ETV Bharat / health

پھیپھڑوں کا کینسر صرف سگریٹ نوشی کرنے والوں تک محدود نہیں، خواتین اور غیر سگریٹ نوش افراد بھی خطرے میں

دوسروں کے سگریٹ کے دھوئیں کا سامنا، فضائی آلودگی، اور جینیاتی تبدیلیاں کی وجہ سے بھی پھیپھڑے کا کینسر ہو سکتا ہے۔

پھیپھڑوں کا کینسر صرف سگریٹ نوشی کرنے والوں تک محدود نہیں، خواتین اور غیر سگریٹ نوش افراد بھی خطرے میں
پھیپھڑوں کا کینسر صرف سگریٹ نوشی کرنے والوں تک محدود نہیں، خواتین اور غیر سگریٹ نوش افراد بھی خطرے میں ((GETTY IMAGES))
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : August 31, 2026 at 1:47 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

پھیپھڑوں کا کینسر صرف سگریٹ نوشی کرنے والے افراد تک محدود نہیں ہے بلکہ سگریٹ نوشی نہ کرنے والے افراد، خاص طور پر خواتین، بھی اس بیماری کی زد میں آ رہی ہیں۔ اس عام غلط فہمی کو دور کرنا ضروری ہے کہ پھیپھڑوں کا کینسر صرف سگریٹ نوش افراد کو ہی ہوتا ہے۔

سی کے برلا ہاسپٹلز، جے پور کے پلمونری، کریٹیکل کیئر اور سلیپ میڈیسن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اور انٹروینشنل پلمونولوجسٹ ڈاکٹر راکیش گودارا کے مطابق اگرچہ سگریٹ نوشی پھیپھڑوں کے کینسر کی سب سے بڑی اور قابل روک تھام وجہ ہے، لیکن سگریٹ نوشی نہ کرنا اس بیماری سے محفوظ رہنے کی ضمانت نہیں ہے۔ اس کے دیگر اہم عوامل میں ریڈون گیس سے متاثر ہونا، دوسروں کے سگریٹ کے دھوئیں کا سامنا، فضائی آلودگی، ایسبیسٹوس اور جینیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔

ان وجوہات سے بڑھ سکتا ہے پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ

دوسروں کے سگریٹ کے دھوئیں کے مسلسل رابطے، مناسب ہوا کی نکاسی نہ رکھنے والے کچن میں بایوماس ایندھن کے استعمال، بیرونی فضائی آلودگی، ڈیزل کے دھوئیں، کیڑے مار ادویات، تعمیراتی کام کے دوران پیدا ہونے والی گردوغبار، ایسبیسٹوس اور کام کی جگہ پر موجود دیگر سرطان پیدا کرنے والے مادوں کی وجہ سے پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ خاندان میں کینسر کی تاریخ اور پھیپھڑوں کی دائمی بیماریاں، جیسے دائمی پلمونری ٹی بی یا لنگ فائبروسس بھی اس بیماری کے خطرے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

علامات کو نظر انداز نہ کریں

ڈاکٹر راکیش گودارا کا کہنا ہے کہ بھارت میں پھیپھڑوں کے کینسر کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ GLOBOCAN کے اندازے کے مطابق 2022 میں ملک میں پھیپھڑوں کے کینسر کے تقریباً 81,700 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ تقریباً 75,000 اموات ہوئیں۔

ایڈینوکارسینوما پھیپھڑوں کے کینسر کی سب سے عام قسم کے طور پر سامنے آیا ہے، خاص طور پر سگریٹ نوشی نہ کرنے والے افراد اور خواتین میں۔

بدقسمتی سے بہت سے مریض بیماری کی سنگین یا ایڈوانس اسٹیج میں ڈاکٹر سے رجوع ہوتے ہیں، کیونکہ مسلسل کھانسی، سینے میں بے چینی یا وزن کم ہونے جیسی علامات کو اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ان علامات کو بار بار ہونے والا انفیکشن یا ٹی بی سمجھ کر علاج کیا جاتا ہے۔

اب بیماری کی تشخیص پہلے سے زیادہ آسان

ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص اب زیادہ درست اور کم تکلیف دہ طریقے سے کی جاسکتی ہے۔ اینڈوبرونکیل الٹراساؤنڈ (EBUS) کی مدد سے سانس کی نالی کے ذریعے سینے کے اندر موجود لمف نوڈز کا نمونہ لیا جاسکتا ہے۔ اس طریقے سے اکثر اوپن سرجری کے بغیر ایک ہی بیماری کی تشخیص اور اس کی اسٹیجنگ میں مدد ملتی ہے۔

ریڈیل اور گائیڈڈ بایوپسی جیسی جدید برونکوسکوپک تکنیکوں کی مدد سے اب پھیپھڑوں میں موجود ان چھوٹے بیرونی نوڈیولز تک بھی رسائی ممکن ہوگئی ہے، جہاں عام برونکوسکوپی کے ذریعے پہنچنا پہلے مشکل ہوتا تھا۔

درست ٹشو سیمپل لینا ضروری

ماہرین کے مطابق درست ٹشو سیمپل حاصل کرنا انتہائی اہم ہے، کیونکہ آج صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ مریض کو ’لنگ کینسر‘ ہے۔ امیونوہسٹو کیمسٹری کے ذریعے یہ معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے کہ کینسر ایڈینوکارسینوما، اسکویمس سیل کارسینوما یا کسی اور قسم کا ہے۔

اس کے علاوہ ای جی ایف آر ، اے ایل کے اور آر او ایس جیسے جینیاتی میوٹیشنز کے لیے مالیکیولر ٹیسٹنگ اور پی ڈی ایل ون ٹیسٹنگ کی مدد سے ایسے مریضوں کی شناخت کی جاسکتی ہے جنہیں ٹارگٹڈ تھراپی یا امیونو تھراپی سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:نئے چاول یا پرانے چاول: ذائقہ، خوشبو اور روزانہ استعمال کے لحاظ سے کون سا بہتر ہے؟

مسلسل سانس کی تکلیف کو نظر انداز نہ کریں

عام لوگوں کے لیے ماہرین کا پیغام واضح ہے کہ اگر مسلسل سانس لینے میں دشواری، کھانسی یا دیگر غیر معمولی علامات کا سامنا ہو تو انہیں نظر انداز نہ کریں، چاہے آپ سگریٹ نوشی نہ کرتے ہوں۔ بیماری کی ابتدائی تشخیص اور ٹشو کی درست جانچ علاج کے طریقہ کار اور اس کے نتائج میں اہم تبدیلی لاسکتی ہے۔