کشمیر میں قوت افزائش کی شرح میں تیزی سے کمی، دیر سے شادی اور معاشی دباؤ اہم سبب
ماہرین کے مطابق سماجی، معاشی اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں اس رجحان کی بنیادی وجوہات ہیں۔

Published : May 20, 2026 at 4:50 PM IST
سرینگر (پرویز الدین): جموں وکشمیر میں خواتین میں قوت افزائش میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر بچوں کی پیدائش کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق سماجی، معاشی اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں اس رجحان کی بنیادی وجوہات ہیں، جس کے باعث آئندہ برسوں میں آبادیاتی ڈھانچہ مزید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر میں مجموعی فرٹیلٹی کی شرح کم ہو کر تقریباً 1.4 بچوں فی خاتون تک پہنچ گئی ہے جو کہ متبادل 2.1 فیصد سے کہیں کم ہے۔ شہری علاقوں میں یہ شرح مزید کم ہو کر تقریباً 1.2 فیصد تک جا پہنچی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح تقریباً 1.5 ریکارڈ کی گئی ہے۔
حالیہ خواتین کی ماہر ڈاکٹروں کی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کی شعبہ امراض نسواں کی سابق سربراہ ڈاکٹر فرحت جبین سمیت دیگر ماہرین نے شرکت کی۔اس موقعے اس سنگین معاملے کے حوالے اپنا ردعمل ظاہر کرتے کہا کشمیر میں خواتین قوت افزائش کی کم ہونے کا کوئی کوئی ایک وجہ نہیں ہے بلکہ کئی سماجی اور معاشی عوامل بھی اس میں کارفرما ہیں۔ ماہرین کے مطابق تعلیم، روزگار اور مالی خودمختاری کے حصول کے باعث خواتین دیر سے شادی کو ترجیح دے رہی ہیں۔جبکہ معاشی غیر یقینی صورتحال اور مہنگی شادیوں کے اخراجات بھی خاندان شروع کرنے میں تاخیر کا باعث بن رہے ہیں۔
حال یہ ایک رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اگچہ گزشتہ برسوں کے دوران ملک کی اکثر ریاستوں میں قوت افزائشن یعنی فرٹیلیٹی میں کمی ہوئی ہے، تاہم ملک کی باقی ریاستوں اور یونین ٹریٹریز میں قوت افزائش میں کمی کے زمرے میں جموں وکشمیر کا نام پہلے نمبر پر ہے۔ جموں کشمیر میں فرٹیلٹی ریٹ میں کمی ہونے کے اسباب پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر صباحت نے کہا کہ اس کے پیچھے کئی سارے وجوہات کار فرما ہیں،جس میں سب سے اہم وجہ تاخیر سے شادی ہونا ہے۔گزشتہ برسوں کے دوران یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ مختلف وجوہات کی بنا پر اکثر لڑکیوں کی شادی کافی دیر سے ہوتی ہیں۔جن میں اکثر سے ایسی خواتین بھی ہیں جو شادی کی عمر کی دہلیز پار بھی کر چکی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ بچہ پیدا کرنے صلاحیت بھی کھو چکی ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حمل کی سب سے صحیح عمر20 سے 30 سال کے درمیان کی ہے۔اس کے بعد خواتین کی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔ساتھ ہی کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کا فرٹیلیٹی ریٹ دو سے کم آئی ہے۔جس کا معنی یہ ہے کہ مجموعی طور یہاں والدین کے پاس دو سے زیادہ بچے نہیں ہیں۔ ایسے میں اکثر کے پاس ایک یا زیادہ سے زیادہ دو بچے ہیں اور رجحان ایک بچے کی جانب زیادہ ہے۔ تاہم ڈاکٹر صباحت کہتی ہیں کہ نہ صرف خواتین کی دیر سے شادی قوت افزائش کی کمی کا باعث ہے بلکہ کچھ حد تک مردوں کی بھی تاخیر سے شادی اس کی ذمہ وار ہے، البتہ خواتین کے مقابلے میں مرد 70 برس کی عمر تک بھی بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
