نوجوانوں میں اچانک اموات پر ایمس–آئی سی ایم آر کی تازہ تحقیق
تمام عمر کے گروپوں میں، مردوں کی تعداد اچانک ہارٹ اٹیک سے مرنے والی خواتین سے زیادہ ہے، جسمیں کوویڈ سے کوئی تعلق نہیں ملا۔

Published : January 2, 2026 at 6:58 PM IST
نئی دہلی: نوجوانوں میں اچانک موت (Sudden Death) ایک سنگین عوامی صحت مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، نئی دہلی اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کی جانب سے کی گئی ایک تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اچانک موت کے 58 فیصد واقعات 18 سے 45 سال کی عمر کے افراد میں پیش آئے، جن میں مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
یہ تحقیق انڈین جرنل آف میڈیکل ریسرچ میں شائع ہوئی ہے، جس میں 2,200 سے زائد پوسٹ مارٹم کیسز میں سے 180 اچانک اموات کا تجزیہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر اموات کی وجہ دل کی پوشیدہ بیماریاں تھیں، جن میں پیدائشی قلبی نقائص، دل کے عضلاتی امراض (Cardiomyopathies) اور برقی نظام کی خرابی شامل ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ اچانک موت سے مراد وہ موت ہے جو علامات ظاہر ہونے کے ایک گھنٹے کے اندر یا بغیر مشاہدہ کے 24 گھنٹوں کے اندر واقع ہو جائے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ کئی کیسز میں متاثرہ افراد بظاہر صحت مند دکھائی دیتے تھے اور کسی بیماری کی تشخیص پہلے نہیں ہوئی تھی۔ مطالعہ مئی 2023 سے اپریل 2024 کے دوران ایمس دہلی کے محکمہ پیتھالوجی اور فارنسک میڈیسن میں کیا گیا۔ حادثات، خودکشی، زہر خورانی، منشیات کے استعمال اور شدید طبی بیماری والے کیسز کو تحقیق سے خارج رکھا گیا۔
تحقیق کے مطابق نوجوانوں میں اچانک موت کی اوسط عمر 33.6 سال رہی جبکہ بڑی عمر کے افراد (46 تا 65 سال) میں یہ 53.8 سال تھی۔ نوجوانوں میں دل کی برقی اور عضلاتی بیماریاں جبکہ بڑی عمر میں کورونری آرٹری ڈیزیز سب سے بڑی وجہ بنی۔ ماہرِ قلب اور میڈانتا اسپتال کے چیئرمین ڈاکٹر نریش ترہان کے مطابق نوجوانوں میں اچانک موت کی بنیادی وجہ دل کی پوشیدہ بیماریاں ہیں، جیسے ہائپرٹرافک کارڈیو مایوپیتھی، برگوڈا سنڈروم، ہارٹ بلاک اور خاندانی دل کے امراض۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ جانتے ہیں ہارٹ اٹیک سے آدھا گھنٹہ پہلے جسم میں کیا ہوتا ہے؟ اگر نہیں، تو آپ کو جاننے کی ضرورت ہے
انہوں نے زور دیا کہ 25 سال کی عمر سے پہلے دل کا مکمل معائنہ اور 30 سال تک ایک جامع ہیلتھ چیک اپ نہایت ضروری ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ بروقت تشخیص، طرزِ زندگی میں بہتری اور باقاعدہ اسکریننگ سے اچانک اموات کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔

