سانس سے بدبو آنا، دانتوں کی بیماری یا جسمانی مرض کا عندیہ؟
دانتوں یا مسوڑھوں میں تکلیف، احتیاط و تدابیر سے متعلق ماہر ڈاکٹر کی ای ٹی وی بھارت کے ساتھ خصوصی گفتگو۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : January 7, 2026 at 7:19 PM IST
سرینگر (پرویز الدین): وادی کشمیر میں دانتوں کے مختلف عارضوں میں مبتلا بیماروں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مجموعی طور پر یہاں کے مریض دانتوں کے سڑنے، مسوڑھوں میں درد، منہ میں سفید داغ اور جبڑوں میں درد کی بیماری جیسی بیماریوں کے شکار ہیں۔ ان میں سے 40 سے 60 سال کی عمر کے 19 فیصد دانتوں کی سڑن، 45 فیصد مسوڑھوں کے درد اور 35 فیصد جبڑوں کی ہڈیوں میں درد میں مبتلا ہے۔
دانتوں کی مختلف بیماریوں کے تعلق سے ای ٹی وی بھارت کے نمائندے پرویز الدین نے دانتوں کے ماہر ڈاکٹر اور گورنمنٹ ڈینٹل کالج، سرینگر، کے میڈیکل سپر انٹنڈنت ڈاکٹر شبیر احمد شاہ کے ساتھ خصوصی بات چیت کی جس دوران انہوں نے منہ اور دانتوں کی صفائی، بڑھتی تکالیف پر گفتگو کے علاوہ درد دنداں میں مبتلا مریضوں کو کئی نادر مشوروں سے نوازا۔
انہوں نے ای ٹی وی بھارت کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ دانتوں کی خرابی، جسے ڈینٹل کیریز یا کیوٹیز بھی کہا جاتا ہے، منہ میں بیکٹیریا کے ذریعے پیدا ہونے والے تیزاب کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ ایک عام حالت ہے جس کا مناسب طریقے سے انتظام نہ کرنے پر تکلیف، انفیکشن اور یہاں تک کہ دانتوں کے گرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا: ’’دانتوں کا سڑنا، دانتوں میں بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والے سراخوں کو کہتے ہیں۔ منہ میں موجود بیکٹیریا سے نکلنے والے تیزاب سے دانت کے مضبوط حصہ میں شوگر، کولڈرنک اور دیگر مشروبات کی وجہ سے کیڑا لگ جاتا ہے جو دانتوں میں درد، سوزش، حساسیت اور بعد میں سراخ پیدا کرتا ہے اس کے علاوہ وادی میں مسوڑوں میں سوزش، حساسیات اور منہ میں سفید داغ اور جبڑوں کی ہڈیوں میں درد کی شکایت بھی کافی لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ دانتوں کی مناسب دیکھ بھال کے ساتھ اس حالت کو روکا جا سکتا ہے، لیکن جب علاج نہ کیا جائے تو یہ سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔‘‘
وجوہات اور خطرے کے عوامل پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر شبیر احمد شاہ نے کہا کہ بیکٹیریا کے علاوہ، ماحولیاتی عوامل جیسے کہ منہ کے ناقص حفظان صحت، صاف پانی تک ناکافی رسائی، اور دانتوں کی باقاعدگی سے چیک اپ کی کمی دانتوں کی خرابی کے بڑھتے واقعات کے اسباب میں سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طرز زندگی اور غذائی عوامل دانتوں کی خرابی کے بڑھتے کیسز میں خوراک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بار بار ناشتہ کرنا، منہ کی ناقص صفائی، اور ناکافی ہائیڈریشن جیسی عادات بھی دانتوں کی خرابی کا باعث بن سکتی ہیں۔
