ETV Bharat / international

لاہور میں نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، 20 زخمی

پولیس نے مزید جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ 20 زخمی بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

لاہور میں نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق
لاہور میں نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق (Photo: PTI)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : July 1, 2026 at 9:58 AM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

لاہور: پاکستان کے شہر لاہور میں منگل کو ایک زیر تعمیر عمارت میں کام کرنے والے نجی ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے کم از کم 14 بچے ہلاک اور 20 دیگر زخمی ہو گئے۔ پولیس نے اس حادثے کی جانکاری دی۔

پولیس نے بتایا کہ حادثے کے وقت 30 سے ​​زائد بچے، جن کی عمریں سات سے 13 سال کے درمیان ہیں، گنجان آباد کاہنا ناؤ کے علاقے میں واقع اکیڈمی کی کلاسز میں موجود تھے۔ اسی دوران اچانک چھت گر گئی، جس سے وہ ملبے تلے دب گئے۔ لاہور پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (آپریشنز) فیصل کامران نے صحافیوں کو بتایا کہ 'اب تک ملبے سے 14 بچوں کی لاشیں نکالی گئی ہیں'۔

پولیس نے بتایا کہ 20 زخمی بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں ملبے میں پھنسے دیگر افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کامران نے کہا کہ "عمارت کا ایک حصہ زیر تعمیر تھا، اور جب چھت گری، اس وقت مزدور وہاں کام کر رہے تھے۔ ہم نے ٹھیکیدار کو گرفتار کر لیا ہے۔" لاہور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر طارق محمود نے بتایا کہ یہ نجی ٹیوشن سنٹر علاقے کی ایک خاتون چلا رہی تھی۔

ایدھی فاؤنڈیشن نے بتایا کہ کاہنہ نو کے علاقے بستی عیدگاہ میں واقع اکیڈمی کی چھت اچانک گر گئی۔ این جی او نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہلاک ہونے والوں کی لاشیں جنرل اسپتال کے مردہ خانے میں منتقل کر دی گئی ہیں‘‘۔ فاؤنڈیشن نے خدشہ ظاہر کیا کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ کچھ بچے اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

تنظیم نے بتایا کہ زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ تنظیم نے مزید کہا کہ امدادی کارروائیاں تیز رفتاری سے جاری ہیں، اور ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینسیں ہنگامی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے جائے وقوع پر تعینات ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پولیس اور ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی کہ حادثے کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کی جائے۔

صوبائی محکمہ صحت کے حکام نے لاہور جنرل ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے سینئر انتظامی حکام، ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو زخمیوں کا فوری علاج یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

مزید پڑھیں:وینزویلا میں شدید زلزلوں سے بھاری تباہی، ایمرجنسی نافذ

پاکستان: کراچی رینجرز بیس پر دہشت گردانہ حملہ، چار فوجی اور چھ دہشت گرد ہلاک، ایک پکڑا گیا