاثر ہوئے۔ اسی تجربے کی بنیاد پر بھارت یہ واضح مؤقف رکھتا ہے کہ دہشت گردی کی کسی بھی شکل یا کسی بھی مقصد کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ہریش پروتھانی نے کہا کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کا امتیاز یا دوہرا معیار اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے منصوبہ سازوں، مالی معاونین، سہولت کاروں اور سرپرستوں کو جوابدہ بنانا تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ "دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے۔ ہمیں کسی بھی شکایت یا سیاسی جواز کا سہارا لیے بغیر اس قاتلانہ نظریے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔"

بھارت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنا انتہائی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ممالک کے درمیان مالیاتی معلومات کا تبادلہ بڑھانے، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے معیارات پر سختی سے عمل درآمد کرنے اور کسی بھی ملک کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بننے دینے کی ضرورت ہے۔

ہندوستان نے نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے دہشت گردوں کے ہاتھوں غلط استعمال پر بھی شدید تشویش ظاہر کی اور کہا کہ بدقسمتی سے اس اہم معاملے پر عالمی حکمت عملی کے جائزے میں مطلوبہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ہریش پروتھانی نے کہا کہ تقریباً تین دہائیوں سے زیر التوا جامع عالمی انسدادِ دہشت گردی کنونشن کو فوری طور پر منظور کیا جانا چاہیے تاکہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف عالمی سطح پر ایک مضبوط قانونی فریم ورک قائم ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں فعال کردار ادا کیا ہے اور نئی دہلی میں "نو منی فار ٹیرر" کانفرنس اور دہشت گردی میں نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف "دہلی اعلامیہ" جیسے اہم اقدامات کی میزبانی بھی کی ہے۔ ہندوستان نے یہ بھی افسوس ظاہر کیا کہ 2023 کی عالمی حکمت عملی میں دہلی اعلامیہ کا ذکر شامل نہیں کیا گیا، جسے اس نے عالمی تعاون کے جذبے کے منافی قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ہیلی کاپٹر کی بحیرۂ عرب میں ہنگامی لینڈنگ، عملے کا ایک رکن لاپتہ

اپنے خطاب کے اختتام پر بھارت نے تمام مذاہب کے خلاف نفرت انگیز رویوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلاموفوبیا، کرسچین فوبیا اور یہود دشمنی کی طرح دیگر مذاہب کے خلاف تعصب کو بھی یکساں سنجیدگی سے تسلیم اور مسترد کیا جانا چاہیے۔ ہندوستان نے واضح کیا کہ صرف اسی صورت میں دہشت گردی کا مؤثر خاتمہ ممکن ہے جب دنیا "اچھے" اور "برے" دہشت گرد کی تفریق ختم کرے، دوہرے معیار ترک کرے اور خلوصِ نیت کے ساتھ عالمی تعاون کو فروغ دے۔