ڈینگی کے عالمی پھیلاؤ کے بیچ بھارت کی سنگل ڈوز ویکسین آخری مرحلے میں داخل، بڑے بریک تھرو کی امید
دنیا کی تقریباً نصف آبادی ڈینگی کے خطرے سے دوچار ہے، ہر سال 10 سے 40 کروڑ افراد اس وائرس سے متاثر ہوتے ہیں۔

Published : February 27, 2026 at 3:12 PM IST
نئی دہلی: دنیا بھر میں ڈینگی کے تیزی سے بڑھتے کیسز کے دوران بھارت کی ایک ویکسین آخری مرحلے کی آزمائش میں داخل ہو گئی ہے، جس سے اس مہلک بیماری کے خلاف دنیا کی اولین سنگل ڈوز ویکسینز میں شامل ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ ڈینگی، جو شدید فلو جیسی علامات اور جسم میں ناقابلِ برداشت درد کا باعث بنتا ہے، بڑھتے درجۂ حرارت، موسمیاتی تبدیلی اور گنجان آبادی والے شہروں کی وجہ سے عالمی سطح پر تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا کی تقریباً نصف آبادی اب ڈینگی کے خطرے سے دوچار ہے، جبکہ ہر سال 10 سے 40 کروڑ کے درمیان افراد اس وائرس سے متاثر ہوتے ہیں۔ بھارت میں 2021 سے اب تک دس لاکھ سے زائد کیسز اور کم از کم 1,500 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ بھارتی دوا ساز کمپنی پینسیا بائیوٹیک نے اپنی ویکسین ڈینجی آل “DengiAll” کے فیز تھری کلینیکل ٹرائلز شروع کر دیے ہیں۔ کمپنی تقریباً پندرہ برس سے اس ویکسین کی تیاری میں مصروف ہے۔
ملک بھر میں 10 ہزار سے زائد رضاکار اس تحقیق میں شامل ہیں، جس کی نگرانی انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کر رہا ہے۔ اگر نتائج حوصلہ افزا رہے تو ویکسین آئندہ سال تک عوام کے لیے دستیاب ہو سکتی ہے۔ پینسیا کے چیف سائنسی افسر سید خالد علی نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہاکہ “ہم کوشش کریں گے کہ یہ ویکسین جلد از جلد لوگوں تک پہنچائی جائے۔”
نئی دہلی کے انسٹی ٹیوٹ آف لیور اینڈ بلیاری سائنس میں کلینیکل وائرولوجی کی پروفیسر ڈاکٹر ایکتا گپتا کے مطابق بھارت میں ڈینگی اب “ہائیپر اینڈیمک” صورت اختیار کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ “موجودہ حالات میں اس ویکسین کی اشد ضرورت ہے تاکہ مہلک بیماری کو قابو میں رکھا جا سکے یا کم از کم بیماری کی شدت کو کم کیا جا سکے۔”
ہر سال مونسون کے موسم میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ بھارتی اسپتالوں پر شدید دباؤ ڈال دیتا ہے۔ شہری علاقوں کے وارڈ بھر جاتے ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں تاخیر سے تشخیص اور محدود طبی سہولیات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق درجۂ حرارت میں اضافہ اور بارش کے پیٹرن میں تبدیلی ڈینگی پھیلانے والے ایڈیز مچھر کی افزائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔ بچے خصوصاً ڈینگی ہیمرجک فیور جیسی شدید قسم کا زیادہ شکار ہوتے ہیں کیونکہ ان میں پلیٹ لیٹس کی کمی اور شاک کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
ڈینگی وائرس کی چاروں اقسام کے خلاف مؤثر ویکسین تیار کرنا ایک بڑا سائنسی چیلنج رہا ہے۔ ایک قسم کے خلاف مدافعت دوسری اقسام سے مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتی، بلکہ دوسری بار انفیکشن کی صورت میں بیماری زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔ زیادہ تر دستیاب ویکسینز کے لیے متعدد خوراکیں درکار ہوتی ہیں۔
اگر ڈینجی آل کو منظوری مل جاتی ہے تو یہ گزشتہ برس برازیل میں منظور ہونے والی سنگل ڈوز ویکسین کے بعد دنیا کی ابتدائی سنگل ڈوز ڈینگی ویکسینز میں شامل ہو جائے گی۔ بھارت میں اس وقت ڈینگی کے خلاف کوئی ویکسین عوامی استعمال کے لیے لائسنس یافتہ نہیں ہے۔
سید خالد علی کے مطابق “ہم دنیا کی دوسری سنگل ڈوز ویکسین ہوں گے، لیکن بھارت اور کئی کم و متوسط آمدنی والے ممالک میں ڈینگی ویکسین متعارف کرانے والے پہلے ہوں گے۔”
یہ ویکسین ایک ٹیٹراویلنٹ اسٹرین پر مبنی ہے جسے اصل میں امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے تیار کیا تھا۔ پینسیا بایوٹیک اس اسٹرین کو استعمال کرنے والی تین بھارتی کمپنیوں میں سب سے آگے ہے اور اس نے اپنی فارمولیشن تیار کرنے کے ساتھ پراسیس پیٹنٹ بھی حاصل کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ دو عوامل کم عمر کے لوگوں میں گردے کی بیماری کا خطرہ بڑھا رہے ہیں؟ ابتدائی علامات اور ان سے بچاؤ کے آسان طریقے جانیں
کمپنی کی ریسرچ لیبارٹری میں حیاتیاتی تحقیق و ترقی کی سربراہ ڈاکٹر پریانکا پریادرسنی کے مطابق ویکسین کی تیاری میں ابتدائی تصدیقی مطالعات سے لے کر ریگولیٹری جانچ تک کئی مراحل شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہم خالصیت، حفاظت اور ممکنہ مضر اثرات کے حوالے سے انتہائی محتاط ہیں۔ صرف تمام ریگولیٹری معیارات پر پورا اترنے کے بعد ہی کسی ویکسین کو عوامی استعمال کے لیے محفوظ قرار دیا جا سکتا ہے۔”