فرٹیلٹی اور آئی ای ایف کی ماہر ڈاکٹر بھاؤنا بنگہ نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران یہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ایسے میں جموں وکشمیر خاص کر وادیٔ کشمیر میں سخت ترین ٹھنڈ کے باعث زیادہ کانگڑی کے استعمال کی وجہ سے مردوں میں اسپرم کی تعداد میں کمی آجاتی ہے جس سے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے۔ وہیں آلودگی، سگریٹ نوشی اور غیر صحت مند خوراک بھی مردوں میں اسپرم کی تعداد میں کمی کے اسباب ہیں۔ ڈاکٹر بھاؤنا کہتی ہے کہ قدرت کا ایک نظام ہے اور جب انسان قانون قدرت سے کسی صورت چھیڑ چھاڑ یا تغیر تبدل کرتا تھا تو انسان کو مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔
وادی کشمیر میں اپنے تجربے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت سے ایسے جوڑے بھی ہیں جو کہ آئی ای ایف جیسی جدید ٹیکنالوجی سے ناواقف ہیں۔ ذہنی تناؤ کو قوت افزائش میں کمی کی اہم وجہ گردانتے ہوئے ڈاکٹر بھاؤنا بنگہ کا کہتی ہیں کہ جموں وکشمیر خاص کر وادیٔ کشمیر میں گزشتہ تین دہائیوں کی شورش کے دوران انزائٹی اور دیگر ذہنی تکالیف میں اضافہ ہو چکا ہے، جس کے چلتے ذہنی تناؤ میں مبتلا متعدد جوڑے ایسے ہیں جو کہ رشتۂ ازدواج کے دوران بھی بچے پیدا نہیں کرپاتے ہیں۔ڈاکٹر بھاونہ نے کہا کہ قوتِ افزائش میں کمی ہونا کسی بھی صورت میں ٹھیک نہیں ہے۔ ایسے فرٹیلٹی ریٹ میں کمی ہونے کی وجوہات کو دور کرنے کے لیے لوگوں کو جانکاری فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ وہیں ایک یا دو بچے رکھنے اور چھوٹی فیملی کی سوچ کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ قوتِ افزائش کی کمی کو دور کیا جاسکے۔
خواتین کی ماہر ڈاکٹر سید معصومہ رضوی کہتی ہے کہ قدرت کا ایک یہ نظام ہے اور جب انسان قانون قدرت سے کسی صورت میں چھیڑ چھاڑ یا تغیر تبدل کرنا چاہتا ہے ، تو انسان کو مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں گزشتہ 30 برسوں میں لوگوں کے رہن سہن اور کھانے پینے کے عادات میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔جدید دور کی آرام و آسائش کی چیزیں میسر ہونے سے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی جسمانی مشقت سے کوسوں دور رہتی ہیں جبکہ ڈبہ بند فوڈ یعنی جنک فوڈ کے رجحان نے بھی ایسی بیماریوں کو جنم دے رہے ہیں جو کہ آگے جاکے ایسے تکالیف کا باعث بنتے ہیں جبکہ ہارمونز میں تبدیلیاں رونما ہونے سے بھی عورت میں پھر بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔
ذہنی تناؤ کو قوت افزائش میں کمی کی اہم وجہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر سعد معصومہ رضوی کا کہنا ہے جموں وکشمیر خاص کر وادی کشمیر میں گزشتہ تین دہائیوں کی شورش کے دوران انزائٹی اور دیگر زہنی تکالیف میں اضافہ ہو چکا ہے،جس کے چلتے ذہنی دباؤ میں تناؤ میں مبتلا متعدد جوڑے ایسے ہیں جو کہ رشتہ ازدواج کے دوران بھی بچے پیدا نہیں کرپاتے ہیں۔ڈاکٹر سعد معصومہ کا کہنا ہے قوت افزائش میں کمی ہونے کی ی صورت میں سماج کے تانے بانے کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے باعث ملک و قوم پر نہ صرف منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں بلکہ اس سے قوم کی شناخت بھی ختم ہوسکتی ہے
رپورٹ کے مطابق بے روزگاری اور مالی دباؤ نے بھی نوجوان جوڑوں کو محدود خاندان رکھنے پر مجبور کیا ہےجس کے نتیجے میں اکثر خاندان ایک یا دو بچوں تک محدود ہو رہے ہیں۔ماہرین نے یہ بھی کہا کہ شہری طرزِ زندگی اور نیوکلیئر فیملی سسٹم نے روایتی خاندانی سپورٹ سسٹم کو کمزور کیا ہے۔ نتیجتاً بچوں کی پرورش مزید مہنگی اور مشکل ہو گئی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو آئندہ برسوں میں آبادی کی رفتار سست ہونے کے ساتھ ساتھ افرادی قوت میں کمی، عمر رسیدہ آبادی میں اضافہ اور معیشت پر دباؤ جیسے چیلنجز کق سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ خواتین کی تعلیم اور صحت میں بہتری ایک مثبت پیش رفت ہے۔تاہم تولیدی شرح میں تیز کمی ایک ایسا رجحان ہے جس پر فوری پالیسی سطح پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