ای ٹی وی بھارت کے ساتھ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ ڈینٹل کالج، سرینگر، میں روزانہ 500 سے 800 مریض دانتوں کے علاج کے لیے آتے ہیں جن میں دانتوں کے علاوہ منہ کی مختلف بیماریوں میں مبتلا مریض بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق: ’’دانتوں کی بیماریوں میں دانتوں کا سڑنا اور جبڑوں کی ہڈیوں کا درد شامل ہے جبکہ منہ کی بیماریوں میں مسوڑھوں کی سوزش، حساسیت اور منہ میں سفید داغ آنے بھی شامل ہیں۔‘‘
مسوڑھوں میں تکلیف
ڈاکٹر شبیر نے مسوڑھوں کی بیماری، یا پیریڈونٹائٹس سے متعلق کہا کہ ’’یہ مسوڑھوں کا ایک سنگین انفیکشن جو دانتوں کے ارد گرد کے نرم بافتوں کو متاثر کرتا ہے۔ علاج نہ ہو تو پیریڈونٹائٹس اس ہڈی کو تباہ کر سکتا ہے جو آپ کے دانتوں کو سہارا دیتی ہے۔ دانت ڈھیلے ہو جاتے ہیں، یا گر سکتے ہیں۔ ممکنہ علامات میں مسوڑھوں سے خون بہنا، لالی یا درد یا سانس کی مسلسل بُو شامل ہے۔ لیکن منہ کو نقصان پہنچانے کے علاوہ یہ کافی ثبوت ہے کہ مسوڑھوں کی یہ بیماری ٹائپ 2 ذیابیطس سے جڑی ہے۔‘‘
سانس سے بدبو
سانس سے بدبو آنے کی وجوہات گنواتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’اکثر نوجوان مسوڑھوں کی کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ سانس سے آنے والی بو کا 90 فیصد ذمہ دار ہمارا منہ ہے جبکہ 10 فیصد وجوہات کچھ اور ہوتے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر شبیر احمد شاہ کہتے ہیں کہ ’’اگر کوئی شخص معدے کے مسائل کا شکار ہے، یا اسے تیزابیت کا مسئلہ ہے تو اس صورت میں سانس سے بدبو آ سکتی ہے۔ لیکن اکثر بیماریاں آپ کے منھ کی بدبو سے ظاہر ہوتی ہیں۔‘‘ ڈاکٹر شبیر کے مطابق ’’اگر آپ کے معدے کو مسائل ہوں یا آپ کو گیسٹرک ریفلکس کا مسئلہ ہو، تو سانس سے کھٹی قسم کی بدبو آ سکتی ہے۔‘‘
ڈاکٹر شبیر کا مشورہ ہے کہ ضروری ہے کہ وقت نکال کر مناسب طریقے سے دانت برش کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’مناسب نہیں کہ آپ دیگر کام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے دانت صاف کریں، بلکہ بہتر یہی ہے کہ آپ آئینے کے سامنے پوری توجہ کے ساتھ اپنے دانت برش کریں۔ ہر دانت کی تین سطحیں ہوتی ہیں: بیرونی، چبانے والی اور اندرونی۔ ان سب کو احتیاط سے صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بہت سے لوگوں کے لیے حیرت کی بات ہو سکتی ہے لیکن اپنے دانتوں کو برش کرنے کا کم از کم وقت دو منٹ ہے۔‘‘
ٹوتھ برش پکڑنے کا صحیح طریقہ
انہوں نے کہا کہ ’’بہت سے لوگ اپنے ٹوتھ برش کو دانت کے 90 ڈگری زاویے سے پکڑ کر برش کرتے ہیں اور آگے پیچھے زور سے ہلاتے ہیں، لیکن یہ طریقہ مسوڑھوں میں خرابی کی وجہ بن سکتا ہے۔ ٹوتھ برش کو دانت کے تقریباً 45 ڈگری کے زاویے سے پکڑیں اور آہستہ آہستہ برش کریں۔ برش کے بالوں کو نچلے دانتوں پر مسوڑھوں کی لکیر کی طرف اور اوپری دانتوں پر مسوڑھوں کی لائن کی طرف اوپر کی جانب موڑ کر برش کریں۔ اس سے بیکٹیریا کو ہٹانے میں مدد ملے گی جو مسوڑھوں کے نیچے چھپ سکتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھیں:
کس وٹامن کی کمی سے دانت پیلے ہوتے ہیں؟ یہاں اس کمی کو دور کرنے کا طریقہ سیکھیں

