ETV Bharat / international

کن ممالک نے ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کرلی، کس نے کیا انکار، کون ہیں خاموش؟ یہاں جانیں

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں تقریباً 30 ممالک کے شامل ہونے کی توقع تھی، جب کہ تقریباً 50 کو مدعو کیا گیا تھا۔

غزہ کے نوجوان عارضی خیموں کے روبرو کھیلتے ہوئے
غزہ کے نوجوان عارضی خیموں کے روبرو کھیلتے ہوئے (AP)
author img

By AP (Associated Press)

Published : January 22, 2026 at 2:04 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

یروشلم: متعدد ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کو لے کر مثبت جواب دیا ہے۔ مسلم اور عرب ممالک کی ایک بڑی تعداد نے حامی بھر دی ہے۔ جب کہ چند یورپی ممالک نے ٹرمپ کی اس دعوت کو مسترد کر دیا ہے۔ تو دوسری جانب کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جنھوں نے ابھی تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

ٹرمپ کی سربراہی میں، بورڈ آف پیس کو اصل میں غزہ جنگ بندی کے منصوبے کی نگرانی کرنے والے عالمی رہنماؤں کے ایک چھوٹے گروپ کے طور پر تصور کیا گیا تھا۔ لیکن اس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے عزائم میں توسیع ہوئی ہے، ٹرمپ نے درجنوں ممالک کو دعوتیں دی ہیں اور بورڈ کے مستقبل میں تنازعات کے ثالث کے کردار کی طرف اشارہ کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے تفصیلات فراہم کیے بغیر کہا ہے کہ بورڈ میں تقریباً 30 ممالک کے شامل ہونے کی توقع تھی، جب کہ تقریباً 50 کو مدعو کیا گیا تھا۔

یہاں جانیں کون سے ممالک بورڈ آف پیس میں شامل ہو رہے ہیں، کون سے شامل نہیں ہونا چاہتے اور کون ہیں جو ابھی تک فیصلہ نہیں کر پائے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (AP)

وہ ممالک جنہوں نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی

1- ارجنٹائن

2- آرمینیا

3- آذربائیجان

4- بحرین

5- بیلاروس

6- مصر

7- ہنگری

8- انڈونیشیا

9- اردن

10- قازقستان

11- کوسوو

12- مراکش

13- پاکستان

14- قطر

15- سعودی عرب

16- ترکی

17- متحدہ عرب امارات

18- ازبکستان

19- ویتنام

وہ ممالک جو بورڈ میں شامل نہیں ہوں گے، کم از کم ابھی کے لیے

1- فرانس

2- ناروے

3- سلووینیا

4- سویڈن

وہ ممالک جنہیں مدعو کیا گیا ہے لیکن وہ فی الحال خاموش ہیں

1- برطانیہ

2- چین

3- کروشیا

4- جرمنی

5- اٹلی

6- یورپی یونین کا ایگزیکٹو بازو

7- پیراگوئے

8- روس

9- سنگاپور

10- یوکرین

11- بھارت

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس (AP)

کیا اقوام متحدہ کا متبادل ہے پیس آف بورڈ؟

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی "بورڈ آف پیس" کے لیے غزہ سے آگے عالمی تنازعات میں کردار ادا کرنے کی خواہش، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیچھے چھوڑنے کی تازہ ترین امریکی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ ٹرمپ کی اس پیشرفت نے 80 سالہ پرانے عالمی ادارے کی مطابقت کے بارے میں نئے سوالات کھڑے کیے ہیں۔ دنیا بھر میں امن کی ثالثی میں ایک بنیادی قوت کے طور پر پیش رہنے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ٹرمپ بورڈ قائم کر رہے ہیں، جو زیادہ تر مدعو سربراہان مملکت پر مشتمل ہو گا۔ حالانکہ اقوام متحدہ نے بھی عالمی ادارے کو اکیسویں صدی میں ایک زیادہ قابل عمل عالمی کھلاڑی بنانے کے لیے بڑی اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔

گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بین الاقوامی تنظیموں اور بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی مد میں اربوں ڈالر کی فنڈنگ ​​کو ختم کرنے کے بعد دہائیوں پر محیط اصلاحاتی کوششوں کو نئی تحریک ملی۔

ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں نے اقوام متحدہ کو اس کی مکمل صلاحیت تک نہ پہنچنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہیں، امریکہ نے گزشتہ سال اقوام متحدہ کو اپنے لازمی واجبات ادا کرنے سے انکار کر دیا۔

سلامتی کونسل - فوجی کارروائی کی اجازت دینے کے لیے اقوام متحدہ کا سب سے طاقتور ادارہ ہے- حالیہ برسوں میں غزہ اور یوکرین سمیت جنگوں کو ختم کرنے میں ادارہ ناکام رہا ہے۔ یہ ایک نقطہ ہے جس پر ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت کے آغاز سے ہی نشانہ بنایا ہے اور انھوں نے اس ہفتے کئی بار سلامتی کونسل کو نشانہ بنایا۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ کے دوران نامہ نگاروں کو بتایا کہ "اقوام متحدہ ابھی زیادہ مددگار نہیں رہا۔ میں اقوام متحدہ کی صلاحیت کا بہت بڑا پرستار ہوں، لیکن یہ کبھی بھی اپنی صلاحیت کے مطابق نہیں رہا۔" "اقوام متحدہ کو ان جنگوں میں سے ہر ایک کو طے کرنا چاہئے تھا جو میں نے طے کی تھیں۔ میں کبھی ان کے پاس نہیں گیا تھا ، میں نے کبھی ان کے پاس جانے کا سوچا بھی نہیں تھا۔"

حالانکہ ٹرمپ نے اپنی شکایات کے باوجود اقوام متحدہ کو جاری رکھنے کی بات کہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: